جنرل راحیل مسلم ریاستوں کے فوجی اتحاد کی قیادت کیوں نہ کریں ؟

Raheel Sharif1سلام آباد (تبصرہ / انصار عباسی) سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کا دہشت گردی کیخلاف 39؍ مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت کے مبینہ کے فیصلے کو عمومی طور پر ایران مخالف سمجھا جا رہا ہے۔ اس اتحاد کے خالق ملک سعودی عرب نے کبھی ایسا کہا ہے اور نہ ہی اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی لوگ بالخصوص میڈیا نے پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ فوجی اتحاد ایران مخالف ہے اور اس لیے جنرل راحیل کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ اسلئے، یہ ان کیلئے سادہ اور واضح صورتحال ہے۔ درحقیقت، اتحاد کے قیام کے وقت یہ بتا دیا گیا تھا کہ یہ دہشت گردی اور داعش جیسی تنظیموں کے خاتمے کیلئے تشکیل دیا جار ہا ہے۔

اتحاد میں سعودی عرب نے ایران کو شامل نہیں کیا تھا۔ دوسری جانب، ایران نے بھی اس اتحاد کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس فوجی اتحاد کی تفصیلات کے حوالے سے کئی ابہام موجود ہیں اور جب تک اس اتحاد کی تفصیلات واضح نہیں ہو جاتیں اس وقت تک اسے فرقہ ورانہ رنگ دے کر اسے مسترد کرنا قبل از وقت اور متعصبانہ اقدام ہوگا۔ صرف تاثرات اور تعصب کی بنا پر جنرل (ر) راحیل اور سعودی حکومت کیخلاف فیصلہ کرنا غیر منصفانہ عمل ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے اور اس کا اندازہ اسلام آباد کے یمن تنازع کے حوالے سے موقف کو دیکھ کر بھی ہوجا تا ہے۔ سعودی عرب کی خواہش کے باوجود، پاکستان نے اپنے فوجیوں کو یمن میں ایران نواز باغیوں سے لڑنے کیلئے سعودی عرب بھیجنے سے انکار کر دیا۔Raheel Sharif2

یہ فیصلہ پاکستانی پارلیمنٹ نے کیا تھا اور اس کی توثیق ملک کی سویلین اور ملٹری قیادت نے بھی کی تھی۔ اس وقت آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے۔ ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور سویلین قیادت کی طرح، جنرل راحیل کو بھی یمن تنازع میں جانے کے سنگین مضمرات کا اندازہ تھا۔ عموماً یہ کہا اور سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کی یمن میں براہِ راست مداخلت سے پاکستان میں فرقہ ورانہ تقسیم بڑھے گی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور جنرل (ر) راحیل کس طرح وہ کام کر سکتے ہیں جس سے انہوں نے سعودی حکام کی ناراضی کے باوجود انکار کیا تھا۔ گزشتہ چند سال کے دوران، سعودی عرب دہشت گرد تنظیموں کا ہدف بنا ہوا ہے۔ ان میں سے اکثر حملے داعش نے کیے۔

داعش نے ہی ایک حملہ مدینہ میں مسجد نبوی کے باہر کیا تھا۔ اس واقعہ نے امت مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایسے حالات میں، سعودی عرب نے مسلم ممالک کا اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ جنرل (ر) راحیل نے اتحاد کے قیام کے حوالے سے اپنی رائے پیش کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ فوجی اتحاد کے اعلان کے فورا بعد میڈیا میں ایک رپورٹ سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ جنرل راحیل کو اتحاد کا سربراہ بنایا جا رہا ہے۔ 2015ء کے اعلان کے بعد، اتحاد کے باضابطہ قیام کے حوالے سے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا، اور عملاً یہ اتحاد صرف کاغذات کی حد تک قائم ہے۔

توقع ہے کہ جنرل (ر) راحیل کے باضابطہ طور پر اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے بعد معاملات آگے بڑھتے نظر آئیں گے۔ ایسی صورتحال میں، کوئی یہ نتیجہ کیسے اخذ کر سکتا ہے کہ جنرل (ر) ایران مخالف سنی مسلم ریاستوں کے فوجی اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں؟ اگر کل کو سعودی عرب اس اتحاد کو دہشت گردی کی بجائے ایران کیخلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان اور جنرل (ر) راحیل کے پاس آپشن ہوگا کہ وہ اس اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ پاکستان ترکی سمیت کچھ دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایک کوشش یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ مسلم ممالک کے اتحاد میں ایران کو بھی شام کر لیا جائے۔ گارڈین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ مسلم اتحاد، جسے ’’مسلم نیٹو‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، کی قیادت سنبھا لنے سے قبل جنرل (ر) شریف نے جی ایچ کیو / حکومت سے این او سی حاصل کیا تھا یا نہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ جو کچھ برطانوی اخبار نے اس اتحاد کے حوالے سے کہا ہے وہ کسی کو نظر نہیں آ رہا۔ اصولی طور پر جنر راحیل کو دہشت گردی کیخلاف فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے سے قبل حکومت سے این او سی لینا چاہئے۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس بات کو باعث فخر سمجھے کہ اس کے سابق آرمی چیف کو 39؍ مسلم ملکوں کے فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جا رہا ہے اور اسلئے ان کے اتحاد کی قیادت سنبھالنے پر کوئی پابندی عائد کیے جانے کا جواز نہیں۔ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ کا بہترین ریکارڈ ہے۔

جنرل (ر) راحیل نے انسداد دہشت گردی کیلئے پاک فوج کی قیادت کرکے دنیا بھر سے نام کمایا اور یہی وجہ ہے کہ انہیں فوجی اتحاد کی سربراہی کی پیشکش کی گئی۔ جنرل راحیل، پاکستان اور ایک فرد کیلئے اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اسے اسلامی ممالک کی جانب سے مقدس سر زمین، مکہ مکرمہ اور مدینہ، کے تحفظ اور دہشت گردی کی روک تھام کی ذمہ داری دی جائے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوجی ماضی میں بھی سعودی عرب میں خد ما ت انجام دیتے رہے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو دلیل دیتے ہیں کہ مقدس سرزمین کی حفاظت کیلئے بھی پاکستان کیسے اپنی فوجیں بھیج سکتا ہے۔ ان لوگوں کی باتیں اس وقت بھی کسی نے نہیں سنی تھیں جب ایک فوجی آمر نے امریکا کے مفادات کے تحفط کیلئے ملک پر حکمرانی کی تھی۔

اسی طرح کی باتیں اس وقت سنی جا رہی تھیں جب سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالرز دے کر پاکستان کی مدد کی تھی۔ ان لوگوں کی باتیں اس وقت نہیں سنی گئیں جب امریکی ڈرونز نے پاکستان میں معصوم افراد کو نشانہ بنایا لیکن یہ آوازیں ایک مرتبہ پھر اس وقت گونجنے لگتی ہیں جب دوست عرب ممالک سے حکمرانوں کو پاکستان میں پرندوں کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

Advertisements

Lalak Jan Shaahed

Havaldar Lalak Jan Shaahed (Urdu: لالک جان; 1967 – 7 July 1999) is the last and most recent recipient of Nishan-e-Haider. He was born at Yasin, in the Ghizer District, of the Northern Areas of Pakistan (now called Gilgit-Baltistan). After school he joined the Pakistan Army, and reached the rank of Havaldar.

Karnal Sher Khan

Karnal Sher Khan (1970–1999) was a Pakistan Army officer who is one of only ten recipients of Pakistan’s highest gallantry award, the Nishan-e-Haider. He was a Captain in the 27 Sindh Regiment of the Pakistan.

Name

Captain Sher Khan was born in Naway Kiley (Shewa Adda), a village in Swabi District of Khyber-Pakhtunkhwa, Pakistan. He was named by birth after the rank of Colonel; his name, Karnal, is a localised form of Colonel. Karnel Sher Khan’s home village of Naway Kiley (“New Village”) has now been named after him as Karnal Sher Kally (“Village of Karnal Sher Khan”).

Early life

Captain Sher Khan was the youngest of his two brothers and two sisters.[citation needed] His mother died in 1978 when he was eight. He was brought up by his paternal aunts. His family is deeply religious and they say that Sher was an embodiment of piety and Islamic teaching.[citation needed]

Education and career

After completing his intermediate schooling at the Government College Swabi, he joined the Pakistan Air Force as an airman.[citation needed] On completion of his training, he was appointed electric fitter (aeronautical) at Primary Flying Training Wing Risalpur. During these years he applied twice for commission in the Pakistan Army as a Commissioned Officer. He succeeded the second time.[citation needed] He joined the Pakistan Military Academy, Kakul, in November 1992 and graduated in the 90th Long Course in 1994. His first posting was at Okara in 27th Sindh Regiment. Always smiling as a devoted soldier, he was fondly called Shera (Lion) and was very popular among his officers and colleagues.[citation needed] In January 1998 he volunteered to serve at the LoC in Kashmir, he was posted in 12 NLI.

Kargil conflict

Captain Sher Khan was posthumously awarded Pakistan’s highest gallantry award, the Nishan-e-Haider, for his actions during the Kargil Conflict with India in 1999.
The following is the official statement by the Pakistan Army:[1]
“Captain Karnal Sher Khan emerged as the symbol of mettle and courage during the Kargil conflict on the Line of Control (LoC). He set personal examples of bravery and inflicted heavy losses on the enemy. He defended the five strategic posts, which he established with his Jawan‘s at the height of some 17,000 feet at Gultary, and repulsed many Indian attacks. After many abortive attempts, the enemy on July 5 ringed the post of Capt. Sher Khan with the help of two battalion and unleashed heavy Mortar firing and managed to capture some part of the post. Despite facing all odds, he led a counter-attack and tried to re-capture the lost parts. But during the course he was hit by the machine-gun fire and embraced Shahadat or martyrdom at the same post. He is the first officer from the Khyber-Pakhtunkhwa province to be awarded with Nishan-e-Haider.”
He counterattacked the enemy at Tiger Hill during day when enemy could easily see his movements. It was a surprise for Indian Army as they were not expecting any thing like that. It was considered as a suicide counterattack but being familiar with the positions of that post Karnal Sher was not only successful in forcing the enemy to retreat but also followed them to their base camp and got killed in the process.[2]

Major Raja Aziz Bhatti

Major Raja Aziz Bhatti  1928 – 10 September 1965)[1] was a Staff officer in the Pakistan Army who received Pakistan’s highest award for valor. He was born in Hong Kong to a Punjabi Rajput family in 1928.[2] He moved to Pakistan before it became independent in 1947, living in the village of Ladian, Kharian, Gujrat. There he enlisted with the newly formed Pakistani Army and was commissioned to the Punjab Regiment in 1950.