ایدھی کے بعد جنید جمشید دوسری غیرسرکاری شخصیت ہیں جنھیں گارڈ آف آنر دیا گیا

معروف سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کے بعد جنید جمشید دوسری غیر سرکاری شخصیت ہیں جنھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق معروف مذہبی اسکالر جنید جمشید کی نمازہ جنازہ راولپنڈی کے نور خان ائیربیس پر ادا کی گئی جس کے بعد ائیرفورس کے دستے نے جنید جمشید کی میت کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس سے قبل 9 جولائی کو انتقال کر جانیوالے فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کو نمازِ جنازہ کے بعد پاکستانی فوج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا تھا۔

Advertisements

جنید جمشید کے ساتھ گزرے چند سنہری لمحات

جنید جمشید تاریخ کا حصہ بن گئے، کہنے میں یہ بات جتنی آسان لگ رہی ہے، اِس کا تصور کرنا اتنا ہی مشکل ثابت ہورہا ہے۔ اگر مبالغہ نہ کیا جائے تو اُن کے لاکھوں نہیں کروڑوں پرستار تھے اور اتنے سارے پرستاروں میں ایک پرستار میں بھی تھا۔ سچ پوچھیے تو میں نے کبهی نہیں سوچا تها کہ میں جنید جمشید کے اتنا قریب بهی جاسکوں گا۔ جب بچپن سے لڑکپن کی جانب بڑھا تو جنید بھائی کی سریلی آواز کا دور تها، اسکول کے زمانے میں جس طرح دیگر دوست اُن کے دیوانے تهے اُسی طرح میں بهی دیوانہ تها۔

مشروب کے ایک برانڈ کا گانا تقریباً ان کے آخری گانوں میں سے تها،

دل مانگے دل مانگے مانگے،

ایسے باندهیں پیار کے دهاگے،

ایک ہیں پاکستانی سارے،

مل جل کر ہم جائیں آگے

اس گانے کی کیسٹ میرے اسکول بیگ میں ہوتی تهی، یہ جنید بهائی کے عروج کا زمانہ تها، مگر اچانک ہی خبر آئی کہ جنید جمشید نے گانا چهوڑ دیا۔ اس خبر نے اس زمانے کی نئی ابهرتی نسلوں کو بالکل اسی طرح دم بخود کردیا تها، جس طرح آج ان کی ناگہانی موت نے کیا۔ اس وقت کوئی بهی یہ نہیں سوچ سکتا تها کہ جنید جمشید گانا چهوڑ سکتے ہیں۔ جہاں جنید جمشید کے اِس فیصلے نے نوجوانوں کی اکثریت کو اداس کردیا تھا، وہیں اِس فیصلے کے بعد خود اُن پر بهی بڑے سخت حالات اور آزمائیشیں آئیں اور ایک وقت ایسا بهی آیا کہ لوگوں نے سمجها اب جنید کا زمانہ ختم، عموماً جیسا دوسرے شوبز کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ آف فیلڈ ہوئے تو زمانہ بهلا دیتا ہے۔

مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جنید جمشید کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، وہ جنید جمشید کے بعد جے جے بن کر ابهرے اور پهر چها گئے، لیکن اب کی بار مقبولیت کی وجہ موسیقی نہیں بلکہ دین کی تبلیغ، نعت خوانی اور کپڑے کا کاروبار تھا۔ اگر اُن کے بُرے حالات میں میری اُن سے ملاقات اور دوستی ہوئی ہوتی تو شاید میں اِس قدر خود کو خوش نصیب نہ سمجھتا لیکن میں اُن سے اُس وقت ملا جب جنید جمشید ایک بار پھر مقبولیت کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھ رہے تھے۔ مجهے یقین ہی نہیں تها ایک دن میں اپنے سامنے کهڑے جنید بهائی کو ان کا گانا ’’دل مانگے دل مانگے مانگے‘‘ یاد دلا رہا ہوں گا، اور ان کو یاد نہیں آرہا ہو گا۔ وہ کچھ الجھن میں تهے کیونکہ انہوں نے دل مانگے کے دو گانے گائے تهے، اور جب اُن کی مشکل میں مزید اضافہ ہوا تو میں نے انہیں اس کے بول یاد کرانے کی کوشش کی،

حق تلفی کا سب کو گلا ہے

کیا محنت کا یہی صلا ہے

ظلم، جبر، غربت، افلاس

مایوسی ہے چاروں پاس

کیا جینا غیروں کے سہارے

قوم کی غیرت کو للکارے

بدلے طریقے بدلے طور

دل مانگے دل مانگے اور

جنید بهائی یہ سنتے حیران ہوگئے کہ یہ کہاں سے رٹا ہوا ہے، مجهے تو یاد ہی نہیں تها۔ بہت خوش ہوئے پهر کہنے لگے کہ یار اس کی شاعری بڑی پاور فل ہے اس کو دوبارہ ریکارڈ کرتے ہیں اپنے طریقے سے، میں نے کہا صرف یہی نہیں بلکہ اس زمانے کے 6، 5 ملی نغمے ملا کر ایک مکس ٹریک بنائیں گے۔ یہ سنتے ہی وہ ایسے جذباتی ہوگئے کہ جیسے بس ابهی ریکارڈ کرلیں گے۔ جنید بهائی کبهی بهی اپنے مداحوں کی اس نسل کو نہیں بهولے جو ان کے عروج کے وقت کانسرٹ کے دوران پہلی صفوں میں نظر آیا کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے منفرد اسٹائل میں یہ کہتے تهے کہ یار میں اپنے میوزک کے دور کے فینز کو چهوڑ نہیں سکتا، کل کو مجھ سے ہی پوچھ ہوگی کہ خود تو دین کا بیڑا اٹها کر نکل گیا اور پیچهے پوری قوم کو میوزک پر لگا آیا۔ اسی لئے وہ اکثر و بیشتر حمد و نعت ریکارڈ کراتے رہتے تهے، اور جہاں موقع ملتا سناتے بهی رہتے۔ میوزک چهوڑنے کے بعد کبهی بهی انہوں نے اپنی حمد و نعت یا ترانوں کا معاوضہ نہیں لیا۔

انہوں نے موسیقی تو چهوڑ دی مگر نوجوان نسل کو اپنا ایک مہذب ٹرینڈ بهی دیا چاہے وہ حمد ونعت ہوں، ترانے ہوں یا پوشاک۔ میں نے جنید بهائی سے بنوریہ میڈیا کے تحت ایک نئے پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نعتیں حمدیں تو بہت ریکارڈ کی ہیں مگر ملی نغمیں اب تک ریکارڈ نہیں کئے۔ کہنے لگے لوگ ملی نغمے میوزک کے بغیر سنتے نہیں، میں نے کہا ہم کریں گے۔ پہلی بار ہم مدارس طبقے سے ایک پروفیشنل کوالٹی کا ملی نغمہ ریلیز کریں گے تو شاید معاشرے سے نفرت و فرقہ واریت کے خاتمے میں کوئی مدد ہوجائے، جس پر جنید بهائی فوراً تیار ہوگئے۔ کہا شروع ہوجاؤ میں اس پراجیکٹ کے لئے تیار ہوں۔

یہ وہ وقت تها جب اُن پر گستاخ رسول ﷺ کے فتوے لگ رہے تهے، قتل کی دهمکیاں مل رہی تهیں، رمضان کا مہینہ تها، تو رمضان ٹرانسمیشن بهی کررہے تهے۔

جس اسٹوڈیو پر اُن کی نشریات جاری تھیں، دھمکیوں کے سبب انہوں نے اُسی اسٹوڈیو میں ہی اہل خانہ کے ہمراہ رہنے کو ترجیح دی۔ سیکیورٹی سخت تهی اور ان کو باہر بهی نکلنے نہیں دیا جارہا تها۔ ’پاک وطن‘ پراجیکٹ کی آڈیو ریکارڈنگ کے لئے جنید بهائی نے کہا کہ چاند رات کو اسٹوڈیو کا ٹائم لے لو میں ٹرانسمیشن سے فارغ بهی ہوجاؤں گا تو سکون سے ریکارڈنگ کر لیں گے۔ جنید بھائی چاند رات کو فارغ ہوکر رات 1 بجے اسٹوڈیو پہنچے، میں نے کہا ابھی تو بہت تاخیر ہو گئی ہے، صبح عید بھی ہے تو عید کے بعد کر لیتے ہیں۔ میری آفر پر انہوں نے مذاقاً کہا کہ ارے کر لے ابهی! پهر جنید جمشید ہاتھ آئے یا نا آئے۔ بہرکیف گن مین اور ڈرائیور کو عید کا خرچہ دیا اور کہا گهر جاؤ، صبح عید ہے تیاریاں کرو میں ریکارڈنگ سے فارغ ہوکر خود گهر چلا جاؤں گا۔

اُن کا یہ فیصلہ تمام ہی لوگوں کے لیے حیران کن تھا کیونکہ اُن کی زندگی کو خطرہ جو تھا۔ اُن کو اِس فیصلے کی واپسی کے لیے ہزار سمجهایا مگر انہوں نے گارڈ اور ڈرائیور کو بهجوا دیا، اور پهر کہنے لگے لاو اب بتاو کیا ریکارڈ کرنا ہے؟ قارئین آپ حیران ہوں گے کہ ہم نے بوقت ریکارڈنگ جنید بهائی کو بتایا کہ ہم استاد امانت علی خان کا ’اے وطن پاک وطن‘ ریکارڈ کررہے ہیں۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ وہ تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ ایک تو میری کوئی تیاری نہیں اوپر سے تم لوگوں نے نغمہ بهی ایسا منتخب کیا جس کو گانے سے بڑے سے بڑے گائیک بهی بهاگتے نظر آتے ہیں۔ بہرکیف انہوں نے ریکارڈنگ کروائی اور چاند رات کو 4 بجے فارغ ہوئے اور شہر کے خراب حالات میں اکیلے گاڑی ڈرائیو کرکے گهر گئے، وہ بڑے نڈر قسم کے انسان تهے اور ڈر خوف نام کی کوئی چیز کم از کم میں نے تو اُن کے قریب بھٹکتے نہیں دیکھی۔

سلمان ربانی

Saylani Welfare Trust

Saylani Welfare International Trust, which is known for providing free food to the homeless, is a listed NGO with its charity registration No. 1145851, established in May 1999 with its head office at Bahdurabad, Karachi, Pakistan. It was founded and headed by famous spiritual and religious scholar Maulana Bashir Farooq Qadri.

With an estimated monthly expenditure of Pakistani Rupees above 30 million, Saylani Trust, provides food twice a day to more than 30,000 poor people through its 100 centers (generally known as Dastar-Khawan), most of them are serving in Karachi. Distribution of CNG rickshaws among the jobless citizens of Karachi in April, 2011 with the help of prominent business community of Karachi was the turning point in its popularity.
 Saylani Welfare1Atomic Scientist of Pakistan, Dr. A.Q. Khan has commented in his published article that Saylani Welfare Org. is striving it’s hard to facilitate the people of Pakistan in every field of social wellbeing for the betterment of citizen of Pakistan and appreciated the job rendered by Maulana Bashir Farooq Qadri and his enthusiastic associates working for humanitarian cause. He was invited to grace the occasion as Guest of honor to a seminar organized by the Saylani trust on the subject of Development of Agriculture in Pakistan, attended by prominent experts in Agriculture and Bio-technology.[6]Tools of check and balance with financial accountability are maintained on modern systems, all accounts are annually audited through authentic Chartered Accountant Firm.

Medical institutions of Saylani

With its offices in Nottingham, UK, Saylani Welfare is responsible for carrying out fundraising campaigns as well as raising awareness of a range of charity projects. All donations are invested in sustainable projects and emergency campaigns in Pakistan. All welfare services by Saylani (NGO) are provided free of cost to everyone irrespective of their beliefs and political or social background. It offers following medical facilities at:
  • (i) Saylani Chest Care Center, provides services to patients suffering from Tuberculosis
  • (ii) Saylani Diabetic Center, giving services to Diabetic patient with facilities for treatment of Hepatitis “C”