کاروان علم فائونڈیشن پر مہربانی کریں

زہرہ نواز کے والد آرمی میں سپاہی تھے‘وہ کراچی میں تعینات تھے‘ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے کراچی میں گھر بنا لیا‘ زہرہ کا ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹی بہن تھی‘ اللہ نے تینوں کو ذہانت اور قابلیت سے نواز رکھا تھا‘حالات معمول پر چل رہے تھے کہ محمد نواز کے مزاج میں تبدیلیاں آنے لگیں‘ انھوں نے ایک دن گاؤں واپس جانے کا اعلان کر دیا‘ بیوی نے بچوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا لیکن بے فائدہ‘خوشحال گھرانے میں لڑائی جھگڑے معمول بن گئے‘ بات مار کٹائی تک پہنچ گئی‘ زہرہ نے ان دنوں ایف ایس سی پارٹ ون کے امتحانات دینے تھے لیکن اس کے والد نے اسے کمرے میں بند کر دیا‘ بھائی نے مداخلت کر کے بہن کے پیپر دلوائے جس پر باپ بیٹے کا بھی دشمن ہو گیا۔

بالآخر باپ گھر بیچ کر آبائی گاؤں چلا گیا‘ وہاں اس نے دوسری شادی کر لی اور زہرہ کی والدہ کو طلاق دے دی‘ والدہ بچوں کو لے کرلاہور آ گئی‘ اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا‘ بھائی نے ایف اے کے بعد تعلیم چھوڑ دی اور نوکری شروع کر دی‘ خود زہرہ نے ٹیوشن پڑھانا شروع کردی لیکن وہ کوشش کے باوجود اتنی رقم جمع نہ کر سکی کہ ایف ایس سی پارٹ ٹو میں داخلہ لے سکتی‘ سال اول میں اس نے بہت اچھے نمبرحاصل کیے تھے‘ وہ صبح چھ بجے سے رات نو بجے تک مختلف کلاسز کے بچوں کو پڑھاتی تھی‘ایک سال ضایع ہونے کے بعد اس نے سیکنڈ ائیر میں داخلہ لیا‘معاشی دباؤ اور ٹیوشن پڑھانے کی وجہ سے اس کے سیکنڈ ائیر میں خاطر خواہ نمبر نہ آ سکے جس کی وجہ سے اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ اس نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا اور یوں اس کا مزید ایک سال ضایع ہو گیا۔

اگلے سال اس نے دوبارہ انٹری ٹیسٹ دیا اور اس کا نام آرمی میڈیکل کالج میںویٹنگ لسٹ میں آ گیا‘ زہرہ کو آرمی میڈیکل کالج سے ایڈمیشن کال آئی تو فیملی کے پاس راولپنڈی جانے کے لیے اخراجات بھی نہیں تھے‘ ڈاکٹر شاہد صدیقی (موجودہ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی) کی بیگم کے زہرہ کی والدہ سے بہنوں جیسے تعلقات تھے‘ انھوں نے زہرہ کے ابتدائی اخراجات اورفیس ادا کر دی‘ آرمی میڈیکل کالج میں کلاسز جاری تھیں لیکن زہرہ کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ آیندہ کے تعلیمی اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘اس نے کئی فلاحی اداروں اور مخیر حضرات سے رابطہ کیا لیکن کہیں سے مثبت جواب نہ ملا‘ اس نے آخر میں کاروان علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا اور اسے اسکالرشپ ملنا شروع ہو گیا‘ زہرہ نے ڈینٹل ڈاکٹر کی تعلیم مکمل کی اور یہ آج نہ صرف اپنے خاندان کو سپورٹ کر رہی ہے بلکہ یہ اسپیشلائزیشن کے اخراجات بھی خود ادا کر رہی ہے۔

دوسری کہانی محمد افضل اور ان کی بیگم کشور سلطانہ کی ہے‘ یہ دونوں گوجرانوالہ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ان دونوں نے عزم و ہمت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں سب سے پہلے اولاد نرینہ دی‘ بیٹے کا نام عمیر افضل رکھا گیا‘عمیر پیدائشی نابینا تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں بیٹی عمارہ افضل پیدا ہوئی‘وہ بھی پیدائشی نابینا تھی‘ غریب میاں بیوی دوسری اولاد بھی نابینا ہونے پر آبدیدہ ہو گئے لیکن لبوں پر شکوہ نہ لائے‘ اس کے بعد اللہ تعالی نے انھیں دوسرے بیٹے زبیر سے نوازا لیکن زبیر کو بھی قدرت نے بینائی سے محروم رکھا‘ ہر والدین کی طرح محمد افضل اورکشور سلطانہ کی خواہش بھی تندرست اولاد کی تھی لیکن قدرت کو یہ منظور نہیں تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں آنسہ افضل کی پیدائش ہوئی‘ یہ بچی ریڑھ کی ہڈی کے ٹیڑھے پن کے ساتھ دنیا میں آئی‘محمد افضل اور اس کی بیوی کے پاس دو آپشن تھے۔

یہ اپنے بچوں کو فقیر بنا دیتے یا پھر انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتے‘ میاں بیوی دوسرے آپشن پر چلے گئے‘ انھوں نے معذور بچوں کو علم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا‘محمد افضل محنت مزدوری کر کے گھر کا چولہا چلاتا رہا جب کہ کشور سلطانہ نے خود کو چار معذور بچوں کی پرورش اور تعلیم کے لیے وقف کر دیا‘ زندگی کی گاڑی آگے بڑھتی گئی‘جب عمیر افضل نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو میاں بیوی نے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے لاہور شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا‘ محمد افضل نے لاہور میں کریانے کی دکان کھول لی‘ دکان کی آمدن سے بمشکل گھر کا چولہا جلتا تھا ‘بچوں کی تعلیم‘ آمدورفت اور علاج معالجے کے لیے سخت مالی مشکلات نے حوصلے آزمانا شروع کر دیے۔

ایک دن کشور سلطانہ نے نماز کے بعد بھیگی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی‘اسی شام انھیں ایک جاننے والے کی معرفت کاروان علم فاؤنڈیشن کے بارے میں علم ہوا‘ کشورسلطانہ درخواست لے کر کاروان علم فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچی‘ فاؤنڈیشن نے چاروں بچوں کی ذمے داری اٹھا لی‘ کاروان علم فاؤنڈیشن کے تعاون سے عمیر افضل نے گریجوایشن‘ عمارہ افضل نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ایم فل‘ آنسہ افضل نے کنیئرڈ کالج سے بی اے آنرز اور زبیرافضل نے گریجوایشن تک تعلیم حاصل کی‘ آج یہ چاروں بچے معذور ہونے کے باوجود معاشرے کے فعال شہری ہیں۔

کاروان علم فاؤنڈیشن پندرہ سال سے طلبہ کو وظائف جاری کررہی ہے‘ فاؤنڈیشن کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیل چکا ہے‘ آج پاکستان کی کوئی یونیورسٹی‘ میڈیکل کالج‘ انجینئرنگ یونیورسٹی یا کالج ایسا نہیں جہاں فاؤنڈیشن کے تعاون سے طلبہ تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف جاری کرنے کے حوالے سے بہت سے قابل ستائش اقدامات کیے‘ ادارے کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لیے سارا سال کھلے رہتے ہیں‘ طلبہ کو تعلیم کے دوران جس مرحلے پر بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن ان کی مدد کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف کا سلسلہ اتنا باوقار بنا رکھا ہے کہ کسی مرحلے پر طالب علموں کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی‘ ہر طالب علم کی درخواست کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے اور ہر طالب علم کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وظائف جاری کیے جاتے ہیں۔

فاؤنڈیشن درخواست گزار طلبہ کو سالانہ فیس‘ سمیسٹر فیس‘ کرایہ ہاسٹل‘ ماہوار خرچ‘ طعام‘ کتب اور کرایہ آمدورفت تک ادا کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن زیر کفالت طلبہ کی بیوہ ماؤں اور ضعیف والدین کو گھریلو اخراجات کے لیے بھی وظائف دیتی ہے تاکہ طلبہ مکمل اطمینان اور یکسوئی سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن جب کسی کو وظیفہ جاری کرتی ہے تو یہ اس کی سرپرست بن جاتی ہے‘ یہ پورا سال طالب علم کی کارکردگی کا جائزہ لیتی رہتی ہے‘ یہ ہر ضرورت کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے دستیاب رہتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن غریب طبقہ کے لوگوں کو ضروریات کے لیے زکوٰۃ اور عطیات کی رقم فراہم کرنے کے بجائے اس رقم سے ان کے بچوں کو علم و ہنر سے آراستہ کرتی ہے تا کہ یہ مستقل طور پر خاندان کا سہارا بن سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن یتیم اور خصوصی طلبہ کو ترجیہی بنیادوں پر وظائف جاری کرتی ہے۔

یہ ادارہ اب تک 5524 طلبہ کو ساڑھے بارہ کروڑ روپے کے وظائف دے چکا ہے‘ وظائف حاصل کرنے والے طلباء میں 937 یتیم طلبہ اور 333 خصوصی طلبہ (نابینا‘ پولیو زدہ اور حادثات کی وجہ سے معذور) شامل ہیں‘ مالی اعانت حاصل کرنے والوں میں ایم بی بی ایس (ڈاکٹر) کے1314‘ بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے 51‘ فزیوتھراپی (ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ) کے 45‘ ڈی وی ایم (ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز) کے121‘ ڈی فارمیسی (ڈاکٹر آف فارمیسی) کے99‘ ایم ایس سی کے 135، ایم اے کے133‘ ایم کام کے 40‘ ایم بی اے کے 58‘ ایم پی اے کے 05‘ ایم فل کے 19‘ بی ایس سی انجینئرنگ کے1398‘ بی کام آنرز کے159‘ بی ایس آنرز کے 701‘ بی بی اے کے 61‘ اے سی سی اے کے 18‘ سی اے کے 04‘ بی ایس ایڈ‘ بی ایڈ کے 41‘ ایل ایل بی کے 14‘بی اے آنرز کے45‘ بی اے کے73‘ سی ایس ایس کا 01‘ بی ٹیک کے 23‘ ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے 161‘ ایف ایس سی کے 510‘ ایف اے کے 90‘ آئی کام کے 52‘ ڈی کام کے05‘ آئی سی ایس کے17 میٹرک اور انڈر میٹرک کے 131 طلبا و طالبات شامل ہیں۔

میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر اپنی زکوٰۃ‘ صدقہ اور فطرہ کاروان علم فاؤنڈیشن کو عطیہ کریں‘ آپ کی یہ عنایت بے شمار گھروں میں علم کے چراغ جلا دے گی‘ آپ اپنے عطیات میزان بینک کے اکاؤنٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروا سکتے ہیں۔ آپ67 کشمیر بلاک ‘علامہ اقبال ٹاؤن لاہورکے پتے اور ای میل info@kif.com.pk پرفاؤنڈیشن سے رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے موبائل نمبر 0321-8461122 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

جاوید چوہدری

Advertisements

کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی

collector-appeals-asif-jah-ڈاکٹر آصف محمود جاہ جذبے، ولولے اور خدمت انسانی سے بھر پور انسا ن ہیں،
یہ ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں انھیں انسانیت تڑپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، یہ کسٹم جیسے طاقتور ادارے کے اعلیٰ افسر ہیں لیکن ان سے ملنے کے بعد انسان ان کی عاجزی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ کو سادگی اور والہانہ مسکراہٹ ان کے چہرے پرہر وقت نظر آئے گی، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کاخاندان قیام پاکستان کے بعد سرگودھا میں آ کر آباد ہو گیا۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ 1962ء میں سرگودھا شہر میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی، ایم بی بی ایس کا امتحان کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے پاس کیا، سی ایس ایس کیا، محکمہ کسٹم میں اسسٹنٹ کلکٹرکی حیثیت سے تعینات ہوئے،یہ 20 کتابوں کے مصنف ہیں، ان کی سب سے معروف کتاب ’’دواء، غذا اور شفاء‘‘ ہے اس کی ہزاروں کاپیاں بک چکی ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ’’اللہ، کعبہ اور بندہ‘‘ کے نام سے سفر نامۂ حج بھی تحریر کیا ہے، یہ اب اِس کا انگریزی ترجمہ “Journey towards Allah” کے نام سے شایع کر رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کا اصل کمال ان کی انسانیت کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔

ڈاکٹر صاحب پچھلے 25 سال سے اپنے دفتری اوقات سے فراغت کے بعد مریضوں کامفت علاج کر رہے ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے 1991ء میں پہلا کلینک ملتان میں قائم کیا، یہ دفتری اوقات کے بعد مریضوں کو مفت چیک کیاکرتے تھے، 1997ء میں ان کی تعیناتی لاہور میں ہوئی توانھوں نے اپنے رہائشی علاقے میں غریبوں کے لیے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بنالی، یہ ڈسپنسری مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں شروع ہوئی، یہ نمازمغرب سے عشاء تک وہاں مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے ،جیسے جیسے لوگ شفایاب ہوتے گئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

ڈسپنسری کے ساتھ لیبارٹری قائم ہوئی تو مخیر حضرات مل گئے اور یوں کارواں بنتا چلاگیا، وہ ڈسپنسری جو 19 سال پہلے مسجد کے ایک کمرے سے شروع ہوئی تھی وہ اب کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی چیریٹی اسپتال بن چکی ہے اور اس میں ہر شعبے کے اسپیشلسٹ معالجین بیٹھتے ہیں اور مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے 1998ء میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پاکستان کے نام سے این جی او کی بنیاد رکھی، کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے جنوبی پنجاب اور چترال میں سیلاب زدگان کی بحالی کا کام بھی کیا اور2009ء میں بنوں میں شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی خدمت بھی کی۔

سوسائٹی نے اس کے علاوہ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلہ زدگان، 28 اکتوبر 2008ء کے زیارت کے زلزلے، 2010ء میں عطاء آباد جھیل، 2010-11ء کے خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے سیلاب، 2011ء کے سندھ کے سیلاب،2012ء کے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب، اپریل و ستمبر 2013ء کے ماشکیل اور آواران کے زلزلے، مارچ 2014ء کے سندھ کے قحط، ستمبر 2014ء کے پنجاب کے سیلاب، مئی 2015ء کے پشاور کے طوفان اور جنوبی پنجاب کے حالیہ سیلاب کے دوران اربوں روپے کی امدادی اشیاء تقسیم کیں، لاکھوں مریضوں کا علاج کیا اور 1050 سے زائد گھر اور 50 مساجد اور درجنوں اسکول بھی تعمیر کروائے، سوسائٹی چاروں صوبوں میں ہیلتھ کلینکس، اسکولز، کمیونٹی سینٹرز اورویلفیئر کے کئی دوسرے پراجیکٹس کامیابی سے چلا رہی ہے، سال 2012ء میں حج کے دوران کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے سیکڑوں ملکی اور غیر ملکی حاجیوں کا علاج بھی کیا۔

کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پچھلے دو سال سے تھر میں بھی مصروف عمل ہے، مارچ 2014ء میں تھر میں کام کا آغاز کیا اور یہ اب تک وہاں 200 کنوئیں بنا چکی ہے جن سے روزانہ ہزاروں انسان اور جانور سیراب ہو رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے ہم نے تھر میں بلاتخصیص رنگ و نسل اور مذہب کام کیا ہے، ہندوؤں کے گوٹھوں میں زیادہ کنوئیں بنوائے ہیں، جب بھی ریلیف کا سامان جاتا ہے تو ہندوؤں اور مسلمانوں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تھر میں پانی کی فراہمی کا کامیاب ذریعہ کنوئیں ہیں، ہم نے ان کنوؤں کی مستقل نگرانی کے لیے مقامی لوگوں کو ساتھ ملایا ہوا ہے، یہ ہر مہینے تمام کنوؤں کو چیک کر کے اس کی رپورٹ پیش کرتے ہیں اور جہاں خرابی ہو اس کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے، ڈاکٹر آصف نے انکشاف کیا ’’کچھ عرصہ قبل تھر کا چکر لگایا تو ایک گوٹھ میں اسکول کی عمارت دیکھی، استفسار پر پتہ چلا اسکول دو سال سے بند ہے، بچے پڑھنا چاہتے ہیں، 150 بچوں نے داخلہ لیا ہوا ہے مگر استاد پڑھانے کے لیے نہیں آتا، گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے۔

میں نے پورے گوٹھ سے لوگوں کو اکٹھا کیا، پوچھا آپ میں کوئی اُستاد ہے، ایک ریٹائرڈ استاد چار ہزار روپے مہینے پر پڑھانے کے لیے تیار ہو گیا یوں یہ اسکول اگلے دن شروع ہو گیا، پہلے دن 60 بچے آئے، ان کے لیے کتابوں اور اسٹیشنری کا بھی انتظام کر دیا گیا، اب یہ اسکول ’’لاہور تھرپارکر پرائمری اسکول‘‘ کے نام سے رجسٹرڈ ہو چکا ہے،، ڈاکٹر صاحب نے بتایا، چترال کی خوبصورت وادی بمبوریت جولائی 2015ء کے سیلاب سے متاثر ہوئی، ہماری ٹیمیں فوراً وہاں پہنچیں، سیلاب زدہ لوگوں کو امدادی سامان پہنچایا، ان کے لیے گھروں کی تعمیر شروع کروائی، بمبوریت میں ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی اور اس کے ساتھ ایک ڈسپنسری بنوائی، یہ ڈسپنسری ایک کیلاشی لڑکی چلا رہی ہے۔

یہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور ان کی این جی او کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی پاکستان کی چند ناقابل فراموش خدمات ہیں، یہ بھی اگر ملک کے دیگر بیوروکریٹس کی طرح چاہتے تو اسٹیٹس انجوائے کر سکتے تھے، یہ فارغ وقت میں گالف کھیلتے یا سینئرز اور حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے منصوبے بناتے لیکن انھوں نے اپنے فارغ اوقات کو انسانیت کے لیے وقف کر دیا، یہ ایک جسم میں مختلف شخصیات لے کر پھر رہے ہیں مگر ان کی تمام ادبی، صحافتی اور ملازمانہ سرگرمیوں کے باوجود ان کی اصل پہچان اور شناخت ’’کسٹمز ہیلتھ کیئرسوسائٹی‘‘ ہے۔

حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں23 مارچ 2016ء کو انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا، ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم ان مصیبت زدہ علاقوں میں کام کرتی ہے جہاں حکومت بھی نہیں پہنچ پاتی یا جہاں حکومت ناکام ہو چکی ہے، یہ لوگ تھر کے ان ریگستانوں میں پانی، تعلیم اور صحت کا بندوبست کر رہے ہیں جہاں حکومت اربوں روپے کا بجٹ خرچ کرنے کے باوجود فلاپ ہو چکی ہے، کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے تحت اس وقت ملک میں 17 کلینکس، 8 اسکول اور 10 کمیونٹی سینٹرز چل رہے ہیں،ڈاکٹر آصف محمود جاہ ایک بڑا اسپتال اور غریبوں کے بچوں کے لیے ایک میڈیکل کالج بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

میں ہر سال رمضان میں اہل خیر اور درد دل رکھنے والے پاکستانیوں سے ایسے اداروں کے لیے عطیات کی درخواست کرتا ہوں جو دوسروں کی تکالیف کم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں،ہم میں سے ہر شخص اپنے لیے آسائشیں تلاش کر لیتا ہے لیکن حقیقی خوشی اسی وقت میسر آتی ہے جب آپ دوسروں کے لیے خوشیوں کا سامان کرتے ہیں، دوسروں کی خدمت اور مدد ہی حقیقی معنوں میں انسانیت ہے، جن افراد کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ دولت سے نوازا ہے میں انھیں دعوت دیتا ہوں وہ بھی آگے بڑھیں اور کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے پلیٹ فارم پر دکھی اور مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کے لیے دل کھول کر عطیات جمع کروائیں۔

عطیات دینے کے لیے کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی اکاؤنٹ نمبر 4011311614 برانچ کوڈ 1887 ہے ۔ IBAN:76NBPA1887004011311614 ہے جب کہ Swift Code NBPAPKKA02L ہے۔ نیشنل بینک آف پاکستان مون مارکیٹ برانچ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور،آپ مزید معلومات کے لیے 0333-4242691،042-37801243 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

جاوید چوہدری

کاروان علم فاؤنڈیشن – ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ رہی ہے

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی 1928ء میں بھارت کے شہر کرنال میں پیدا ہوئے، والدین سفید پوش تھے، پڑھائی کا شوق تھا، یہ نامساعد حالات کے باوجود میٹرک پاس کر گئے، قیام پاکستان سے قبل علی گڑھ یونیورسٹی پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد تعلیمی منزل ہوتی تھی، والد نے اپنی جمع پونجی دیکھی، یہ کل سو روپے نکلے، والد نے یہ سو روپے ان کے حوالے کر دیے، ڈاکٹر صاحب یہ کثیر سرمایہ لے کر علی گڑھ پہنچے، داخلہ مل گیا لیکن ان کے پاس ماہانہ فیس اور ہاسٹل کے اخراجات کے لیے رقم نہیں تھی، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ان کا شوق، علم اور مالی حالات دیکھے تو ان کی فیس اور ہاسٹل کا کرایہ دونوں معاف کر دیے لیکن کھانے کے اخراجات کا بندوبست ابھی باقی تھا۔
یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس مسئلے کے لیے ٹیوشن کا بندوبست کر دیا، یہ قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے، لاہور سے تاریخ میں ایم اے کیا اور سرکاری اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا، انھیں 1956ء میں جرمنی سے اسکالر شپ ملا، پی ایچ ڈی کی اور یہ واپس آ کر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانے لگے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے 1960ء میں لاہور سے ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کے نام سے ماہنامہ شروع کیا، یہ ماہنامہ آج بھی پاکستان کے کامیاب ترین رسائل میں شمار ہوتا ہے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے2002ء میں اخبار میں سعدیہ مغل کے بارے میں خبر پڑھی، سعدیہ مغل نے میٹرک کے امتحانات میں 850 میں سے 810 نمبر لے کر بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی لیکن یہ بچی غربت کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ میں داخلہ نہیں لے پا رہی تھی، یہ خبر پڑھ کر ڈاکٹر صاحب کو اپنا بچپن یاد آ گیا۔
انھوں نے سعدیہ مغل کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا، یہ فیصلہ آگے چل کر ’’کاروان علم فاؤنڈیشن،، کی بنیاد بنا، ڈاکٹر صاحب نے چند احباب کے ساتھ مل کر فاؤنڈیشن بنائی اور اس فاؤنڈیشن نے شروع میں پنجاب اور بعد ازاں پورے پاکستان کے ایسے باصلاحیت نوجوانوں کوتعلیم کے لیے وظائف دینا شروع کر دیے جو تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں سے اسی فیصد سے زائد نمبر حاصل کرتے ہیں لیکن یہ مزید تعلیم حاصل کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے، 
فاؤنڈیشن اب تک 5242 اسکالر شپ دے چکی ہے، یہ نوجوان فاؤنڈیشن کی مدد سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یہ ڈاکٹرز اور انجینئرز بھی بن رہے ہیں اور اکانومسٹ، نفسیات دان اور مینجمنٹ گریجویٹ بھی۔ آپ ان 5242 نوجوانوں میں سے کسی شخص کی کہانی سنیں، آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جائیں گے، میں گزشتہ کئی برسوں سے ’’کاروان علم فاؤنڈیشن‘‘ سے وابستہ ہوں، میں ہر سال احباب سے فاؤنڈیشن کے لیے امداد مانگتا ہوں، فاؤنڈیشن نے 2013ء میں 500 درخواستیں شارٹ لسٹ کیں لیکن فنڈز موجود نہیں تھے، میں نے امداد کے لیے کالم لکھا، بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے یہ کالم پڑھا اور انھوں نے یہ 500 نوجوان اپنے ذمے لے لیے، کل مجھے ڈاکٹر اعجاز قریشی صاحب کا خط موصول ہوا، میں یہ خط یہ سوچ کر احباب کی نذر کر رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں ملک ریاض جیسے سو امیر ترین لوگ موجود ہیں، یہ خط پڑھ کر شاید ان میں سے تین چار لوگ ’’موٹی ویٹ‘‘ ہو جائیں اور یہ ملک ریاض کی طرح ہزار بارہ سو طالب علموں کے اخراجات اٹھا لیں۔
’’محترم جاوید چوہدری صاحب آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی الحمد للہ کاروان علم فاؤنڈیشن اب تک 5242 طلباء اور طالبات کو سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ، کامرس، مینجمنٹ اور سوشل سائنسز کے مختلف شعبوں میں وظائف جاری کر چکی ہے، یہ نوجوان محض لوگ نہیں ہیں یہ 5242 گھرانے ہیں، اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ تمام گھرانے غربت کے  بھنور سے باہر آ گئے ہیں،ان نوجوانوں کو منزل سے ہمکنارکرنے اور ان کے خاندانوں کی قسمت بدلنے میں آپ کا کردار قابل ستائش ہے، آپ نے کاروان علم فاؤنڈیشن کے حوالے سے بڑے خلوص اور دردمندی سے کالم تحریر کیے جن کی وجہ سے ملک کے طول و عرض سے مخیر حضرات نے مستقبل کے نوجوانوں کے لیے دل کھول کر عطیات فراہم کیے،میں یہاں آپ کے ساتھ جناب ملک ریاض حسین کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے 5242 طلبہ میں وہ527 طلبہ بھی شامل ہیں جو جناب ملک ریاض حسین کے ادارے بحریہ ٹاؤن کے مالی تعاون سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرپائے،کاروان علم فاؤنڈیشن کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لیے پورا سال کھلے رہتے ہیں،طلبہ کی درخواستیں موصول ہوتی رہتی ہیں ، ہم پورا سال طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وسائل کی کوشش کرتے رہتے ہیں،جولائی2013ء میں کاروان علم فاؤنڈیشن کے زیر کفالت طلبہ کے علاوہ پانچ سو سے زائد طلبہ کی درخواستیں زیر غور تھیں، آپ نے ان 500 طلباء کے لیے کالم تحریر کیا،اسے پڑھ کر ملک ریاض حسین نے ہم سے رابطہ کیا اور 527 طلبہ کواسکالرشپ فراہم کرنے کی ذمے داری قبول کرلی،بحریہ ٹاؤن طلبہ کی تعلیمی فیس کے پے آرڈرز تعلیمی اداروں کے نام تیار کرکے ہمیں ارسال کردیتا تھا اور ہم یہ پے آرڈرز تعلیمی اداروں کو بھجوا کر رسیدیں بحریہ ٹاؤن کو ارسال کر تے رہے اور یوں الحمدللہ جون2016تک ان527 طلبہ میں سے475 طلبہ نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ، ان 475 طلبہ کو بحریہ ٹاؤن کی طرف سے 24,141,087/-روپے کی مالی اعانت فراہم کی گئی۔
ان475 طلبہ میں ایم بی بی ایس کے103،ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز کے18،بی ایس سی انجینئرنگ کے149،بی ایس آنرز کے52 اور ایم اے /ایم کام کے21 طلباء شامل ہیں، ہمارے پاس اس وقت زیرکفالت 409 طلبہ کے علاوہ 400 طلبہ کی درخواستیں زیر غور ہیں اگر ملک ریاض حسین یا ان جیسا کوئی اور مخیر شخص ان نوجوانوں کی ذمے داری قبول کرلے تو یہ نوجوان بھی علم حاصل کر لیں گے، قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ملک ریاض حسین جیسی خوشحال کاروباری شخصیات کو آگے بڑھناچاہیے اور کاروان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر ملک کے جوہر قابل کو تعمیر وطن کے قابل بنانے کا قومی فرض اداکرناچاہیے،آپ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کاروان علم فاؤنڈیشن کی مالی اعانت سے تعلیم مکمل کرنے والے ہر طالب علم کی کہانی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ میں آپ کو یہاں ایک عظیم ماں خالدہ پروین کی کہانی سنانا چاہتاہوں،خالدہ پروین کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیوں سے نوازا تو اس کا شوہر اسے طلاق دے کر کینیڈا چلاگیا،خالدہ پروین دونوں بیٹیوں کو والدین کے گھر لے آئی۔
والدین کے گھر ان ماں بیٹیوں کو دوسری منزل پر ایک کمرہ مل گیا،اس عظیم ماں نے اپنی بیٹیوں کو انجمن حمایت اسلام اسکول میں داخل کروا دیا،آٹھویں کے امتحانات کے بعد بچیوں کے تعلیمی اخراجات بڑھے تو خالدہ پروین نے کاروان علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا،کاروان علم فاؤنڈیشن طلباء کو انٹرمیڈیٹ کے بعد وظائف دینا شروع کرتی ہے لیکن میں نے بچیوں کی تعلیمی کارکردگی اور ایک ماں کی جہد مسلسل دیکھتے ہوئے کاروان علم فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا،کاروان علم فاؤنڈیشن کی طرف سے اسکالرشپ کا سلسلہ شروع ہوا، دونوں بچیوں نے میٹرک اور ایف ایس سی میں شاندار نمبرز لیے،آج دونوں بہنیں ایم بی بی ایس کررہی ہیں،خالدہ پروین اپنی محنت کا ثمر ملنے پر خوش اور مطمئن تھی مگر چند ماہ قبل اسے پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہوگیا،ہم نے اس عظیم ماں کی زندگی بچانے کے لیے ہر ممکن مدد کا فیصلہ کیا،خالدہ پروین کا علاج جاری ہے۔
کاروان علم فاؤنڈیشن اس کی دونوں بیٹیوں کے تمام تعلیمی اخراجات کے علاوہ خالدہ پروین کو علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات کے لیے ہر ماہ معقول رقم فراہم کررہی ہے۔ کاروان علم فاؤنڈیشن جذبہ علم سے لبریز نوجوانوں کے خواب کو تعبیر دینے کا قومی فریضہ اداکررہی ہے،میری تمام مخیر حضرات اور آپ سے درخواست ہے کاروان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں،اللہ تعالیٰ آپ کو اور کاروان علم فاؤنڈیشن کے تمام ساتھیوں کو دنیا و آخرت میں عافیت عطا کرے، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی‘‘۔
مجھے جب بھی کاروان علم فاؤنڈیشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع ملا اس ادارے نے مجھے حیران کردیا، فاؤنڈیشن کے دروازے ساراسال ضرورت مند طلبہ کے لیے کھلے رہتے ہیں، یہ نہ صرف طالب علم کو تعلیمی ضروریات کے لیے معقول مالی اعانت دیتی ہے بلکہ یہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو برقراررکھنے کا اہتمام بھی کرتی ہے،کاروان علم فاؤنڈیشن اب تک 5242 طلبہ کو وظائف جاری کرچکی ہے جن میں12 سو کے قریب یتیم طلباء و طالبات بھی شامل ہیں، یہ فاؤنڈیشن اب تک  ایم بی بی ایس کے1271،بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے49،ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ کے 42، ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسزکے120،ڈاکٹر آف فارمیسی کے92،ایم ایس سی کے131،ایم اے کے124،ایم کام کے39، ایم بی اے کے55،ایم پی اے کے 05، ایم فل کے15، بی ایس سی انجینئرنگ کے1346، بی کام آنرز کے155، بی ایس آنرز کے622، بی بی اے کے 54، اے سی سی اے کے 16،سی اے کے 04،بی ایس ایڈ ،بی ایڈ کے 35، ایل ایل بی کے13،بی اے آنرز کے42، بی اے کے71،سی ایس ایس کا 01، بیچلر آف ٹیکنالوجی کے 22،ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے154، ایف ایس سی کے480،ایف اے کے84،آئی کام کے48،ڈی کام کے05،آئی سی ایس کے17طلباء کو امداد فراہم کر چکی ہے۔
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بے شمار ادارے قائم ہوئے ہیں لیکن جن اداروں کو حقیقی معنوں میں فلاحی ادارے کہا جاسکتا ہے کاروان علم فاؤنڈیشن ان میں سے ایک ہے، اس ادارے میں علم بھی ہے،کاروان بھی ہے اور فاؤنڈیشن بھی اورکسی بھی قوم کو آگے بڑھانے کے لیے علم بھی ضروری ہوتاہے سفر بھی اور فاؤنڈیشن بھی۔ کاروان علم فاؤنڈیشن غریب گھرانوں کے نوجوانوں کو ڈاکٹر، انجینئر، کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینئراور مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم دلواکر پاکستان میں غربت کے خاتمے اور ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
اگر ہمیں پاکستان کو پُرامن ملک بنانا ہے اور اپنے مستقبل کو محفوظ کرناہے تو ملک ریاض حسین کی طرح ہر پاکستانی کو خواہ وہ ایک روپیہ عطیہ کرسکتا ہو یا ایک کروڑ ،اسے کا روان علم فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے،کاروان علم فاؤنڈیشن کے لیے زکوٰۃ اور عطیات ملک کے کسی بھی شہر سے میزان بینک کے اکاؤنٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروائے جا سکتے ہیں۔عطیات کے چیک19/21ایکٹر اسکیم ایوان اردو ڈائجسٹ سمن آباد کے پتے پر بھی ارسال کیے جاسکتے ہیں۔ آپ مزید تفصیلات کے لیے فون نمبرموبائل نمبر0321-8461122پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
جاوید چوہدری