پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شرٹ پر ایدھی فاؤنڈیشن کا لوگو

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک کے نامور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ انگلینڈ کے دورے میں ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچوں کی شرٹ پر ایدھی فاؤنڈیشن کا ’لوگو‘ آویزاں کرے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہر یارخان نے جمعہ کو لاہور میں منعقدہ تقریب میں ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے پانچ لاکھ روپے جبکہ نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کی رقم عطیہ میں دی۔ اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سپانسر ’پیپسی‘ نے بھی دس لاکھ روپے کے عطیے کا اعلان کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ سماجی خدمات کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے اور اسے خوشی ہے کہ وہ اس ضمن میں ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی سعد ایدھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس جذبے کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی شرٹ پر ایدھی فاؤنڈیشن کے لوگو کے ذریعے دنیا ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات کے بارے میں زیادہ آگاہ ہو سکے گی۔

پاکستان کے تینوں فارمیٹس کے کپتان مصباح الحق، اظہرعلی اور سرفراز احمد نے پاکستان کی ون ڈے شرٹ سعد ایدھی کو پیش کی۔ اس کے علاوہ پاکستانی کھلاڑیوں کے دستخط والا کرکٹ بیٹ بھی انھیں پیش کیا گیا جس کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ایدھی فاؤنڈیشن کو ملے گی.

عبدالرشید شکور

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Advertisements

کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی

collector-appeals-asif-jah-ڈاکٹر آصف محمود جاہ جذبے، ولولے اور خدمت انسانی سے بھر پور انسا ن ہیں،
یہ ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں انھیں انسانیت تڑپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، یہ کسٹم جیسے طاقتور ادارے کے اعلیٰ افسر ہیں لیکن ان سے ملنے کے بعد انسان ان کی عاجزی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ کو سادگی اور والہانہ مسکراہٹ ان کے چہرے پرہر وقت نظر آئے گی، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کاخاندان قیام پاکستان کے بعد سرگودھا میں آ کر آباد ہو گیا۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ 1962ء میں سرگودھا شہر میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی، ایم بی بی ایس کا امتحان کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے پاس کیا، سی ایس ایس کیا، محکمہ کسٹم میں اسسٹنٹ کلکٹرکی حیثیت سے تعینات ہوئے،یہ 20 کتابوں کے مصنف ہیں، ان کی سب سے معروف کتاب ’’دواء، غذا اور شفاء‘‘ ہے اس کی ہزاروں کاپیاں بک چکی ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ کے نام سے سفر نامۂ حج بھی تحریر کیا ہے، یہ اب اِس کا انگریزی ترجمہ “Journey towards Allah” کے نام سے شایع کر رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کا اصل کمال ان کی انسانیت کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔

ڈاکٹر صاحب پچھلے 25 سال سے اپنے دفتری اوقات سے فراغت کے بعد مریضوں کامفت علاج کر رہے ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے 1991ء میں پہلا کلینک ملتان میں قائم کیا، یہ دفتری اوقات کے بعد مریضوں کو مفت چیک کیاکرتے تھے، 1997ء میں ان کی تعیناتی لاہور میں ہوئی توانھوں نے اپنے رہائشی علاقے میں غریبوں کے لیے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بنالی، یہ ڈسپنسری مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں شروع ہوئی، یہ نمازمغرب سے عشاء تک وہاں مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے ،جیسے جیسے لوگ شفایاب ہوتے گئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

ڈسپنسری کے ساتھ لیبارٹری قائم ہوئی تو مخیر حضرات مل گئے اور یوں کارواں بنتا چلاگیا، وہ ڈسپنسری جو 19 سال پہلے مسجد کے ایک کمرے سے شروع ہوئی تھی وہ اب کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی چیریٹی اسپتال بن چکی ہے اور اس میں ہر شعبے کے اسپیشلسٹ معالجین بیٹھتے ہیں اور مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے 1998ء میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پاکستان کے نام سے این جی او کی بنیاد رکھی، کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے جنوبی پنجاب اور چترال میں سیلاب زدگان کی بحالی کا کام بھی کیا اور2009ء میں بنوں میں شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی خدمت بھی کی۔

سوسائٹی نے اس کے علاوہ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلہ زدگان، 28 اکتوبر 2008ء کے زیارت کے زلزلے، 2010ء میں عطاء آباد جھیل، 2010-11ء کے خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے سیلاب، 2011ء کے سندھ کے سیلاب،2012ء کے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب، اپریل و ستمبر 2013ء کے ماشکیل اور آواران کے زلزلے، مارچ 2014ء کے سندھ کے قحط، ستمبر 2014ء کے پنجاب کے سیلاب، مئی 2015ء کے پشاور کے طوفان اور جنوبی پنجاب کے حالیہ سیلاب کے دوران اربوں روپے کی امدادی اشیاء تقسیم کیں، لاکھوں مریضوں کا علاج کیا اور 1050 سے زائد گھر اور 50 مساجد اور درجنوں اسکول بھی تعمیر کروائے، سوسائٹی چاروں صوبوں میں ہیلتھ کلینکس، اسکولز، کمیونٹی سینٹرز اورویلفیئر کے کئی دوسرے پراجیکٹس کامیابی سے چلا رہی ہے، سال 2012ء میں حج کے دوران کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے سیکڑوں ملکی اور غیر ملکی حاجیوں کا علاج بھی کیا۔

کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پچھلے دو سال سے تھر میں بھی مصروف عمل ہے، مارچ 2014ء میں تھر میں کام کا آغاز کیا اور یہ اب تک وہاں 200 کنوئیں بنا چکی ہے جن سے روزانہ ہزاروں انسان اور جانور سیراب ہو رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے ہم نے تھر میں بلاتخصیص رنگ و نسل اور مذہب کام کیا ہے، ہندوؤں کے گوٹھوں میں زیادہ کنوئیں بنوائے ہیں، جب بھی ریلیف کا سامان جاتا ہے تو ہندوؤں اور مسلمانوں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تھر میں پانی کی فراہمی کا کامیاب ذریعہ کنوئیں ہیں، ہم نے ان کنوؤں کی مستقل نگرانی کے لیے مقامی لوگوں کو ساتھ ملایا ہوا ہے، یہ ہر مہینے تمام کنوؤں کو چیک کر کے اس کی رپورٹ پیش کرتے ہیں اور جہاں خرابی ہو اس کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے، ڈاکٹر آصف نے انکشاف کیا ’’کچھ عرصہ قبل تھر کا چکر لگایا تو ایک گوٹھ میں اسکول کی عمارت دیکھی، استفسار پر پتہ چلا اسکول دو سال سے بند ہے، بچے پڑھنا چاہتے ہیں، 150 بچوں نے داخلہ لیا ہوا ہے مگر استاد پڑھانے کے لیے نہیں آتا، گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے۔

میں نے پورے گوٹھ سے لوگوں کو اکٹھا کیا، پوچھا آپ میں کوئی اُستاد ہے، ایک ریٹائرڈ استاد چار ہزار روپے مہینے پر پڑھانے کے لیے تیار ہو گیا یوں یہ اسکول اگلے دن شروع ہو گیا، پہلے دن 60 بچے آئے، ان کے لیے کتابوں اور اسٹیشنری کا بھی انتظام کر دیا گیا، اب یہ اسکول ’’لاہور تھرپارکر پرائمری اسکول‘‘ کے نام سے رجسٹرڈ ہو چکا ہے،، ڈاکٹر صاحب نے بتایا، چترال کی خوبصورت وادی بمبوریت جولائی 2015ء کے سیلاب سے متاثر ہوئی، ہماری ٹیمیں فوراً وہاں پہنچیں، سیلاب زدہ لوگوں کو امدادی سامان پہنچایا، ان کے لیے گھروں کی تعمیر شروع کروائی، بمبوریت میں ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی اور اس کے ساتھ ایک ڈسپنسری بنوائی، یہ ڈسپنسری ایک کیلاشی لڑکی چلا رہی ہے۔

یہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور ان کی این جی او کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پاکستان کی چند ناقابل فراموش خدمات ہیں، یہ بھی اگر ملک کے دیگر بیوروکریٹس کی طرح چاہتے تو اسٹیٹس انجوائے کر سکتے تھے، یہ فارغ وقت میں گالف کھیلتے یا سینئرز اور حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے منصوبے بناتے لیکن انھوں نے اپنے فارغ اوقات کو انسانیت کے لیے وقف کر دیا، یہ ایک جسم میں مختلف شخصیات لے کر پھر رہے ہیں مگر ان کی تمام ادبی، صحافتی اور ملازمانہ سرگرمیوں کے باوجود ان کی اصل پہچان اور شناخت ’’کسٹمز ہیلتھ کیئرسوسائٹی‘‘ ہے۔

حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں23 مارچ 2016ء کو انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا، ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم ان مصیبت زدہ علاقوں میں کام کرتی ہے جہاں حکومت بھی نہیں پہنچ پاتی یا جہاں حکومت ناکام ہو چکی ہے، یہ لوگ تھر کے ان ریگستانوں میں پانی، تعلیم اور صحت کا بندوبست کر رہے ہیں جہاں حکومت اربوں روپے کا بجٹ خرچ کرنے کے باوجود فلاپ ہو چکی ہے، کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے تحت اس وقت ملک میں 17 کلینکس، 8 اسکول اور 10 کمیونٹی سینٹرز چل رہے ہیں،ڈاکٹر آصف محمود جاہ ایک بڑا اسپتال اور غریبوں کے بچوں کے لیے ایک میڈیکل کالج بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

میں ہر سال رمضان میں اہل خیر اور درد دل رکھنے والے پاکستانیوں سے ایسے اداروں کے لیے عطیات کی درخواست کرتا ہوں جو دوسروں کی تکالیف کم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں،ہم میں سے ہر شخص اپنے لیے آسائشیں تلاش کر لیتا ہے لیکن حقیقی خوشی اسی وقت میسر آتی ہے جب آپ دوسروں کے لیے خوشیوں کا سامان کرتے ہیں، دوسروں کی خدمت اور مدد ہی حقیقی معنوں میں انسانیت ہے، جن افراد کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ دولت سے نوازا ہے میں انھیں دعوت دیتا ہوں وہ بھی آگے بڑھیں اور کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے پلیٹ فارم پر دکھی اور مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کے لیے دل کھول کر عطیات جمع کروائیں۔

عطیات دینے کے لیے کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی اکاؤنٹ نمبر 4011311614 برانچ کوڈ 1887 ہے ۔ IBAN:76NBPA1887004011311614 ہے جب کہ Swift Code NBPAPKKA02L ہے۔ نیشنل بینک آف پاکستان مون مارکیٹ برانچ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور،آپ مزید معلومات کے لیے 0333-4242691،042-37801243 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

جاوید چوہدری

علاج پاکستانی ہپستالوں ہی میں کراؤں گا : عبدالستار ایدھی

پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی نے پیپلز پارٹی
کے رہنما آصف علی زرداری کی جانب سے بیرون ملک علاج کروانے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے ہسپتال میں عبدالستار ایدھی سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ انھیں علاج کے لیے ملک سے باہر لے کر جانا چاہیے۔ رحمان ملک نے کہا کہ وہ عبدالستار ایدھی کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے دبئی یا لندن لے کر جانا چاہتے ہیں۔ تاہم عبدالستار ایدھی نے جواب دیا کہ وہ پاکستان ہی میں رہنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں سے اپنا علاج کروائیں گے۔ یاد رہے کہ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی عمر 90 برس سے زیادہ ہے اور وہ بہت علیل ہیں۔

عبدالستار ایدھی سنہ 2013 سے گردے کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے والد کے گردے ناکارہ ہو گئے ہیں اور وہ ڈایالسِس پر ہیں۔ فیصل کا کہنا ہے کہ پہلے اُن کا ڈایالسِس ہفتے میں دو مرتبہ ہوتا تھا لیکن اب ہفتے میں تین بار انھیں ڈایالسِس کروانا پڑتا ہے۔ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کراچی میں ایس آئی یو ٹی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ یہ ہسپتال بھی ایک فلاحی تنظیم کے تحت چلایا جاتا ہے۔ فیصل ایدھی نے بتایا کہ اُن کی والد کی طبعیت پہلے سے بہتر ہوئی ہے لیکن اُن کی عمر کی وجہ سے گردے تبدیل نہیں ہو سکتے۔ عبدالستار ایدھی کا شمار پاکستان کے معروف ترین سماجی کارکن میں ہوتا ہے۔

کاروان علم فاؤنڈیشن – ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ رہی ہے

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی 1928ء میں بھارت کے شہر کرنال میں پیدا ہوئے، والدین سفید پوش تھے، پڑھائی کا شوق تھا، یہ نامساعد حالات کے باوجود میٹرک پاس کر گئے، قیام پاکستان سے قبل علی گڑھ یونیورسٹی پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد تعلیمی منزل ہوتی تھی، والد نے اپنی جمع پونجی دیکھی، یہ کل سو روپے نکلے، والد نے یہ سو روپے ان کے حوالے کر دیے، ڈاکٹر صاحب یہ کثیر سرمایہ لے کر علی گڑھ پہنچے، داخلہ مل گیا لیکن ان کے پاس ماہانہ فیس اور ہاسٹل کے اخراجات کے لیے رقم نہیں تھی، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ان کا شوق، علم اور مالی حالات دیکھے تو ان کی فیس اور ہاسٹل کا کرایہ دونوں معاف کر دیے لیکن کھانے کے اخراجات کا بندوبست ابھی باقی تھا۔
یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس مسئلے کے لیے ٹیوشن کا بندوبست کر دیا، یہ قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے، لاہور سے تاریخ میں ایم اے کیا اور سرکاری اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا، انھیں 1956ء میں جرمنی سے اسکالر شپ ملا، پی ایچ ڈی کی اور یہ واپس آ کر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانے لگے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے 1960ء میں لاہور سے ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کے نام سے ماہنامہ شروع کیا، یہ ماہنامہ آج بھی پاکستان کے کامیاب ترین رسائل میں شمار ہوتا ہے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے2002ء میں اخبار میں سعدیہ مغل کے بارے میں خبر پڑھی، سعدیہ مغل نے میٹرک کے امتحانات میں 850 میں سے 810 نمبر لے کر بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی لیکن یہ بچی غربت کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ میں داخلہ نہیں لے پا رہی تھی، یہ خبر پڑھ کر ڈاکٹر صاحب کو اپنا بچپن یاد آ گیا۔
انھوں نے سعدیہ مغل کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا، یہ فیصلہ آگے چل کر ’’کاروان علم فاؤنڈیشن،، کی بنیاد بنا، ڈاکٹر صاحب نے چند احباب کے ساتھ مل کر فاؤنڈیشن بنائی اور اس فاؤنڈیشن نے شروع میں پنجاب اور بعد ازاں پورے پاکستان کے ایسے باصلاحیت نوجوانوں کوتعلیم کے لیے وظائف دینا شروع کر دیے جو تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں سے اسی فیصد سے زائد نمبر حاصل کرتے ہیں لیکن یہ مزید تعلیم حاصل کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے، 
فاؤنڈیشن اب تک 5242 اسکالر شپ دے چکی ہے، یہ نوجوان فاؤنڈیشن کی مدد سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یہ ڈاکٹرز اور انجینئرز بھی بن رہے ہیں اور اکانومسٹ، نفسیات دان اور مینجمنٹ گریجویٹ بھی۔ آپ ان 5242 نوجوانوں میں سے کسی شخص کی کہانی سنیں، آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جائیں گے، میں گزشتہ کئی برسوں سے ’’کاروان علم فاؤنڈیشن‘‘ سے وابستہ ہوں، میں ہر سال احباب سے فاؤنڈیشن کے لیے امداد مانگتا ہوں، فاؤنڈیشن نے 2013ء میں 500 درخواستیں شارٹ لسٹ کیں لیکن فنڈز موجود نہیں تھے، میں نے امداد کے لیے کالم لکھا، بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے یہ کالم پڑھا اور انھوں نے یہ 500 نوجوان اپنے ذمے لے لیے، کل مجھے ڈاکٹر اعجاز قریشی صاحب کا خط موصول ہوا، میں یہ خط یہ سوچ کر احباب کی نذر کر رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں ملک ریاض جیسے سو امیر ترین لوگ موجود ہیں، یہ خط پڑھ کر شاید ان میں سے تین چار لوگ ’’موٹی ویٹ‘‘ ہو جائیں اور یہ ملک ریاض کی طرح ہزار بارہ سو طالب علموں کے اخراجات اٹھا لیں۔
’’محترم جاوید چوہدری صاحب آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی الحمد للہ کاروان علم فاؤنڈیشن اب تک 5242 طلباء اور طالبات کو سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ، کامرس، مینجمنٹ اور سوشل سائنسز کے مختلف شعبوں میں وظائف جاری کر چکی ہے، یہ نوجوان محض لوگ نہیں ہیں یہ 5242 گھرانے ہیں، اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ تمام گھرانے غربت کے  بھنور سے باہر آ گئے ہیں،ان نوجوانوں کو منزل سے ہمکنارکرنے اور ان کے خاندانوں کی قسمت بدلنے میں آپ کا کردار قابل ستائش ہے، آپ نے کاروان علم فاؤنڈیشن کے حوالے سے بڑے خلوص اور دردمندی سے کالم تحریر کیے جن کی وجہ سے ملک کے طول و عرض سے مخیر حضرات نے مستقبل کے نوجوانوں کے لیے دل کھول کر عطیات فراہم کیے،میں یہاں آپ کے ساتھ جناب ملک ریاض حسین کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے 5242 طلبہ میں وہ527 طلبہ بھی شامل ہیں جو جناب ملک ریاض حسین کے ادارے بحریہ ٹاؤن کے مالی تعاون سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرپائے،کاروان علم فاؤنڈیشن کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لیے پورا سال کھلے رہتے ہیں،طلبہ کی درخواستیں موصول ہوتی رہتی ہیں ، ہم پورا سال طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وسائل کی کوشش کرتے رہتے ہیں،جولائی2013ء میں کاروان علم فاؤنڈیشن کے زیر کفالت طلبہ کے علاوہ پانچ سو سے زائد طلبہ کی درخواستیں زیر غور تھیں، آپ نے ان 500 طلباء کے لیے کالم تحریر کیا،اسے پڑھ کر ملک ریاض حسین نے ہم سے رابطہ کیا اور 527 طلبہ کواسکالرشپ فراہم کرنے کی ذمے داری قبول کرلی،بحریہ ٹاؤن طلبہ کی تعلیمی فیس کے پے آرڈرز تعلیمی اداروں کے نام تیار کرکے ہمیں ارسال کردیتا تھا اور ہم یہ پے آرڈرز تعلیمی اداروں کو بھجوا کر رسیدیں بحریہ ٹاؤن کو ارسال کر تے رہے اور یوں الحمدللہ جون2016تک ان527 طلبہ میں سے475 طلبہ نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ، ان 475 طلبہ کو بحریہ ٹاؤن کی طرف سے 24,141,087/-روپے کی مالی اعانت فراہم کی گئی۔
ان475 طلبہ میں ایم بی بی ایس کے103،ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز کے18،بی ایس سی انجینئرنگ کے149،بی ایس آنرز کے52 اور ایم اے /ایم کام کے21 طلباء شامل ہیں، ہمارے پاس اس وقت زیرکفالت 409 طلبہ کے علاوہ 400 طلبہ کی درخواستیں زیر غور ہیں اگر ملک ریاض حسین یا ان جیسا کوئی اور مخیر شخص ان نوجوانوں کی ذمے داری قبول کرلے تو یہ نوجوان بھی علم حاصل کر لیں گے، قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ملک ریاض حسین جیسی خوشحال کاروباری شخصیات کو آگے بڑھناچاہیے اور کاروان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر ملک کے جوہر قابل کو تعمیر وطن کے قابل بنانے کا قومی فرض اداکرناچاہیے،آپ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کاروان علم فاؤنڈیشن کی مالی اعانت سے تعلیم مکمل کرنے والے ہر طالب علم کی کہانی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ میں آپ کو یہاں ایک عظیم ماں خالدہ پروین کی کہانی سنانا چاہتاہوں،خالدہ پروین کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیوں سے نوازا تو اس کا شوہر اسے طلاق دے کر کینیڈا چلاگیا،خالدہ پروین دونوں بیٹیوں کو والدین کے گھر لے آئی۔
والدین کے گھر ان ماں بیٹیوں کو دوسری منزل پر ایک کمرہ مل گیا،اس عظیم ماں نے اپنی بیٹیوں کو انجمن حمایت اسلام اسکول میں داخل کروا دیا،آٹھویں کے امتحانات کے بعد بچیوں کے تعلیمی اخراجات بڑھے تو خالدہ پروین نے کاروان علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا،کاروان علم فاؤنڈیشن طلباء کو انٹرمیڈیٹ کے بعد وظائف دینا شروع کرتی ہے لیکن میں نے بچیوں کی تعلیمی کارکردگی اور ایک ماں کی جہد مسلسل دیکھتے ہوئے کاروان علم فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا،کاروان علم فاؤنڈیشن کی طرف سے اسکالرشپ کا سلسلہ شروع ہوا، دونوں بچیوں نے میٹرک اور ایف ایس سی میں شاندار نمبرز لیے،آج دونوں بہنیں ایم بی بی ایس کررہی ہیں،خالدہ پروین اپنی محنت کا ثمر ملنے پر خوش اور مطمئن تھی مگر چند ماہ قبل اسے پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہوگیا،ہم نے اس عظیم ماں کی زندگی بچانے کے لیے ہر ممکن مدد کا فیصلہ کیا،خالدہ پروین کا علاج جاری ہے۔
کاروان علم فاؤنڈیشن اس کی دونوں بیٹیوں کے تمام تعلیمی اخراجات کے علاوہ خالدہ پروین کو علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات کے لیے ہر ماہ معقول رقم فراہم کررہی ہے۔ کاروان علم فاؤنڈیشن جذبہ علم سے لبریز نوجوانوں کے خواب کو تعبیر دینے کا قومی فریضہ اداکررہی ہے،میری تمام مخیر حضرات اور آپ سے درخواست ہے کاروان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں،اللہ تعالیٰ آپ کو اور کاروان علم فاؤنڈیشن کے تمام ساتھیوں کو دنیا و آخرت میں عافیت عطا کرے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی‘‘۔
مجھے جب بھی کاروان علم فاؤنڈیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع ملا اس ادارے نے مجھے حیران کردیا، فاؤنڈیشن کے دروازے ساراسال ضرورت مند طلبہ کے لیے کھلے رہتے ہیں، یہ نہ صرف طالب علم کو تعلیمی ضروریات کے لیے معقول مالی اعانت دیتی ہے بلکہ یہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو برقراررکھنے کا اہتمام بھی کرتی ہے،کاروان علم فاؤنڈیشن اب تک 5242 طلبہ کو وظائف جاری کرچکی ہے جن میں12 سو کے قریب یتیم طلباء و طالبات بھی شامل ہیں، یہ فاؤنڈیشن اب تک  ایم بی بی ایس کے1271،بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے49،ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ کے 42، ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسزکے120،ڈاکٹر آف فارمیسی کے92،ایم ایس سی کے131،ایم اے کے124،ایم کام کے39، ایم بی اے کے55،ایم پی اے کے 05، ایم فل کے15، بی ایس سی انجینئرنگ کے1346، بی کام آنرز کے155، بی ایس آنرز کے622، بی بی اے کے 54، اے سی سی اے کے 16،سی اے کے 04،بی ایس ایڈ ،بی ایڈ کے 35، ایل ایل بی کے13،بی اے آنرز کے42، بی اے کے71،سی ایس ایس کا 01، بیچلر آف ٹیکنالوجی کے 22،ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے154، ایف ایس سی کے480،ایف اے کے84،آئی کام کے48،ڈی کام کے05،آئی سی ایس کے17طلباء کو امداد فراہم کر چکی ہے۔
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بے شمار ادارے قائم ہوئے ہیں لیکن جن اداروں کو حقیقی معنوں میں فلاحی ادارے کہا جاسکتا ہے کاروان علم فاؤنڈیشن ان میں سے ایک ہے، اس ادارے میں علم بھی ہے،کاروان بھی ہے اور فاؤنڈیشن بھی اورکسی بھی قوم کو آگے بڑھانے کے لیے علم بھی ضروری ہوتاہے سفر بھی اور فاؤنڈیشن بھی۔ کاروان علم فاؤنڈیشن غریب گھرانوں کے نوجوانوں کو ڈاکٹر، انجینئر، کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینئراور مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم دلواکر پاکستان میں غربت کے خاتمے اور ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
اگر ہمیں پاکستان کو پُرامن ملک بنانا ہے اور اپنے مستقبل کو محفوظ کرناہے تو ملک ریاض حسین کی طرح ہر پاکستانی کو خواہ وہ ایک روپیہ عطیہ کرسکتا ہو یا ایک کروڑ ،اسے کا روان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے،کاروان علم فاؤنڈیشن کے لیے زکوٰۃ اور عطیات ملک کے کسی بھی شہر سے میزان بینک کے اکاؤنٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروائے جا سکتے ہیں۔عطیات کے چیک19/21ایکٹر اسکیم ایوان اردو ڈائجسٹ سمن آباد کے پتے پر بھی ارسال کیے جاسکتے ہیں۔ آپ مزید تفصیلات کے لیے فون نمبرموبائل نمبر0321-8461122پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
جاوید چوہدری

Green Crescent Trust (GCT)

Green Crescent Trust (GCT) is a non-profit organization in Sindh, Pakistan that focuses on education and development. It was established in 1995 by group of people with just one goal: making a better Pakistan through education. It started out with just one school and handful of students in Karachi. Today, GCT aims to making schools a reality for deserving children in underprivileged areas of Sindh. It has expanded their schools network making them more accessible to these children.
Introduction 
GCT is a professional non-profit organization operated by professionals under the supervision of the Board of Trustees, which runs schools in underprivileged areas of Sindh for the boys and girls in the rural and urban areas. The founders took this initiative with a very few number of students. Now with the same passion and enthusiasm, bestowed on that first school, GCT has managed to expand their journey of education and expended their chain of schools in all over Sindh. GCT aims to bring a behavioral change in the communities regarding quality education, community building, and motivation and providing opportunities to bring enhancements in their daily lives.
For that they have expanded their services in Orphan Support Program, Centre for Educational Research and Development (CERD) for teachers training and Development, The Water Project for the people of Tharparkar. It is profoundly difficult in rural areas of Sindh to encourage families to gain education, especially for females. Hence, to achieve this, GCT hires the female staff from within the community and trains them for community mobilization, which greatly helps in convincing the parents to send their children to school. GCT has managed to increase female ratio from 20% to 40% in last 3 years.
Hilal Public School System 
Hilal Public School System (HPSS) run by GCT since 1995 was initiated with just one school. HPSS is a network of curriculum-based schools providing subsidized education to underprivileged children across Sindh. HPSS is running 145 schools successfully all over the Sindh with more than 1200 teachers and 35,000 students.
Center for Educational Research and Development 
Center for Educational Research and Development (CERD) is the professional training and development center for Teachers and Parents. CERD is providing training to all the GCT Teachers and Parents to bring about a substantial change in their lives through Education. CERD also provides training to other NGOs, Non-Profit Organizations and Charities.
Water Project 
Water is one of the main and basic essences of every human. People of Tharparkar (Sindh, Pakistan) are starving for water, not only for them and their families, but also for the cattle they breed as their means of livelihood. The females of Tharparkar travel a minimum of 3 KM daily in scorching heat for search of water for their families.
GCT realized the need of water, when they found out that most of students of HPSS, are not in good health in the Tharparkar region. They took the initiative in 2014 and up till now the GCT has installed 350 water projects, which covers almost 90,000 beneficiaries. Every village now has their own project, providing a safe reliable source of water right outside their homes.
Orphan Support Program 
Orphan Support Program (OSP) with the help of donors to help fulfilling the need of education, ethical and moral, health and sustenance need of orphans. Under OSP more than 1000 Orphans are getting supported. The four main elements are:
Subsistence: monthly ration, clothes, hygiene kits
Education: school fee, books, stationary, uniforms, shoes
Health: proper medical checkups, referrals
Social Activities: picnics, visits to amusement places, confidence building, art and creativity encouragement.
GCT Book Bank 
GCT along with quality education also provides the necessities of education to the deserving students. GCT Book Bank is the program in which books are purchased for the students who could not afford them. These books are then laminated and made a hard cover, which increases their lifespan to 3 to 4 years, ensuring recycling and avoiding paper waste.
Donations 
Being a non-profit organization, the main source of income is from donations, with most of the sources coming from Pakistan, which included corporate and development sectors. Almost 70% of the donations are utilized in education like building and running schools, providing basic equipment, computer and science labs, library books, uniforms and course books. The rest of the donations include 20% in OSP, CERD and Water Project and 10% is allocated for administration cost.

گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی حیران کن کامیابیاں

green-crescent-trust-old

زاہد سعید ادویات کے کاروبار سے منسلک ہیں، یہ انڈس فارما کے نام سے کراچی
میں کمپنی چلا رہے ہیں، یہ دو نسلوں سے بزنس سے وابستہ ہیں، یہ تعلیم سے فراغت کے بعد 1996ء میں کاروبار میں داخل ہوئے،یہ جوں ہی والد کی کرسی پر بیٹھے ان کے ذہن میں فلاح و بہبود کا ایک دلچسپ آئیڈیا آیا، زاہد صاحب نے کراچی کے چھ بڑے کاروباری اداروں کے نوجوان مالکان کو بلایا اور اپنا منصوبہ ان کے سامنے رکھ دیا، یہ لوگ فوراً قائل ہو گئے، یوں چھ بزنس مین خاندانوں کے چھ نوجوانوں نے ’’گرین کریسنٹ ٹرسٹ‘‘ کی بنیاد رکھ دی، تعلیم اس ادارے کا بنیادی مقصد تھا، ان لوگوں نے فیصلہ کیا یہ حکومت کی مدد کے بغیر سندھ کے دیہی علاقوں میں اسکول بنائیں گے، یہ اسکول ان انتہائی غریب اور پسماندہ علاقوں میں بنائے جائیں گے جہاں تعلیم کی سہولت موجود نہیں۔

ان چھ لوگوں نے پیسے جمع کیے اور یہ کراچی ویسٹ اورنگی ٹاؤن کے بلوچ علاقے میں چلے گئے، اس پورے علاقے میں کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں تھا، لوگ تعلیم بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے خلاف تھے، یہ لوگ علاقے کے سردار سے ملے، سردار بھی غریب آدمی تھا، ان لوگوں نے نہ صرف سردار کو اسکول بنانے کے لیے رضا مند کر لیا بلکہ وہ اپنی بیٹی رابعہ کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے بھی تیار ہو گیا یوں زاہد سعید نے ہلال اسکول کے نام سے علاقے میں پہلا اسکول قائم کیا، اسکول میں چار سال سے لے کر 14 سال تک کے 50 بچے داخل ہوئے، وہ علاقہ مکمل انگوٹھا چھاپ تھا، بچے بھی ان پڑھ تھے اور ان کے والدین بھی چنانچہ اسکول کو چلانے میں بہت مشکلات پیش آئیں مگر یہ لوگ ڈٹے رہے یہاں تک کہ یہ لوگ کامیاب ہو گئے، سردار کی بیٹی رابعہ نے انٹرمیڈیٹ کیا، ٹیچنگ کا کورس کیا اور یہ اس وقت گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے اسی اسکول میں استادہے۔

یہ ٹرسٹ سندھ میں اب تک 145 اسکول بنا چکا ہے، ان اسکولوں میں 32 ہزار طالب علم پڑھتے ہیں، یہ تمام اسکول چھ بزنس مین فیملیز کی زکوٰۃ اور صدقات پر چل رہے ہیں، ٹرسٹ نے آج تک کسی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سے مدد نہیں لی، یہ لوگ یہ صرف ان علاقوں میں اسکول بناتے ہیں جہاں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے یا پھر وہ علاقہ شہر سے اتنا دور ہے کہ وہاں حکومت اور استاد دونوں نہیں پہنچ پا رہے، یہ لوگ مقامی سردار یا وڈیرے کو اسکول کا سرپرست بنا دیتے ہیں، یہ اسی سے اسکول کا افتتاح کراتے ہیں اور سب سے پہلے اس کے بچوں کو داخلہ دیتے ہیں، یہ کرائے پر عمارت حاصل کرتے ہیں، عمارت کو جدید اسکول کی شکل دیتے ہیں، اس میں واش رومز اور پانی کا بندوبست کرتے ہیں اور بچوں کو وہ ساری سہولتیں فراہم کرتے ہیں جن کی یہ توقع تک نہیں کر سکتے۔

ہلال اسکول کے بچے اور ان کے والدین چٹے ان پڑھ ہوتے ہیں، ان لوگوں کو پڑھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے چنانچہ ٹرسٹ نے ٹیچنگ ٹریننگ کا ایک ادارہ بھی بنا رکھا ہے، یہ ادارہ سی ای آر ڈی (سینٹر فار ایجوکیشن، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) کہلاتا ہے، یہ ادارہ اب تک ایک ہزار چار سو خصوصی استاد تیار کر چکا ہے، یہ ٹرسٹ جتوئی قبیلے کے لیے جتوئی استاد اور چانڈیو قبیلے کے بچوں کے لیے چانڈیو استاد تیار کرتا ہے، ٹرسٹ نے 20 برسوں میں کامیابی کی درجنوں داستانیں تخلیق کیں، ان داستانوں میں ایک داستان تھر بھی ہے، تھر ملک کا وہ علاقہ ہے جس میں آج تک حکومت بھی اسکول نہیں چلا سکی لیکن ان لوگوں نے نہ صرف وہاں اسکول بنائے بلکہ ان اسکولوں میں اڑھائی ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔

یہ ٹرسٹ اب تک درجنوں ڈاکٹرز، انجینئرز اور گریجویٹ پیدا کر چکا ہے، ان میں نوشہرو فیروز کی تحصیل مہران پور کی ایک بچی بھی شامل ہے، یہ بچی پولیو کا شکار تھی، یہ کمزور ٹانگوں کے باوجود اسکول آئی اور یہ اب ڈاکٹر ہے، ٹرسٹ کو تھر میں کام کرتے ہوئے دو دلچسپ تجربے ہوئے، پہلا تجربہ لوگوں کی غیرت تھا، تھر کے لوگ غربت کی نچلی لکیر پر زندگی گزار رہے ہیں، یہ پانی کی نعمت تک سے محروم ہیں مگر ان لوگوں نے اس کے باوجود اپنے بچوں کو زکوٰۃ کی رقم سے تعلیم دلانے سے انکار کر دیا، یہ لوگ اسکولوں میں باقاعدہ فیس ادا کرتے ہیں، دوسرا تجربہ پانی تھا۔

تھر کے ایک گاؤں میں پانی نہیں تھا، ٹرسٹ نے گاؤں میں ’’بور‘‘ کرایا، نلکے کے ساتھ چھوٹی سی ٹینکی بنائی، آٹھ ہزار روپے کا جنریٹر لگایا اور پورے گاؤں کو پانی دے دیا، پانی کے اس کنوئیں پر ٹرسٹ کے صرف 80 ہزار روپے خرچ ہوئے، ٹرسٹ کو یہاں سے نیا پراجیکٹ مل گیا، تھر میں کل 2300 دیہات ہیں، یہ لوگ اب تک 400 دیہات کے لیے پانی کا بندوبست کر چکے ہیں، یہ گاؤں میں پانچ لوگوں کی کمیٹی بناتے ہیں، یہ کمیٹی کنوئیں کی حفاظت بھی کرتی ہے اور یہ گاؤں کے تمام لوگوں کو پانی فراہم کرنے کی ذمے دار بھی ہوتی ہے، یہ لوگ کمیٹی کا ڈونر سے براہ راست رابطہ کرا دیتے ہیں، تھر میں دو سال قبل خوفناک قحط آیا لیکن اس قحط کے دوران بھی وہ تمام گاؤں محفوظ رہے جن میں گرین کریسنٹ ٹرسٹ نے پانی کے کنوئیں کھدوائے تھے، کیوں؟ کیونکہ قحط کے دوران بھی گاؤں کے لوگوں اور مال مویشیوں کو پانی ملتا رہا چنانچہ یہ لوگ اور ان کے مویشی دونوں محفوظ رہے۔

یہ گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی دو حیران کن کامیابیاں ہیں، یہ لوگ وہاں اسکول بنا اور چلا رہے ہیں جہاں حکومت کامیاب نہیں ہو سکی، یہ لوگ تھر کے ان ریگستانوں میں پانی کا بندوبست کر رہے ہیں جہاں حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں، یہ ان لوگوں اور ان کے ماڈل کی کامیابی ہے، پاکستان میں آج بھی اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے محروم ہیں، یہ پانچ سے چودہ سال کے بچے ہیں، یہ تعداد آسٹریلیا کی کل آبادی سے زیادہ ہے، گویا ہمارے ملک میں جہالت کا پورا آسٹریلیا تیار ہو رہا ہے اور ہم خاموش بیٹھے ہیں، یہ لوگ اپنے وسائل سے جہالت کے اس آسٹریلیا کو چھوٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ ان کا کمال دیکھئے ملک میں حالات کی خرابی کی وجہ سے اکثر سرکاری اسکول بند ہو جاتے ہیں لیکن ٹرسٹ کا کوئی اسکول پچھلے بیس برسوں کے دوران بند ہوا اور نہ ہی کسی جگہ لڑائی جھگڑے کا کوئی واقعہ پیش آیا، کیوں؟

ہماری حکومتوں کو اس کیوں کا جواب تلاش کرنا چاہیے، یہ لوگ صرف ایک لاکھ روپے میں تھر کے پورے گاؤں کے لیے پانی کا بندوبست بھی کر دیتے ہیں، تھر میں کل 2300 دیہات ہیں گویا حکومت اگر ان کے ماڈل کو کاپی کر لے یا یہ ان لوگوں کو تھر کے تمام دیہات کو پانی سپلائی کرنے کی ذمے داری سونپ دے تو پورے تھر کو 23 کروڑ روپے میں پانی مل جائے گا، حکومت مشکل اور دشوار گزار علاقوں میں اسکول بنانے اور چلانے کی ذمے داری بھی ان لوگوں کو دے سکتی ہے، حکومت ان کا ماڈل لے کر اپنے ٹرسٹ بھی بنا سکتی ہے، یہ ٹرسٹ ان کی لائنوں پر کام کر سکتے ہیں، مجھے یقین ہے یوں تعلیم اور پانی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔

حکومت اگر کسی دن دیہات کے اسکولوں کا سروے کرائے، یہ اگر دیہی علاقوں کی جہالت کی وجوہات تلاش کرے تو یہ حیران رہ جائے گی، گاؤں کا اصل مسئلہ جہالت ہوتا ہے اور جہالت کبھی اکیلی نہیں آتی،یہ اپنے ساتھ دشمنی، نسلی عصبیت، ضد، ظلم اور بیماری بھی لے کر آتی ہے، آپ دنیا میں کسی جگہ دیکھ لیں، آپ کو جاہل شخص میں ضد بھی نظر آئے گی، ظلم بھی، جانبداری بھی اور بیماری بھی اور اس جاہل شخص کا کوئی نہ کوئی دشمن بھی ضرور ہو گا، حکومتیں اس نفسیات کو سمجھے بغیر اسکول بنا دیتی ہیں، یہ بھول جاتی ہیں جتوئی قبیلے کے لوگ اپنے بچے چانڈیو استاد کے پاس نہیں بھجوائیں گے، یہ دونوں رند کو قبول نہیں کریں گے اور رند بچے استاد کے نام کے ساتھ شاہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔

حکومتیں یہ بھی بھول جاتی ہیں قبائل آج بھی اپنے وڈیرے، اپنے سردار کو حکومت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں لہٰذا آپ ان کے علاقوں میں وڈیرے کو شامل کیے بغیر اسکول نہیں چلا سکیں گے اور گرین کریسنٹ ٹرسٹ نے یہ دونوں کام کیے، یہ اسکول کو وڈیرے کی سرپرستی میں دے دیتے ہیں، یہ چانڈیو بچوں کے لیے چانڈیو استاد ٹرینڈ کر دیتے ہیں اور جتوئی بچوں کو جتوئی ٹیچر فراہم کر دیتے ہیں چنانچہ ان کے اسکول بند نہیں ہوتے، یہ لوگ کاروباری بھی ہیں، یہ چیزوں کی اصل ویلیو اور ان کے آپریشن کو سمجھتے ہیں۔

یہ جانتے ہیں آپ جب تک مقامی لوگوں کو ’’اونرشپ‘‘ نہیں دیتے، آپ اس وقت تک کوئی منصوبہ نہیں چلا سکتے چنانچہ یہ لوگ 80 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے میں پانی کا کنواں کھدواتے اور پھر یہ کنوئیں مقامی کمیٹی کے حوالے کر دیتے ہیں اور یہ کمیٹی اپنی مدد آپ کے تحت کنواں چلاتی رہتی ہے اور یوں پانی کا مسئلہ مستقلاً حل ہو جاتا ہے جب کہ ان کے مقابلے میں صوبائی حکومتیں ہوں یا پھر وفاقی یہ سالانہ اربوں روپے خرچ کرتی ہیں لیکن عوام کو تعلیم مل رہی ہے اور نہ ہی پانی، آپ کسی دن اخبارات کھول کر دیکھ لیجیے، آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے سندھ حکومت اب تک تھر میں اربوں روپے خرچ کر چکی ہے۔

وفاقی حکومت بھی اربوں روپے کی گرانٹ دے چکی ہے لیکن قحط بھی اپنی جگہ موجود ہے، خشک سالی بھی، بھوک بھی، اور نقل مکانی بھی، کیوں؟ کیونکہ آپ تھر کے حالات اور تاریخ دیکھ کر تھر کے فیصلے نہیں کر رہے، آپ یہ جانتے ہی نہیں ہیں تھر کو کیا چاہیے؟ تھر کو صرف پانی چاہیے، یہ لوگ پانی کے لیے نقل مکانی کرتے ہیں اور یہ نقل مکانی ان کے جانوروں کو بھی مار دیتی ہے اور ان کے بچوں کو بھی اور یہ لوگ خود بھی پیٹ کی بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں، حکومت اگر گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے ساتھ مل کر 2300 دیہاتوں میں پانی کے کنوئیں کھدوا دے اور یہ لانگ ٹرم کے طور پر تھر سے کوئی بڑی نہر نکال دے تو تھر کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، حکومت اگر اسی طرح اسکولوں سے محروم اڑھائی کروڑ بچوں کا ڈیٹا جمع کرے، بچوں کے مقام اور آبادی کا تخمینہ لگائے۔

گرین کریسنٹ ٹرسٹ جیسے ادارے تلاش کرے، مخیر حضرات کی مدد لے اور تعلیم سے محروم ان بچوں کی ذمے داری ان لوگوں کو سونپ دے تو ملک میں تعلیمی انقلاب آ جائے گا لیکن اس انقلاب سے پہلے ہمیں یہ ماننا ہوگا ہمارے سرکاری ادارے نااہل ہیں، یہ 21 ویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتے چنانچہ حکومتوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کی مدد لینا ہوگی، ہمیں یہ مدد فوراً لینی چاہیے، یہ ہمارے لوگ ہیں، یہ لوگ دل سے اس ملک کو ترقی یافتہ اور خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ آپ ان کی سپورٹ لیں، اس سے پہلے کہ یہ سپورٹ دینے اور آپ سپورٹ لینے کے قابل نہ رہیں۔

جاوید چوہدری

Edhi, the man, the idea

abdul-sattar-edhiHe created a charitable empire out of nothing, masterminding Pakistan’s largest welfare organisation. Today, Abdul Sattar Edhi is revered by many as a national hero. Content with just two sets of clothes, he sleeps in a windowless room of white tiles adjoining the office of his charitable foundation. Sparsely equipped: it has just one bed, a sink and a hotplate. Abdul Sattar Edhi waves as he journeys to his office in Karachi. – AFP

 

 

 

 

 

 

بلقیس ایدھی کو لوگ مادروطن بھی کہتے ہیں، جرمن میڈیا

pride-of-pakistan-bilquis-edhi

پاکستان کی معروف سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی کی سماجی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں بعض لوگ مادر پاکستان کا لقب بھی دیتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی ڈسپنسری سے شروع ہونے والے ایدھی ٹرسٹ کو ملک کے سب سے بڑے اور فعال ترین ادارے ایدھی فاونڈیشن میں بدلنے میں عبدالستار ایدھی کیساتھ انکی زوجہ بلقیس ایدھی بھی ان کے شانہ بشانہ رہیں‘ بلقیس ایدھی کی ان ہی خدمات کا اعتراف اب بھارت میں کیا گیا ہے۔ بلقیس ایدھی نے بھارت سے تعلق رکھنے والی ،سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم لڑکی، گیتا کی15 برس تک دیکھ بھال کی جو 10 برس کی عمر میں غلطی سے پاکستان پہنچ گئی تھی۔Bilquis-edhi

اس کو ایدھی سینٹر کے حوالے کر دیا گیا وہاں بلقیس ایدھی نے اس کی دیکھ بھال کی ،اس کا مذہبی تشخص برقرار رکھا اور اسے اس کے ملک واپس بھیجنے کیلیے انتھک کوششیں کیں۔ اسی اعتراف کے طور پر بھارت نے بلقیس ایدھی کو مدر ٹریسا ایوارڈ 2015ء سے نوازا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق ، انھوں نے محض 16 سال کی عمر میں ایدھی صاحب کے قائم کردہ نرسنگ ٹریننگ اسکول میں داخلہ لیا اور نرسنگ کی باقاعدہ پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ 1966 میں بلقیس بانو، عبدالستار ایدھی کی رفیق حیات بن گئیں۔ شادی کے بعد ان دونوں سماجی شخصیات نے بہت سے نئے فلاحی کاموں کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔