سیلانی ٹرسٹ…دکھی دلوں کا سہارا

ہمارے حکمران ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اگر ان سے یہ کہا جائے کہ حکومتوں
کی طرز حکمرانی بہتر نہیں ہے ۔ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر نظر دوڑانے یا تنقید کے مثبت پہلو تلاش کرنے کی بجائے ناک منہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ جس انداز میں حکومت چلا رہے ہیں ، اس کے نتیجے میں مخلوق مصائب کا شکار ہے۔ حکومتی عہدیدار کیوں نہیں اپنی اصلاح کے لئے ان غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں جو بیرون ملک سے کسی مالی تعاون کی بجائے اسی ملک کے عام و خاص لوگوں کے چندوں سے اپنی تنظیم چلاتے ہیں۔ میرے لئے تو حیرانی کی بات تھی جب ایک سرکاری عہدیدار ایک غیر سرکاری تنظیم سے یہ کہہ رہے ہوں کہ حیدرآباد میں ایک کولڈ سٹوریج مردہ خانے کی ضرورت ہے جہاں لاشوں کو ان کی شناخت ہونے تک رکھا جا سکے تا کہ لوگ لاوارث قرار دے کر دفنا نہیں دئے جائیں۔

یہ غیر سرکاری تنظیم یعنی این جی او سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ہے جس نے سالانہ سمپوزیم 2017ء حیدرآباد میں کیا۔ مہمان خصوصی حیدرآباد کے ایس ایس پی عرفان بلوچ تھے۔ سیلانی ، دکھی دلوں کا سہارا، کے سرپرست حضرت مولانا بشیر فاروقی قادری صاحب ، ٹرسٹ کے صدر ذکریا لاکھانی، ٹرسٹ کے چیئر مین افضل چامڑیا سمیت درجنوں ملازمین اور رضا کار موجود تھے۔ اس موقع کی مناسبت سے ان مخیر حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن کی مالی سرپرستی کے نتیجے میں سیلانی ٹرسٹ کام کرتا ہے۔ مولانا بشیر صاحب بتا رہے تھے کہ سیلانی کا نام حضرت خواجہ محکم الدین سیلانی رحمت اللہ علیہ کے اسم مبارک کی نسبت سے رکھا گیا ہے اور 1999ء میں ایک کمرے اور تین افراد کے ساتھ کام شروع کیا گیا تھا۔ سیلانی کراچی اور حیدرآباد میں وہ واحد ادارہ ہے جو سینکڑوں افراد کو سلیقہ کے ساتھ صاف ستھرے طریقے سے کھانا کھلاتا ہے۔ سیلانی والے کہتے ہیں کہ روزانہ 63 ہزار لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کھانے کی وجہ سے سفید پوش لوگ اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اس بلا معاوضہ کھانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کی رقم نہیں لگائی جاتی ہے۔

سیلانی کا کام قابل تعریف ضرور ہے لیکن سیلانی کے نگرانوں نے جس انداز میں کام پھیلا لیا ہے وہ کم از کم ہر اس شخص کے لئے باعث تشویش ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بڑے حجم کی چیز یا اونچی عمارت کو ہر وقت خطرہ ہی رہتا ہے۔ محدود وسائل کے حامل لوگوں کو کام پھیلانے کی بجائے محدود کام کرنا اور آمدنی بہتر کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں شاہکار کتابوں کے نام سے سید قاسم محمود صاحب نے سستی کتابیں شائع کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں تین روپے کی وہ کتاب دستیاب ہوتی تھی جو محدود وسائل والے لوگ خرید نہیں پاتے تھے۔ پھر انہوں نے اضافہ کرنا شروع کیا، نئے نئے کتابی سلسلے شروع کئے، نتیجہ یہ نکلا کہ کام تو پھیل گیا، اخراجات بڑھ گئے اور بڑے بڑے نام والے پبلشر بھی ان کے در پے ہو گئے۔

ان پبلشروں نے انہیں میدان سے بھگانے کے لئے خود بھی سستی کتابوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاسم محمود صاحب کو کام پھیلانے پر لگا دیا تا کہ کام سمٹ نہ سکے اور ان کا شاہ کار ادارہ سمٹ جائے۔ جب شاہ کار سمٹا تو بڑے پبلشروں نے بھی اپنی سستی کتابوں کو سمیٹ لیا۔ سمپوزیم کے انعقاد پر سیلانی والوں نے جس طرح پیسہ بہایا وہ قابل تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی بڑے کار پوریٹ ادارے کی کوئی تقریب ہے۔ چندے مانگ کر پیسے جمع کرنے والوں کو اپنے اخراجات پر نظر اور گرفت تو رکھنا چاہئے۔ ہمارے دین میں اسراف سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور سادگی اپنانے کا درس بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔

سیلانی نے اپنا کام خود بڑھا لیا ہے۔ آج ان کا نعرہ ہے کہ ’’مہد سے لہد تک ‘‘ یعنی پیدائش سے موت تک وہ مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔ خوراک، صحت، تعلیم، کھانے پینے کی اشیاء کے سٹور ، سماجی بہبود، روزگار، مختلف شعبوں میں تربیت وغیرہ۔ حال ہی میں سیلانی نے آنکھوں کے علاج کے لئے گشتی دواخانہ کی ابتدا بھی کی ہے۔ تنگ گلیوں میں آتش فرو کرنے کے انتظام کے لئے موٹر سائیکلوں کا دستہ تیار کیا ہے۔ روزگار کے سلسلے میں بے روزگار لوگوں کو آسان قسطوں پر رکشہ، خواتین کو سلائی مشینیں وغیرہ فراہم کی جاتی ہیں۔ کھانا کھلانے کے علاوہ ایسے گھرانوں کی کفالت کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جہاں ضعیف العمر افراد ہوں اور کوئی کفیل نہ ہو، ماہانہ کفالت میں راشن کی فراہمی، گھروں کا کرایہ، بچوں کی تعلیم کے اخراجات، ضروریات کے بلوں کی ادائیگی شامل ہیں۔ غریب بچیوں کی شادی میں جہیز یا مہمانوں کے لئے طعام اور دیگر اخراجات مہیا کر کے بچیوں کو باعزت طور پر رخصت کرنے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ غرض سیلانی ضرورت مند لوگوں کی ضروری حاجات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سیلانی کے بنائے ہوئے ٹھکانوں پر کھانا کھاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو کھانے فراہم کرنے کا بندبست کیا جاتا ہے۔ سٹریچر اور پینے کے لئے پانی کا انتظام بھی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر سیلانی رضاکار لوگوں کو پینے کا ٹھنڈا پانی پلاتے ہیں۔ سیلانی والے دعوی کرتے ہیں کہ وہ یہ خدمات بلامعاوضہ انجام دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں بلامعاوضہ کوئی چیز نہیں ہوا کرتی ہے۔ مفت کی سواری اور دور لے جانے کا مطالبہ تو زندگی بھر جاری رہے گا۔ سیلانی کھانا کھلاتا ہے، بہترین کام کرتا ہے لیکن اسے ایک وقت کے کھانے کا کچھ معاوضہ مقرر کرنا چاہئے خواہ وہ پانچ روپے ہی کیوں نہ ہو۔ کھانا کھانے والا کہہ سکے کہ اس نے پیسے دیکر کھانا کھایا ہے۔ اس کی اپنی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی۔ مفت میں روٹی توڑنے کی عادت ڈالنا ، لوگوں کے ساتھ بھلائی نہیں ہے۔ لوگوں کو کچھ کرنے کی عادت ڈالنا چاہئے۔

سیلانی کے ادارے میں 1800 ملازمین کے علاوہ 2500 رضاکار ہیں جو 125 سے زائد برانچوں میں 63 شعبہ جات میں مخلوق کی خدمت پر مامور ہیں۔ 63 شعبوں کی نسبت آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہے۔ اتنے سارے شعبوں کا انتظام چلانا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو حکومتیں نہیں کر پاتی ہیں۔ ایدھی اور چھیپہ مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سیلانی کیوں کر محفوظ رہ سکے گا ؟ یہ سوچنا سیلانی والوں کا کام ہے کہ اپنے کام کے شعبوں کو محدود کریں اور ان محدود شعبوں میں ہی مہارت دکھائیں۔ انہیں تعلیم، تربیت، ہنر مندی کے کاموں پر توجہ دینا چاہئے۔ پاکستان میں جہاں تمام سرکاری ادارے وسائل رکھنے کے باوجود عوام الناس کی خدمت کرنے میں ناکام ہیں اور حکومت ہسپتال، تعلیمی ادارے، حد تو یہ ہے کہ پارک اور کھیل کے میدان بھی ’’گود ‘‘ دینے میں سبکی یا شرمندگی محسوس نہیں کرتی ہیں وہاں غیر سرکاری تنظیموں کو حکومتوں کا ہاتھ اس طرح نہیں بٹانا چاہئے جیسا سیلانی، ایدھی، چھیپہ، فلاح انسانیت یا دیگر تنظیمیں کرتی ہیں۔ حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آئین پاکستان میں دی گئی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقوں سے انجام دیں، شاہانہ طرز حکمرانی سے نجات حاصل کی جائے۔ نااہل، غیر ذمہ دار اور غیر مخلص لیکن حکومتوں میں شامل لوگوں کے پسندیدہ اور خوشامدی لوگوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی سے باز رہا جائے تو کچھ بات بنے گی۔

وگر نہ حکومت کے لوگوں سے ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی ہے تو حکومت سے دست بردار ہوجائیں۔ عوام کے ٹیکسوں یا بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی

قرضوں پر حکومت کے لوگوں کو شاہانہ زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دی جائے۔ اس پر بھی نخرے ہیں کہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں، بیرون ملک علاج کرانے کا خرچہ دیا جاتا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کی جب تنخواہیں ، مراعات اور سہولتیں بڑھائی جاتی ہیں تو دل جلتا ہے۔ کیا اس تماش گاہ میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، بڑے سرکاری عمل داروں اور اہل کاروں کو اندازہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ کیا ہوتی ہے، گرمی کا درجہ حرارت کیا ہوتا ہے، مضر صحت پانی پینے کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑک پر گاڑی کس طرح چلتی ہے؟

کیا اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی ذمہ داری صرف یہ رہ گئی ہے کہ ذرائع ابلاغ سے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کے بعد یہ خبر شائع کرادی جائے کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا ہے۔ کیا ان کی ذمہ داری واقعات کا صرف نوٹس لینا ہی رہ گیا ہے ؟ ہسپتالوں میں کولڈ سٹوریج مردہ خانے بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہے، کسی غیرسرکاری تنظیم کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔ جب غیر سرکاری تنظیمیں کوئی کام کرنے کی ابتدا کرتی ہیں تو حکومت دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس کا کام تو ہو رہا ہے اور غیر سرکاری تنظیموں کے لوگ بھی اپنے آپ کو حکمران کی نقل سمجھنے لگتے ہیں۔ غیر ملکی چندوں پر پلنے والی تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں کو تو ایسا ہی پایا جاتا ہے۔

علی حسن

Advertisements

علاج پاکستانی ہپستالوں ہی میں کراؤں گا : عبدالستار ایدھی

پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی نے پیپلز پارٹی
کے رہنما آصف علی زرداری کی جانب سے بیرون ملک علاج کروانے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے ہسپتال میں عبدالستار ایدھی سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ انھیں علاج کے لیے ملک سے باہر لے کر جانا چاہیے۔ رحمان ملک نے کہا کہ وہ عبدالستار ایدھی کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے دبئی یا لندن لے کر جانا چاہتے ہیں۔ تاہم عبدالستار ایدھی نے جواب دیا کہ وہ پاکستان ہی میں رہنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں سے اپنا علاج کروائیں گے۔ یاد رہے کہ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی عمر 90 برس سے زیادہ ہے اور وہ بہت علیل ہیں۔

عبدالستار ایدھی سنہ 2013 سے گردے کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے والد کے گردے ناکارہ ہو گئے ہیں اور وہ ڈایالسِس پر ہیں۔ فیصل کا کہنا ہے کہ پہلے اُن کا ڈایالسِس ہفتے میں دو مرتبہ ہوتا تھا لیکن اب ہفتے میں تین بار انھیں ڈایالسِس کروانا پڑتا ہے۔ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کراچی میں ایس آئی یو ٹی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ یہ ہسپتال بھی ایک فلاحی تنظیم کے تحت چلایا جاتا ہے۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ اُن کی والد کی طبعیت پہلے سے بہتر ہوئی ہے لیکن اُن کی عمر کی وجہ سے گردے تبدیل نہیں ہو سکتے۔ عبدالستار ایدھی کا شمار پاکستان کے معروف ترین سماجی کارکن میں ہوتا ہے۔

کاروان علم فاؤنڈیشن – ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ رہی ہے

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی 1928ء میں بھارت کے شہر کرنال میں پیدا ہوئے، والدین سفید پوش تھے، پڑھائی کا شوق تھا، یہ نامساعد حالات کے باوجود میٹرک پاس کر گئے، قیام پاکستان سے قبل علی گڑھ یونیورسٹی پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد تعلیمی منزل ہوتی تھی، والد نے اپنی جمع پونجی دیکھی، یہ کل سو روپے نکلے، والد نے یہ سو روپے ان کے حوالے کر دیے، ڈاکٹر صاحب یہ کثیر سرمایہ لے کر علی گڑھ پہنچے، داخلہ مل گیا لیکن ان کے پاس ماہانہ فیس اور ہاسٹل کے اخراجات کے لیے رقم نہیں تھی، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ان کا شوق، علم اور مالی حالات دیکھے تو ان کی فیس اور ہاسٹل کا کرایہ دونوں معاف کر دیے لیکن کھانے کے اخراجات کا بندوبست ابھی باقی تھا۔
یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس مسئلے کے لیے ٹیوشن کا بندوبست کر دیا، یہ قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے، لاہور سے تاریخ میں ایم اے کیا اور سرکاری اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا، انھیں 1956ء میں جرمنی سے اسکالر شپ ملا، پی ایچ ڈی کی اور یہ واپس آ کر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانے لگے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے 1960ء میں لاہور سے ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کے نام سے ماہنامہ شروع کیا، یہ ماہنامہ آج بھی پاکستان کے کامیاب ترین رسائل میں شمار ہوتا ہے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے2002ء میں اخبار میں سعدیہ مغل کے بارے میں خبر پڑھی، سعدیہ مغل نے میٹرک کے امتحانات میں 850 میں سے 810 نمبر لے کر بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی لیکن یہ بچی غربت کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ میں داخلہ نہیں لے پا رہی تھی، یہ خبر پڑھ کر ڈاکٹر صاحب کو اپنا بچپن یاد آ گیا۔
انھوں نے سعدیہ مغل کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا، یہ فیصلہ آگے چل کر ’’کاروان علم فاؤنڈیشن،، کی بنیاد بنا، ڈاکٹر صاحب نے چند احباب کے ساتھ مل کر فاؤنڈیشن بنائی اور اس فاؤنڈیشن نے شروع میں پنجاب اور بعد ازاں پورے پاکستان کے ایسے باصلاحیت نوجوانوں کوتعلیم کے لیے وظائف دینا شروع کر دیے جو تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں سے اسی فیصد سے زائد نمبر حاصل کرتے ہیں لیکن یہ مزید تعلیم حاصل کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے، 
فاؤنڈیشن اب تک 5242 اسکالر شپ دے چکی ہے، یہ نوجوان فاؤنڈیشن کی مدد سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یہ ڈاکٹرز اور انجینئرز بھی بن رہے ہیں اور اکانومسٹ، نفسیات دان اور مینجمنٹ گریجویٹ بھی۔ آپ ان 5242 نوجوانوں میں سے کسی شخص کی کہانی سنیں، آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جائیں گے، میں گزشتہ کئی برسوں سے ’’کاروان علم فاؤنڈیشن‘‘ سے وابستہ ہوں، میں ہر سال احباب سے فاؤنڈیشن کے لیے امداد مانگتا ہوں، فاؤنڈیشن نے 2013ء میں 500 درخواستیں شارٹ لسٹ کیں لیکن فنڈز موجود نہیں تھے، میں نے امداد کے لیے کالم لکھا، بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے یہ کالم پڑھا اور انھوں نے یہ 500 نوجوان اپنے ذمے لے لیے، کل مجھے ڈاکٹر اعجاز قریشی صاحب کا خط موصول ہوا، میں یہ خط یہ سوچ کر احباب کی نذر کر رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں ملک ریاض جیسے سو امیر ترین لوگ موجود ہیں، یہ خط پڑھ کر شاید ان میں سے تین چار لوگ ’’موٹی ویٹ‘‘ ہو جائیں اور یہ ملک ریاض کی طرح ہزار بارہ سو طالب علموں کے اخراجات اٹھا لیں۔
’’محترم جاوید چوہدری صاحب آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی الحمد للہ کاروان علم فاؤنڈیشن اب تک 5242 طلباء اور طالبات کو سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ، کامرس، مینجمنٹ اور سوشل سائنسز کے مختلف شعبوں میں وظائف جاری کر چکی ہے، یہ نوجوان محض لوگ نہیں ہیں یہ 5242 گھرانے ہیں، اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ تمام گھرانے غربت کے  بھنور سے باہر آ گئے ہیں،ان نوجوانوں کو منزل سے ہمکنارکرنے اور ان کے خاندانوں کی قسمت بدلنے میں آپ کا کردار قابل ستائش ہے، آپ نے کاروان علم فاؤنڈیشن کے حوالے سے بڑے خلوص اور دردمندی سے کالم تحریر کیے جن کی وجہ سے ملک کے طول و عرض سے مخیر حضرات نے مستقبل کے نوجوانوں کے لیے دل کھول کر عطیات فراہم کیے،میں یہاں آپ کے ساتھ جناب ملک ریاض حسین کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے 5242 طلبہ میں وہ527 طلبہ بھی شامل ہیں جو جناب ملک ریاض حسین کے ادارے بحریہ ٹاؤن کے مالی تعاون سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرپائے،کاروان علم فاؤنڈیشن کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لیے پورا سال کھلے رہتے ہیں،طلبہ کی درخواستیں موصول ہوتی رہتی ہیں ، ہم پورا سال طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وسائل کی کوشش کرتے رہتے ہیں،جولائی2013ء میں کاروان علم فاؤنڈیشن کے زیر کفالت طلبہ کے علاوہ پانچ سو سے زائد طلبہ کی درخواستیں زیر غور تھیں، آپ نے ان 500 طلباء کے لیے کالم تحریر کیا،اسے پڑھ کر ملک ریاض حسین نے ہم سے رابطہ کیا اور 527 طلبہ کواسکالرشپ فراہم کرنے کی ذمے داری قبول کرلی،بحریہ ٹاؤن طلبہ کی تعلیمی فیس کے پے آرڈرز تعلیمی اداروں کے نام تیار کرکے ہمیں ارسال کردیتا تھا اور ہم یہ پے آرڈرز تعلیمی اداروں کو بھجوا کر رسیدیں بحریہ ٹاؤن کو ارسال کر تے رہے اور یوں الحمدللہ جون2016تک ان527 طلبہ میں سے475 طلبہ نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ، ان 475 طلبہ کو بحریہ ٹاؤن کی طرف سے 24,141,087/-روپے کی مالی اعانت فراہم کی گئی۔
ان475 طلبہ میں ایم بی بی ایس کے103،ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز کے18،بی ایس سی انجینئرنگ کے149،بی ایس آنرز کے52 اور ایم اے /ایم کام کے21 طلباء شامل ہیں، ہمارے پاس اس وقت زیرکفالت 409 طلبہ کے علاوہ 400 طلبہ کی درخواستیں زیر غور ہیں اگر ملک ریاض حسین یا ان جیسا کوئی اور مخیر شخص ان نوجوانوں کی ذمے داری قبول کرلے تو یہ نوجوان بھی علم حاصل کر لیں گے، قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ملک ریاض حسین جیسی خوشحال کاروباری شخصیات کو آگے بڑھناچاہیے اور کاروان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر ملک کے جوہر قابل کو تعمیر وطن کے قابل بنانے کا قومی فرض اداکرناچاہیے،آپ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کاروان علم فاؤنڈیشن کی مالی اعانت سے تعلیم مکمل کرنے والے ہر طالب علم کی کہانی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ میں آپ کو یہاں ایک عظیم ماں خالدہ پروین کی کہانی سنانا چاہتاہوں،خالدہ پروین کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیوں سے نوازا تو اس کا شوہر اسے طلاق دے کر کینیڈا چلاگیا،خالدہ پروین دونوں بیٹیوں کو والدین کے گھر لے آئی۔
والدین کے گھر ان ماں بیٹیوں کو دوسری منزل پر ایک کمرہ مل گیا،اس عظیم ماں نے اپنی بیٹیوں کو انجمن حمایت اسلام اسکول میں داخل کروا دیا،آٹھویں کے امتحانات کے بعد بچیوں کے تعلیمی اخراجات بڑھے تو خالدہ پروین نے کاروان علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا،کاروان علم فاؤنڈیشن طلباء کو انٹرمیڈیٹ کے بعد وظائف دینا شروع کرتی ہے لیکن میں نے بچیوں کی تعلیمی کارکردگی اور ایک ماں کی جہد مسلسل دیکھتے ہوئے کاروان علم فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا،کاروان علم فاؤنڈیشن کی طرف سے اسکالرشپ کا سلسلہ شروع ہوا، دونوں بچیوں نے میٹرک اور ایف ایس سی میں شاندار نمبرز لیے،آج دونوں بہنیں ایم بی بی ایس کررہی ہیں،خالدہ پروین اپنی محنت کا ثمر ملنے پر خوش اور مطمئن تھی مگر چند ماہ قبل اسے پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہوگیا،ہم نے اس عظیم ماں کی زندگی بچانے کے لیے ہر ممکن مدد کا فیصلہ کیا،خالدہ پروین کا علاج جاری ہے۔
کاروان علم فاؤنڈیشن اس کی دونوں بیٹیوں کے تمام تعلیمی اخراجات کے علاوہ خالدہ پروین کو علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات کے لیے ہر ماہ معقول رقم فراہم کررہی ہے۔ کاروان علم فاؤنڈیشن جذبہ علم سے لبریز نوجوانوں کے خواب کو تعبیر دینے کا قومی فریضہ اداکررہی ہے،میری تمام مخیر حضرات اور آپ سے درخواست ہے کاروان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں،اللہ تعالیٰ آپ کو اور کاروان علم فاؤنڈیشن کے تمام ساتھیوں کو دنیا و آخرت میں عافیت عطا کرے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی‘‘۔
مجھے جب بھی کاروان علم فاؤنڈیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع ملا اس ادارے نے مجھے حیران کردیا، فاؤنڈیشن کے دروازے ساراسال ضرورت مند طلبہ کے لیے کھلے رہتے ہیں، یہ نہ صرف طالب علم کو تعلیمی ضروریات کے لیے معقول مالی اعانت دیتی ہے بلکہ یہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو برقراررکھنے کا اہتمام بھی کرتی ہے،کاروان علم فاؤنڈیشن اب تک 5242 طلبہ کو وظائف جاری کرچکی ہے جن میں12 سو کے قریب یتیم طلباء و طالبات بھی شامل ہیں، یہ فاؤنڈیشن اب تک  ایم بی بی ایس کے1271،بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے49،ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ کے 42، ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسزکے120،ڈاکٹر آف فارمیسی کے92،ایم ایس سی کے131،ایم اے کے124،ایم کام کے39، ایم بی اے کے55،ایم پی اے کے 05، ایم فل کے15، بی ایس سی انجینئرنگ کے1346، بی کام آنرز کے155، بی ایس آنرز کے622، بی بی اے کے 54، اے سی سی اے کے 16،سی اے کے 04،بی ایس ایڈ ،بی ایڈ کے 35، ایل ایل بی کے13،بی اے آنرز کے42، بی اے کے71،سی ایس ایس کا 01، بیچلر آف ٹیکنالوجی کے 22،ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے154، ایف ایس سی کے480،ایف اے کے84،آئی کام کے48،ڈی کام کے05،آئی سی ایس کے17طلباء کو امداد فراہم کر چکی ہے۔
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بے شمار ادارے قائم ہوئے ہیں لیکن جن اداروں کو حقیقی معنوں میں فلاحی ادارے کہا جاسکتا ہے کاروان علم فاؤنڈیشن ان میں سے ایک ہے، اس ادارے میں علم بھی ہے،کاروان بھی ہے اور فاؤنڈیشن بھی اورکسی بھی قوم کو آگے بڑھانے کے لیے علم بھی ضروری ہوتاہے سفر بھی اور فاؤنڈیشن بھی۔ کاروان علم فاؤنڈیشن غریب گھرانوں کے نوجوانوں کو ڈاکٹر، انجینئر، کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینئراور مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم دلواکر پاکستان میں غربت کے خاتمے اور ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
اگر ہمیں پاکستان کو پُرامن ملک بنانا ہے اور اپنے مستقبل کو محفوظ کرناہے تو ملک ریاض حسین کی طرح ہر پاکستانی کو خواہ وہ ایک روپیہ عطیہ کرسکتا ہو یا ایک کروڑ ،اسے کا روان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے،کاروان علم فاؤنڈیشن کے لیے زکوٰۃ اور عطیات ملک کے کسی بھی شہر سے میزان بینک کے اکاؤنٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروائے جا سکتے ہیں۔عطیات کے چیک19/21ایکٹر اسکیم ایوان اردو ڈائجسٹ سمن آباد کے پتے پر بھی ارسال کیے جاسکتے ہیں۔ آپ مزید تفصیلات کے لیے فون نمبرموبائل نمبر0321-8461122پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
جاوید چوہدری