کاروان علم فائونڈیشن پر مہربانی کریں

زہرہ نواز کے والد آرمی میں سپاہی تھے‘وہ کراچی میں تعینات تھے‘ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے کراچی میں گھر بنا لیا‘ زہرہ کا ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹی بہن تھی‘ اللہ نے تینوں کو ذہانت اور قابلیت سے نواز رکھا تھا‘حالات معمول پر چل رہے تھے کہ محمد نواز کے مزاج میں تبدیلیاں آنے لگیں‘ انھوں نے ایک دن گاؤں واپس جانے کا اعلان کر دیا‘ بیوی نے بچوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا لیکن بے فائدہ‘خوشحال گھرانے میں لڑائی جھگڑے معمول بن گئے‘ بات مار کٹائی تک پہنچ گئی‘ زہرہ نے ان دنوں ایف ایس سی پارٹ ون کے امتحانات دینے تھے لیکن اس کے والد نے اسے کمرے میں بند کر دیا‘ بھائی نے مداخلت کر کے بہن کے پیپر دلوائے جس پر باپ بیٹے کا بھی دشمن ہو گیا۔

بالآخر باپ گھر بیچ کر آبائی گاؤں چلا گیا‘ وہاں اس نے دوسری شادی کر لی اور زہرہ کی والدہ کو طلاق دے دی‘ والدہ بچوں کو لے کرلاہور آ گئی‘ اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا‘ بھائی نے ایف اے کے بعد تعلیم چھوڑ دی اور نوکری شروع کر دی‘ خود زہرہ نے ٹیوشن پڑھانا شروع کردی لیکن وہ کوشش کے باوجود اتنی رقم جمع نہ کر سکی کہ ایف ایس سی پارٹ ٹو میں داخلہ لے سکتی‘ سال اول میں اس نے بہت اچھے نمبرحاصل کیے تھے‘ وہ صبح چھ بجے سے رات نو بجے تک مختلف کلاسز کے بچوں کو پڑھاتی تھی‘ایک سال ضایع ہونے کے بعد اس نے سیکنڈ ائیر میں داخلہ لیا‘معاشی دباؤ اور ٹیوشن پڑھانے کی وجہ سے اس کے سیکنڈ ائیر میں خاطر خواہ نمبر نہ آ سکے جس کی وجہ سے اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ اس نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا اور یوں اس کا مزید ایک سال ضایع ہو گیا۔

اگلے سال اس نے دوبارہ انٹری ٹیسٹ دیا اور اس کا نام آرمی میڈیکل کالج میںویٹنگ لسٹ میں آ گیا‘ زہرہ کو آرمی میڈیکل کالج سے ایڈمیشن کال آئی تو فیملی کے پاس راولپنڈی جانے کے لیے اخراجات بھی نہیں تھے‘ ڈاکٹر شاہد صدیقی (موجودہ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی) کی بیگم کے زہرہ کی والدہ سے بہنوں جیسے تعلقات تھے‘ انھوں نے زہرہ کے ابتدائی اخراجات اورفیس ادا کر دی‘ آرمی میڈیکل کالج میں کلاسز جاری تھیں لیکن زہرہ کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ آیندہ کے تعلیمی اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘اس نے کئی فلاحی اداروں اور مخیر حضرات سے رابطہ کیا لیکن کہیں سے مثبت جواب نہ ملا‘ اس نے آخر میں کاروان علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا اور اسے اسکالرشپ ملنا شروع ہو گیا‘ زہرہ نے ڈینٹل ڈاکٹر کی تعلیم مکمل کی اور یہ آج نہ صرف اپنے خاندان کو سپورٹ کر رہی ہے بلکہ یہ اسپیشلائزیشن کے اخراجات بھی خود ادا کر رہی ہے۔

دوسری کہانی محمد افضل اور ان کی بیگم کشور سلطانہ کی ہے‘ یہ دونوں گوجرانوالہ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ان دونوں نے عزم و ہمت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں سب سے پہلے اولاد نرینہ دی‘ بیٹے کا نام عمیر افضل رکھا گیا‘عمیر پیدائشی نابینا تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں بیٹی عمارہ افضل پیدا ہوئی‘وہ بھی پیدائشی نابینا تھی‘ غریب میاں بیوی دوسری اولاد بھی نابینا ہونے پر آبدیدہ ہو گئے لیکن لبوں پر شکوہ نہ لائے‘ اس کے بعد اللہ تعالی نے انھیں دوسرے بیٹے زبیر سے نوازا لیکن زبیر کو بھی قدرت نے بینائی سے محروم رکھا‘ ہر والدین کی طرح محمد افضل اورکشور سلطانہ کی خواہش بھی تندرست اولاد کی تھی لیکن قدرت کو یہ منظور نہیں تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں آنسہ افضل کی پیدائش ہوئی‘ یہ بچی ریڑھ کی ہڈی کے ٹیڑھے پن کے ساتھ دنیا میں آئی‘محمد افضل اور اس کی بیوی کے پاس دو آپشن تھے۔

یہ اپنے بچوں کو فقیر بنا دیتے یا پھر انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتے‘ میاں بیوی دوسرے آپشن پر چلے گئے‘ انھوں نے معذور بچوں کو علم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا‘محمد افضل محنت مزدوری کر کے گھر کا چولہا چلاتا رہا جب کہ کشور سلطانہ نے خود کو چار معذور بچوں کی پرورش اور تعلیم کے لیے وقف کر دیا‘ زندگی کی گاڑی آگے بڑھتی گئی‘جب عمیر افضل نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو میاں بیوی نے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے لاہور شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا‘ محمد افضل نے لاہور میں کریانے کی دکان کھول لی‘ دکان کی آمدن سے بمشکل گھر کا چولہا جلتا تھا ‘بچوں کی تعلیم‘ آمدورفت اور علاج معالجے کے لیے سخت مالی مشکلات نے حوصلے آزمانا شروع کر دیے۔

ایک دن کشور سلطانہ نے نماز کے بعد بھیگی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی‘اسی شام انھیں ایک جاننے والے کی معرفت کاروان علم فاؤنڈیشن کے بارے میں علم ہوا‘ کشورسلطانہ درخواست لے کر کاروان علم فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچی‘ فاؤنڈیشن نے چاروں بچوں کی ذمے داری اٹھا لی‘ کاروان علم فاؤنڈیشن کے تعاون سے عمیر افضل نے گریجوایشن‘ عمارہ افضل نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ایم فل‘ آنسہ افضل نے کنیئرڈ کالج سے بی اے آنرز اور زبیرافضل نے گریجوایشن تک تعلیم حاصل کی‘ آج یہ چاروں بچے معذور ہونے کے باوجود معاشرے کے فعال شہری ہیں۔

کاروان علم فاؤنڈیشن پندرہ سال سے طلبہ کو وظائف جاری کررہی ہے‘ فاؤنڈیشن کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیل چکا ہے‘ آج پاکستان کی کوئی یونیورسٹی‘ میڈیکل کالج‘ انجینئرنگ یونیورسٹی یا کالج ایسا نہیں جہاں فاؤنڈیشن کے تعاون سے طلبہ تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف جاری کرنے کے حوالے سے بہت سے قابل ستائش اقدامات کیے‘ ادارے کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لیے سارا سال کھلے رہتے ہیں‘ طلبہ کو تعلیم کے دوران جس مرحلے پر بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن ان کی مدد کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف کا سلسلہ اتنا باوقار بنا رکھا ہے کہ کسی مرحلے پر طالب علموں کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی‘ ہر طالب علم کی درخواست کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے اور ہر طالب علم کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وظائف جاری کیے جاتے ہیں۔

فاؤنڈیشن درخواست گزار طلبہ کو سالانہ فیس‘ سمیسٹر فیس‘ کرایہ ہاسٹل‘ ماہوار خرچ‘ طعام‘ کتب اور کرایہ آمدورفت تک ادا کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن زیر کفالت طلبہ کی بیوہ ماؤں اور ضعیف والدین کو گھریلو اخراجات کے لیے بھی وظائف دیتی ہے تاکہ طلبہ مکمل اطمینان اور یکسوئی سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن جب کسی کو وظیفہ جاری کرتی ہے تو یہ اس کی سرپرست بن جاتی ہے‘ یہ پورا سال طالب علم کی کارکردگی کا جائزہ لیتی رہتی ہے‘ یہ ہر ضرورت کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے دستیاب رہتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن غریب طبقہ کے لوگوں کو ضروریات کے لیے زکوٰۃ اور عطیات کی رقم فراہم کرنے کے بجائے اس رقم سے ان کے بچوں کو علم و ہنر سے آراستہ کرتی ہے تا کہ یہ مستقل طور پر خاندان کا سہارا بن سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن یتیم اور خصوصی طلبہ کو ترجیہی بنیادوں پر وظائف جاری کرتی ہے۔

یہ ادارہ اب تک 5524 طلبہ کو ساڑھے بارہ کروڑ روپے کے وظائف دے چکا ہے‘ وظائف حاصل کرنے والے طلباء میں 937 یتیم طلبہ اور 333 خصوصی طلبہ (نابینا‘ پولیو زدہ اور حادثات کی وجہ سے معذور) شامل ہیں‘ مالی اعانت حاصل کرنے والوں میں ایم بی بی ایس (ڈاکٹر) کے1314‘ بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے 51‘ فزیوتھراپی (ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ) کے 45‘ ڈی وی ایم (ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز) کے121‘ ڈی فارمیسی (ڈاکٹر آف فارمیسی) کے99‘ ایم ایس سی کے 135، ایم اے کے133‘ ایم کام کے 40‘ ایم بی اے کے 58‘ ایم پی اے کے 05‘ ایم فل کے 19‘ بی ایس سی انجینئرنگ کے1398‘ بی کام آنرز کے159‘ بی ایس آنرز کے 701‘ بی بی اے کے 61‘ اے سی سی اے کے 18‘ سی اے کے 04‘ بی ایس ایڈ‘ بی ایڈ کے 41‘ ایل ایل بی کے 14‘بی اے آنرز کے45‘ بی اے کے73‘ سی ایس ایس کا 01‘ بی ٹیک کے 23‘ ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے 161‘ ایف ایس سی کے 510‘ ایف اے کے 90‘ آئی کام کے 52‘ ڈی کام کے05‘ آئی سی ایس کے17 میٹرک اور انڈر میٹرک کے 131 طلبا و طالبات شامل ہیں۔

میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر اپنی زکوٰۃ‘ صدقہ اور فطرہ کاروان علم فاؤنڈیشن کو عطیہ کریں‘ آپ کی یہ عنایت بے شمار گھروں میں علم کے چراغ جلا دے گی‘ آپ اپنے عطیات میزان بینک کے اکاؤنٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروا سکتے ہیں۔ آپ67 کشمیر بلاک ‘علامہ اقبال ٹاؤن لاہورکے پتے اور ای میل info@kif.com.pk پرفاؤنڈیشن سے رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے موبائل نمبر 0321-8461122 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

جاوید چوہدری

لاہور کی یونیورسٹی کا اسٹیڈیم جنید جمشید سے منسوب

یونیورسٹی آف انیجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یوای ٹی) لاہور نے یونیورسٹی کے اسٹیڈیم کومرحوم نعت خواں جنید جمشید سے منسوب کر دیا۔ یو ای ٹی کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد کی صدارت میں شعبہ جات کے سربراہان کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں یونیورسٹی کے میکینیکل انجیینئرنگ کے سابق طالب علم جنید جمشید کو گلوکاری، مذہبی تعلیمات اور نعت خوانی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں متفقہ طور پر یونیوسٹی کے اسٹیڈیم کو ان کے نام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نوے کی دہائی میں مشہور گیت ‘دل دل پاکستان’ سے مقبولیت حاصل کرنے والے خوش گلو جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 661 کے ذریعے چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے قریب حادثے کے باعث جاں بحق ہوئے تھے۔

کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی

collector-appeals-asif-jah-ڈاکٹر آصف محمود جاہ جذبے، ولولے اور خدمت انسانی سے بھر پور انسا ن ہیں،
یہ ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں انھیں انسانیت تڑپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، یہ کسٹم جیسے طاقتور ادارے کے اعلیٰ افسر ہیں لیکن ان سے ملنے کے بعد انسان ان کی عاجزی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ کو سادگی اور والہانہ مسکراہٹ ان کے چہرے پرہر وقت نظر آئے گی، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کاخاندان قیام پاکستان کے بعد سرگودھا میں آ کر آباد ہو گیا۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ 1962ء میں سرگودھا شہر میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی، ایم بی بی ایس کا امتحان کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے پاس کیا، سی ایس ایس کیا، محکمہ کسٹم میں اسسٹنٹ کلکٹرکی حیثیت سے تعینات ہوئے،یہ 20 کتابوں کے مصنف ہیں، ان کی سب سے معروف کتاب ’’دواء، غذا اور شفاء‘‘ ہے اس کی ہزاروں کاپیاں بک چکی ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ کے نام سے سفر نامۂ حج بھی تحریر کیا ہے، یہ اب اِس کا انگریزی ترجمہ “Journey towards Allah” کے نام سے شایع کر رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کا اصل کمال ان کی انسانیت کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔

ڈاکٹر صاحب پچھلے 25 سال سے اپنے دفتری اوقات سے فراغت کے بعد مریضوں کامفت علاج کر رہے ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے 1991ء میں پہلا کلینک ملتان میں قائم کیا، یہ دفتری اوقات کے بعد مریضوں کو مفت چیک کیاکرتے تھے، 1997ء میں ان کی تعیناتی لاہور میں ہوئی توانھوں نے اپنے رہائشی علاقے میں غریبوں کے لیے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بنالی، یہ ڈسپنسری مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں شروع ہوئی، یہ نمازمغرب سے عشاء تک وہاں مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے ،جیسے جیسے لوگ شفایاب ہوتے گئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

ڈسپنسری کے ساتھ لیبارٹری قائم ہوئی تو مخیر حضرات مل گئے اور یوں کارواں بنتا چلاگیا، وہ ڈسپنسری جو 19 سال پہلے مسجد کے ایک کمرے سے شروع ہوئی تھی وہ اب کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی چیریٹی اسپتال بن چکی ہے اور اس میں ہر شعبے کے اسپیشلسٹ معالجین بیٹھتے ہیں اور مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے 1998ء میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پاکستان کے نام سے این جی او کی بنیاد رکھی، کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے جنوبی پنجاب اور چترال میں سیلاب زدگان کی بحالی کا کام بھی کیا اور2009ء میں بنوں میں شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی خدمت بھی کی۔

سوسائٹی نے اس کے علاوہ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلہ زدگان، 28 اکتوبر 2008ء کے زیارت کے زلزلے، 2010ء میں عطاء آباد جھیل، 2010-11ء کے خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے سیلاب، 2011ء کے سندھ کے سیلاب،2012ء کے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب، اپریل و ستمبر 2013ء کے ماشکیل اور آواران کے زلزلے، مارچ 2014ء کے سندھ کے قحط، ستمبر 2014ء کے پنجاب کے سیلاب، مئی 2015ء کے پشاور کے طوفان اور جنوبی پنجاب کے حالیہ سیلاب کے دوران اربوں روپے کی امدادی اشیاء تقسیم کیں، لاکھوں مریضوں کا علاج کیا اور 1050 سے زائد گھر اور 50 مساجد اور درجنوں اسکول بھی تعمیر کروائے، سوسائٹی چاروں صوبوں میں ہیلتھ کلینکس، اسکولز، کمیونٹی سینٹرز اورویلفیئر کے کئی دوسرے پراجیکٹس کامیابی سے چلا رہی ہے، سال 2012ء میں حج کے دوران کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے سیکڑوں ملکی اور غیر ملکی حاجیوں کا علاج بھی کیا۔

کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پچھلے دو سال سے تھر میں بھی مصروف عمل ہے، مارچ 2014ء میں تھر میں کام کا آغاز کیا اور یہ اب تک وہاں 200 کنوئیں بنا چکی ہے جن سے روزانہ ہزاروں انسان اور جانور سیراب ہو رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے ہم نے تھر میں بلاتخصیص رنگ و نسل اور مذہب کام کیا ہے، ہندوؤں کے گوٹھوں میں زیادہ کنوئیں بنوائے ہیں، جب بھی ریلیف کا سامان جاتا ہے تو ہندوؤں اور مسلمانوں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تھر میں پانی کی فراہمی کا کامیاب ذریعہ کنوئیں ہیں، ہم نے ان کنوؤں کی مستقل نگرانی کے لیے مقامی لوگوں کو ساتھ ملایا ہوا ہے، یہ ہر مہینے تمام کنوؤں کو چیک کر کے اس کی رپورٹ پیش کرتے ہیں اور جہاں خرابی ہو اس کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے، ڈاکٹر آصف نے انکشاف کیا ’’کچھ عرصہ قبل تھر کا چکر لگایا تو ایک گوٹھ میں اسکول کی عمارت دیکھی، استفسار پر پتہ چلا اسکول دو سال سے بند ہے، بچے پڑھنا چاہتے ہیں، 150 بچوں نے داخلہ لیا ہوا ہے مگر استاد پڑھانے کے لیے نہیں آتا، گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے۔

میں نے پورے گوٹھ سے لوگوں کو اکٹھا کیا، پوچھا آپ میں کوئی اُستاد ہے، ایک ریٹائرڈ استاد چار ہزار روپے مہینے پر پڑھانے کے لیے تیار ہو گیا یوں یہ اسکول اگلے دن شروع ہو گیا، پہلے دن 60 بچے آئے، ان کے لیے کتابوں اور اسٹیشنری کا بھی انتظام کر دیا گیا، اب یہ اسکول ’’لاہور تھرپارکر پرائمری اسکول‘‘ کے نام سے رجسٹرڈ ہو چکا ہے،، ڈاکٹر صاحب نے بتایا، چترال کی خوبصورت وادی بمبوریت جولائی 2015ء کے سیلاب سے متاثر ہوئی، ہماری ٹیمیں فوراً وہاں پہنچیں، سیلاب زدہ لوگوں کو امدادی سامان پہنچایا، ان کے لیے گھروں کی تعمیر شروع کروائی، بمبوریت میں ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی اور اس کے ساتھ ایک ڈسپنسری بنوائی، یہ ڈسپنسری ایک کیلاشی لڑکی چلا رہی ہے۔

یہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور ان کی این جی او کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پاکستان کی چند ناقابل فراموش خدمات ہیں، یہ بھی اگر ملک کے دیگر بیوروکریٹس کی طرح چاہتے تو اسٹیٹس انجوائے کر سکتے تھے، یہ فارغ وقت میں گالف کھیلتے یا سینئرز اور حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے منصوبے بناتے لیکن انھوں نے اپنے فارغ اوقات کو انسانیت کے لیے وقف کر دیا، یہ ایک جسم میں مختلف شخصیات لے کر پھر رہے ہیں مگر ان کی تمام ادبی، صحافتی اور ملازمانہ سرگرمیوں کے باوجود ان کی اصل پہچان اور شناخت ’’کسٹمز ہیلتھ کیئرسوسائٹی‘‘ ہے۔

حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں23 مارچ 2016ء کو انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا، ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم ان مصیبت زدہ علاقوں میں کام کرتی ہے جہاں حکومت بھی نہیں پہنچ پاتی یا جہاں حکومت ناکام ہو چکی ہے، یہ لوگ تھر کے ان ریگستانوں میں پانی، تعلیم اور صحت کا بندوبست کر رہے ہیں جہاں حکومت اربوں روپے کا بجٹ خرچ کرنے کے باوجود فلاپ ہو چکی ہے، کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے تحت اس وقت ملک میں 17 کلینکس، 8 اسکول اور 10 کمیونٹی سینٹرز چل رہے ہیں،ڈاکٹر آصف محمود جاہ ایک بڑا اسپتال اور غریبوں کے بچوں کے لیے ایک میڈیکل کالج بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

میں ہر سال رمضان میں اہل خیر اور درد دل رکھنے والے پاکستانیوں سے ایسے اداروں کے لیے عطیات کی درخواست کرتا ہوں جو دوسروں کی تکالیف کم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں،ہم میں سے ہر شخص اپنے لیے آسائشیں تلاش کر لیتا ہے لیکن حقیقی خوشی اسی وقت میسر آتی ہے جب آپ دوسروں کے لیے خوشیوں کا سامان کرتے ہیں، دوسروں کی خدمت اور مدد ہی حقیقی معنوں میں انسانیت ہے، جن افراد کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ دولت سے نوازا ہے میں انھیں دعوت دیتا ہوں وہ بھی آگے بڑھیں اور کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے پلیٹ فارم پر دکھی اور مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کے لیے دل کھول کر عطیات جمع کروائیں۔

عطیات دینے کے لیے کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی اکاؤنٹ نمبر 4011311614 برانچ کوڈ 1887 ہے ۔ IBAN:76NBPA1887004011311614 ہے جب کہ Swift Code NBPAPKKA02L ہے۔ نیشنل بینک آف پاکستان مون مارکیٹ برانچ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور،آپ مزید معلومات کے لیے 0333-4242691،042-37801243 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

جاوید چوہدری

Ayan Qureshi

Ayan Qureshi (born 24 November 2009) is a young Pakistani born British computer technician from Coventry, England.

Biography

Qureshi is the youngest[1] Microsoft Certified Professional after successfully passing the standard examination procedures for the certification at Birmingham City University Center on 27 September 2014, at age of 5 years and 11 months.[2]He beat the record previously held by Mehroz Yawar from Pakistan, who passed the Microsoft Certified Professional exam at age six and a half.[3]

Personal life

Qureshi was born in Lahore, Pakistan.[3] and his family moved to England from Pakistan on 24 November 2009. He has his own computer lab at his home in Coventry, containing a computer network which he built, and spends roughly two hours a day learning about the Microsoft Operating systems. His mother, Mamoona, is training to be a general practitioner.[1]

Tariq Aziz

About Tariq Aziz

Tariq Aziz (born April 28, 1936) is a Pakistani television host known for his work on the general-knowledge quiz show Neelam Ghar, later renamed the Tariq Aziz Show and now known as Bazm-e-Tariq Aziz. Neelam Ghar first aired in 1975. Aziz received his early education in Sahiwal before starting his career at Radio Pakistan Lahore. When Pakistan started its Television telecast in 1964 from Lahore, Aziz was the first male PTV announcer. He was the first man to be seen on a Pakistan television (PTV) broadcast. Aziz, along with Zeba, starred in “Insaniyat”, a Pakistani film. Aziz also starred in another Pakistani film “Haar Gaya Insaan”. Aziz has appeared on several local television programs and morning shows. He has also organized telethons for charity purposes. In 1996, Aziz was elected to the National Assembly from Lahore as a member of the Pakistan Muslim League (N)[1]

Entertainment career

Tariq Aziz started his career from Radio Pakistan. He was member of the very first team of Pakistan Television (PTV) when it started its transmission in November 1964 from Lahore. He was the first newscaster on PTV. He also acted in number of Pakistani films in late 60s and 70s in side-roles. One of his famous movies was Saalgirah. He was one of the first anchors to gain commercial success by using the platform of Neelam Ghar/Tariq Aziz Show. He interviewed many notable intellectuals, sportsperson and celebrities.

Political career

Aziz is an orator par excellence. He mesmerised crowds with his beautiful language and complimented with exemplary memory of poetry. He was active in student politics and had joined Zulfiqar Ali Bhutto’s Pakistan Peoples Party in 1970. However, later he parted his ways and went back to glamour world. In 1996, he was elected member of Pakistan National Assembly from Lahore. He has been part of political activists who were charged of attacking Supreme Court of Pakistan in 1997. During President Pervez Musharraf time, he joined Pakistan Muslim League (Q). However he could not attain any status of note and returned to the entertainment industry. However this time his career in entertainment industry could not reach the high of 60s, 70s and 80s.
Aziz is a philanthropist, book-lover and also did well in poetry. His dedication to the country and legendary contributions to entertainment industry is well respected and well known. He has also received numerous awards including the Presidential Pride of Performance Award.

Mustansar Hussain Tarar

Mustansar Hussain Tarar1
Mustansar Hussain Tarar is a Pakistani author, actor,[1] former radio show host, and compere.

Early life

Mustansar Hussain Tarar was born at Lahore in 1939. As a young boy he witnessed the independence of Pakistan in 1947 and the events that took place at Lahore(one of the major cities of Pakistan). (The events of independence as like the migration of Muslims from India to Pakistan and vice versa) His father, Rehmat Khan Tarar, operated a small seed store by the name of “Kisan & co” that developed to become a major business in that sphere.
Tarar was educated at Rang Mehal Mission High School and Muslim Model High School, both in Lahore. He did further studies at the Government College, Lahore and in London. While abroad he spent much of his time in watching movies, doing theater[clarification needed] and reading books. In 1957, he attended the World Youth Festival in Moscow and wrote a book named Fakhta (Dove)[when?] which was based on that experience.

Career

His first book was Nikley Teri Talaash Main, dedicated to his youngest brother,Mobashir Hussain Tarar, a travelogue of Europe published in 1971. This followed a period during which he travelled in seventeen European countries, and it led to new trend in Urdu literature. As Safar Nama, (travelogue) he has so far over forty titles to his credit. These span many genres, including travelogues, novels, short stories and collections of his newspaper columns and television dramas.
He also became a television actor and from 1988 was for many years a host of PTV’s live morning transmission Subuh Bakhair (Good Morning). His unconventional and down-to-earth style of comparing earned him great popularity among people from all circles of life. He is one of the most recognized personality among children as he spent a big part of transmission time addressing exclusively children. He called himself the cha cha jee (paternal uncle) of all Pakistani children and soon became known by this title.Tarar has been an active mountaineer for many years. and has been to the base camp of K2 and the Chitti Buoi Glacier (translated as a glacier with large crevasses). He has gained respect among the Pakistani mountaineering community.Mustansar Hussain Tarar2

Columns and books

Currently[when?] he writes a weekly column for Akhbar-e-Jahan, he also writes a fortnightly column for the English language daily Dawn and columns for the Urdu language Daily Aaj. He is currently writing a column in Daily Jinnah (Urdu Daily).
His novel Raakh was nominated as one of the best in the history of sub-continent South-Asia. His books include:
  • Andulus Mayn Ajnabi (اندلس میں اجنبی) (Stranger in Spain) (ISBN
    No:9693515471, Publisher:SMP, Language:URDU, Category: SAFAR NAMA
Year: 2009) First published in 1972
  • Bahhao (بہاؤ) (Flow)
  • Bay Izti Kharab (بے عزتی خراب) (Insulting dishonor) – This phrase is
    deliberately wrong and commonly used this way in local communities,
    thus the book name.
  • Berfeeli Bulandiyan (برفیلی بلندیاں) (Snowy Heights)
  • Carvan Sarai (کارواں سرایےؑ) (Caravan Motel)
  • CHIK CHUK (چک چک) (Remove the curtain)
  • CHITRAL DASTAAN (چترال داستان) (Chitral Tale)
  • Dais Huwaa Perdais (دیس ھٗوے پردیس) (Homeland becomes foreign land)
  • Deosai (دیوسائی) First published 2003
  • Dakia aur Jolaha (ڈاکیا اور جولاھا) (Postman and cloth-maker)
  • Gadhay Hamaray Bhai Hain (گدھے ھمارے بھایی ھیں) (Donkeys are our brothers)
  • Ghar-e-Hira mien ek Raat (a night in cave Hira)
  • Guzara Naheen Hota (گزارا نھی ھوتا) (Hard to get by)
  • Gypsi (جپسی)
  • Hazaron Hain Shikway (ھزاروں ھیں شکوے) (Have thousands of complaints)
  • Hazaron Raastay (ھزاروں راستے) (Thousands of paths)
  • Hunza Dastaan (ھنزھ داستان) (Hunza Tale)
  • K-2 Kahani (کے ٹو کھانی) (K2 Story) First published 1994
  • Kaalaash (کالاش)Kafiristan.
  • Khana Badosh (خانھ بدوش) (Gypsi) First published in 1983
  • Moorat (مورت) (Idol)
  • Moscow ki Sufaid Raatein.ماسکو کی سفید راتیں ( white nights of moscow)
  • Mun Wal Kabbey Shariff (منھ ول کعبے شریف دے) (Face towards Qibla)[Experience of performing HAJJ] First published 2006
  • Nanga Parbat (نانگاپربت) (named after the mountain)
  • Nepal Nagri (نیپال نگری) (Land of Nepal) First published 1999
  • Niklay Teri Talash Main (نکلے تیری تلاش میں) (Out in your search)
  • Pakhairoo (پکھیرو) (Birds)
  • Parinday (پرندے) (Birds)
  • Parwaz (پرواز) (Flight)
  • Payar Ka Pehla Shehr (پیار کا پھلا شھر) (Love’s first city)
  • Putli Peking Ki (پتلی پیکنگ کی) (Monument from Peking) First published 2009
  • Qilaa Jangi (قلعھ جنگی) (Fortified war)
  • Qurbat-e-Merg Main Mohabbat (قربت مرگ میں محبت) (Love in the vicinity of death)
  • Raakh (راکھ) (Ash)
  • Ratti Gali First published 2005
  • Safar Shumal Kay (سفر شمال کے) (Travels of the north) First published 1991
  • Shamshaal Baimesaal (شمشھال بیمثال) (Extraordinary Shamshaal) First published 2000
  • Shehpar (شھپر) (Wings)
  • Shuter Murgh Riasat (شتر مرغ ریاست) (Ostrich State)
  • Snow Lake (سنو لیک) First published 2000
  • Sunehri Ullo Ka Shaher (سنھری الو کا شھر) (The city of golden owl)
  • Yaak Saraey (یاک سرایے) (Yaak Inn) First published 1997
  • Ghar e Hira main aik rat(A night in cave Hira)
  • khas-o-khashak zamane (Novel)
  • Alaska Highway – (ISBN 9693524446 Publisher: SMP Language: URDU Subject: TRAVELOGUE Year: 2011)

Drama

He is also the author of many famous drama series for PTV.
  • Hazaron Raastey (Thousands of Paths)
  • Parinda (Bird)
  • Shehpar
  • Sooraj Ke Sath Sath (Along with Sun)
  • Kelash (Name of a tribe)
  • Freb (illusion)

Travelogue

His most recent appearance on TV was Safar Hai Shart a travelogue show on Express TV. It covers his recent endeavor to Raka Poshi base camp.

Sadequain

Syed Sadequain Ahmed Naqvi

also often referred to as Sadequain Naqqash, was a world-renowned Pakistani artist, best known for his skills as a calligrapher and a painter. He is considered as one of the finest painters and calligraphers Pakistan has ever produced.

Personal life

Sadequain was born in June 1923, descending from a family of calligraphers. In late 1940s he joined the Progressive Writers and Artists Movement. His true talent was discovered by Huseyn Shaheed Suhrawardy who brought Sadequain into the limelight[4] He also spent some time in Paris augmenting his skills. Sadequain received much praise for his calligraphic style, which is widely considered iconic by many critics of South Asian art.[6]

Speaker of truth

In an interview he said, “People ask why I don’t paint flowers, butterflies and landscapes? I tell them that I seek the truth and I am after reality. I am not inspired by someone posing against the backdrop of roses in a vase or pink curtains. What inspires me is a person who has gone hungry for hours and is struggling for survival. The expression that lights his face at the end of the day when he has finally found some scraps, that is what touches me. I am a painter of the expression of reality.”[citation needed] Self-proclaimed “Faqir,” Sadequain was outside society’s worldly greed or hypocrisy and called himself “speaker of truth.”Best known for his calligraphies, Sadequain painted abstracts, drawings, and sketches on thousands of canvases, volumes of paper, and multitudes of other conventional and unconventional materials.

Renaissance of Islamic calligraphy

Sadequain was responsible for the renaissance of Islamic calligraphy in Pakistan. He was one of the greatest calligraphers of our time and helped transform the art of calligraphy into serious expressionist paintings. He claimed that his transformation into a calligrapher was manifested by divine inspiration. He did not follow the tradition and created his own style of script. His alphabets exude motion, mood, and paint vivid pictures of the message of the word. Sadequain claimed that many of his paintings especially after the seventies had been based on calligraphic forms to portray images of cities, buildings, forests, men, and women. In Pakistan, the art of calligraphy was relegated to a second-class status until Sadequain adapted this medium in the late nineteen sixties. Until then a few painters experimented with the medium but it remained as just that, an experiment. After Sadequain transformed the art of calligraphy into a mainstream art form, most of the known Pakistani artists have followed Sadequain and calligraphic art now dominates the art scene.

True artist

Many painters have emulated Sadequain openly and widely and even the copies fetch large sums for the copiers, an irony since Sadequain himself hardly ever sold his paintings in spite of offers from the royals and the common public. In a recent auction in a London auction house one of his painting was sold for $108,000. His masterpiece rendition of “Sureh-e-Rehman” has inspired many known painters of the modern era and it can even be found adorning the facades of many houses in Karachi in exacting resemblance of Sadequain’s signature script.
In nineteen sixties Sadequain was invited by the French authorities to illustrate the award winning novel “The Stranger” by French writer Albert Camus. Sadequain also illustrated on canvas the poetry of Ghalib, Iqbal and Faiz as homage to their place in classical literature. Sadequain wrote thousands of quartets, which address a common theme of social and cultural dogmas and published them. A special word is warranted about the large murals Sadequain painted, which are spread all over the subcontinent. His murals depict man’s struggle, his achievements and persistent thirst to discover his endless potential. His murals are full of activity, ideas, and they read like an unfolding story about their particular theme.
One of his most powerful works is the gigantic mural measuring 200’x30′ for the Power House of Mangla Dam. He completed it in an incredible period of three months during which he worked day and night. Aptly so, the mural is titled “The Saga of Labor,” The mural, one of the largest in the world portrays the history of mankind. Its pays homage to its characters, which are exclusively labourers and worker, facing and struggling against the powerful elements of the nature. Sadequain was a social commentator. He crafted his message on canvas by the aid of powerful symbols and rich colours. Characteristically he would address particular situations through a series of paintings, which would follow a common theme and yet maintain their individuality. His symbols transformed with time as he adapted to the changing conditions.

His works

During nineteen sixties he stayed in interior Sindh in areas surrounded by desert where nothing could grow except cactus which would break through the rugged sandy ground. The sight of the wild cactus growing in scorching heat and surviving the harshest of conditions left a lasting impression on Sadequain. He adapted this symbol to depict labour, struggle, and persistence against natural elements of resistance and triumph of hard work.
Sadequain sketched numerous drawings titled Cobweb Series, Crow Series, Christ Series, Hope Series, and Sun Series during sixties, which were commentaries on prevailing social and cultural conditions. Sadequain saw cobwebs engulfing our society rendering it speechless and motionless. The Crow Series projected men as timid worshippers of scarecrows because they have lost self-respect and spirituality. Crows however are not intimidated and gang up on humanity in flocks and pick on lifeless humans. In the Christ Series Sadequain showed the crime being committed in front of the Christ while he was still alive on the Cross.
Contrary to man’s images portrayed in Cobweb or Crow Series of drawings, Sadequain glorified the hard work and labour of ordinary workingmen by showing them struggling with primitive tools during the stone age, developing agricultural land, discovering scientific breakthroughs, and exploring the universe. He sometime used Kufic script to form human images and carried that theme through vast canvases. One of the representative works of this genre is titled “The Last Supper,” which was awarded the prestigious Binnale de Paris award in France. Sadequain was awarded first prize in National Exhibition of Pakistan in early sixties. He was bestowed with several awards and medals in Pakistan as well as foreign counties. But he seldom attended the award ceremonies neither accepted the award money.
Sadequain had commanding knowledge of literature. He wrote thousands of “Rubaiyats,” which he published in several books. These verses have been adjudged unique and critically acclaimed by literary elite. Like his paintings, the verses also address the topics of human nature, virtues and weaknesses of society. During his life Sadequain exhibited his works on all continents. His exhibitions in foreign countries were sponsored at State levels and were attended by large audiences of all walks of life. A “faqir” at heart he gave away most of his paintings to friends and foes, and painted gigantic murals in public buildings at no cost. He declared the giveaways as gifts to the citizens of the cities where the public building were situated.
Sadequain has been covered in the print and electronic media extensively such as the TV series “Mojeeza-e-Fun” which highlighted his work in a masterful documentary. “The Holy Sinner” is a book published in 2003, cataloguing a number of his paintings, which were exhibited at Mohatta Palace, Karachi during the same year. The massive book is one of the largest and heaviest ever published in Pakistan and it also has a collection of articles about Sadequain published previously in magazines and papers over the course of years.

Prominent works

  • Lithographic illustration of L’Étranger by Albert Camus, 1965
  • Illustrations of the classical urdu literature, especially the poetry of Ghalib, Iqbal and Faiz on canvas.
  • Painting, Aftaab-e-Taaza, illustration of lines by Allama Iqbal, 9 by 6 feet (1.8 m) – located in Pakistan’s Unicorn Gallery.

Amjad Islam Amjad

Amjad Islam Amjad2Amjad Islam Amjad, is an Urdu poet, drama writer and lyricist from Pakistan. He has received many awards for his literary work and screenplay for TV, including Pride of Performance and Sitara-e-Imtiaz.

Biography

Amjad was born in Lahore in British India, now in Pakistan. His family originally belonged to Sialkot. He received his secondary education in Lahore, and graduated from Government Islamia College Civil Lines, Lahore. He qualified for Masters of Arts degree in Urdu literature from Punjab University. He began his career as a lecturer in M.A.O College Lahore. He worked as a director at Pakistan Television Corporation from 1975 to 1979, before returning to teaching.
In 1989, Amjad was appointed as Director General of Urdu Science Board. He has also worked as a project director of the Children Library Complex.[1][3] Amjad is the writer of many drama series for Pakistan Television Corporation including Waris. He has written many columns, translation, criticism and essays while his main focus remained writing Nazms, a type of Urdu poetry. Among his most notable dramas are Waris, Dehleez, Samandar, Raat, Waqt and Apnay Loug. Amjad Islam Amjad is very keen writer of express news chennel of Pakistan. In June 2008, he joined Urdu newspaper Daily Express and writes column with the title of “Chasham-e-Tamasha”.Amjad Islam Amjad1

Awards

  • Pride of Performance
  • Sitara-e-Imtiaz
  • 16 Graduate Awards
  • 12 PTV Awards for the best writer

Bibliography

  • Fishar
  • Barzakh
  • Us par
  • Satwan dar
  • Zara phir say kehna
  • Seher aasar
  • Barish ke aawaz
  • Itnay khwab kahan rakhoon
  • Mairay bhe hain kuch khwab
  • Hum us kay hain.

Ashfaq Ahmed

 

Ashfaq Ahmed  22 August 1925 – 7 September 2004) was a writer, playwright and broadcaster from Pakistan. He authored several books in Urdu. His works included novels, short stories and plays for television and radio.[5] He was awarded President’s Pride of Performance and Sitara-i-Imtiaz for meritorious services in the field of literature and broadcasting.

Early life

Ahmed was born on 22 August 1925 in Firozpur, British India. He obtained his early education in his native district of Muktsar. Shortly before independence in 1947, he migrated to Pakistan and settled in Lahore, Punjab.[10] He completed his Masters in Urdu literature from Government College Lahore. Bano Qudsia, his wife and companion in Urdu literary circles, was his classmate at Government College.

Education

After Partition, when Ahmed arrived at the Walton refugee camp with millions of other migrants, he used to make announcements on a megaphone around the clock. Later, he got a job in Radio Azad Kashmir, which was established on a truck that used to drive around in various parts of Kashmir. He then got lectureship at Dayal Singh College, Lahore for two years. Whereafter, he went to Rome to join Radio Rome as an Urdu newscaster.[11] He also used to teach Urdu at Rome university. During his stay in Europe, he received diplomas in the Italian and French languages from the University of Rome and University of Grenoble, France. He also earned a special training diploma in radio broadcasting from New York University.

Career

He started writing stories in his childhood, which were published in Phool [Flower] magazine. After returning to Pakistan from Europe, he took out his own monthly literary magazine, Dastaango [Story Teller], and joined Radio Pakistan as a script writer. He was made editor of the popular Urdu weekly, Lail-o-Nahar [Day and Night], in place of famous poet Sufi Ghulam Mustafa Tabassum by the Government of Pakistan.
In 1962, Ahmed started his popular radio program, Talqeen Shah [The Preacher] which made him immensely popular among the people in towns and villages.[12] He was appointed director of the Markazi Urdu Board in 1966, which was later renamed as Urdu Science Board, a post he held for 29 years.[10] He remained with the board until 1979. He also served as adviser in the Education Ministry during Zia-ul-Haq’s regime.[3] In the 1960s, he produced a feature film, Dhoop aur Saie [Shadows and Sunshine], which was not very successful at the box office.

Mohammad Yousuf

Muhammad Yousaf2Mohammad Yousuf  formerly Yousuf Youhana, یوسف یوحنا; born 27 August 1974) is a Pakistani right-handed batsman. Prior to his conversion to Islam in 2005, Yousuf was one of only a few Christians to play for the Pakistan cricket team. Yousuf was effectively banned from playing international cricket for Pakistan, for an indefinite period by the Pakistan Cricket Board on 10 March 2010, following an inquiry into the team’s defeat during the tour of Australia.  An official statement was released by the Pakistan Cricket Board, saying that he would not be selected again on the grounds of inciting infighting within the team.[1]On 29 March 2010, Yousuf announced his retirement from all forms of international cricket,[2] a direct reaction to the indefinite ban handed out to him by PCB. However following Pakistan’s disastrous first Test against England in July/August 2010, PCB decided to ask Yousuf to come out of retirement.[3]

Early life

Yousuf was born in Lahore, Punjab, Pakistan to a family who had converted from a Hindu low caste Balmiki to Christianity. His father Youhana Maseeh worked at the railway station, the family lived in the nearby Railway Colony. As a boy, he couldn’t afford a bat and so swatted his brother’s taped tennis ball offerings with wooden planks of various dimensions on surfaces masquerading as roads. As a 12-year-old, he was spotted by the Golden Gymkhana, though even then only circumstances dictated his ambitions and never thought of playing cricket, to make a living. He joined Lahore’s Forman Christian College and continued playing until suddenly giving up in early 1994. Muhammad Yousaf1For a time he tried his luck driving rickshaws in Bahawalpur.
Yousuf, hailing from poor background, was plucked from the obscurity of a tailor’s shop in the slums of the eastern city of Lahore to play a local match in the 1990s. His well-crafted shots attracted attention and he rose through the ranks to become one of Pakistan’s best batsmen. He was set to work at a tailor’s when he was pulled back by a local club was short of players. They called him to make up numbers and made a hundred which led to a season in the Bradford Cricket League, with Bowling Old Lane, and a path back into the game.[5]

Conversion to Islam

Until his conversion to Islam in 2005, Yousuf was the fourth Christian (and fifth non-Muslim overall) to play for the Pakistan cricket team, following in the footsteps of Wallis Mathias, Antao D’Souza and the Anglo-Pakistani Duncan Sharpe. He also has the distinction of being the first and so far only non-Muslim to captain the country, leading the team in the 2004–05 tour of Australia where he scored a century in the Boxing Day Test at the Melbourne Cricket Ground. He converted to Islam after attending regular preaching sessions of the Tablighi Jamaat, Pakistan’s largest non-political religious grouping, whose preachers include Yousuf’s former team-mate Saeed Anwar and his brother.
His wife Tania converted along with him and adopted the Islamic name Fatima. However, the news was kept private for three months due to family reasons, before his announcement of their conversion publicly in September 2005.[8][9] “I don’t want to give Yousuf my name after what he has done”, his mother was quoted as saying by the Daily Times newspaper. “We came to know about his decision when he offered Friday prayers at a local mosque. It was a shock”, his mother was reported as saying. However, Yousuf told the BBC that “I cannot tell you what a great feeling it is.”[10] As part of his conversion, Yousuf officially changed his name from Yousuf Youhana to Mohammad Yousuf. Former Pakistan cricketer and sports commentator Rameez Raja, who himself is Muslim, acknowledged the significance of Yousuf’s new faith: “Religion has played an integral part in his growth not just as a cricketer but as a person.”