ماسٹر بشیر کے گاؤں میں سب ہیں ڈگری ہولڈر

قمر الاسلام راجہ ایم پی اے، ایک سروے مشن پر جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کے دورے پر تھے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں ٹیچرز نے بتایا کہ ان کا تعلق حافظ آباد سے ہے۔ قمر الاسلام راجہ کے لیے یہ بات بڑی حیران کن تھی کہ کہاں حافظ آباد اور کہاں ڈیرہ غازی خان۔ اتنی دور سے یہ بچیاں یہاں کیسے آگئیں۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ شاید کوئی وجہ ہوگی روزگار کا مسئلہ ہوگا یا کوئی عزیز رشتہ دار یہاں رہتے ہوں گے۔ اسی سوچ میں غرق راجہ صاحب ہائی وی پر واقع ایک ہوٹل میں رکے۔ انہیں ڈرائیور ہوٹل پر بیٹھنے میں بھی کوئی عار یا ججھک محسوس نہ ہوئی۔ ان کا ڈرائیور ان کی تشویش کو بھانپ چکا تھا۔ قریب آیا اور بولا راجہ صاحب، میں آپ کو حافظ آباد کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں۔ یہ بچے اور بچیاں اس حافظ آباد کا ذکر نہیں کر رہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ یہ حافظ آباد دراصل ضلع ڈیرہ غازی خان کا ایک چھوٹا سا گائوں ہے۔

راجہ صاحب یہ سن کر حیران ہوئے ۔ کھانا کھایا ، چائے پی اور ڈرائیور کو حافظ آباد چلنے کا مشورہ دیا۔ جس جگہ وہ ٹھہرے ہوئے تھے حافظ آباد کا گائوں وہاں سے زیادہ مسافت پر نہیں تھا۔ چند گھنٹوں کی ڈرائیوکے بعد وہ ایک گائوں میں پہنچے ۔ اس گائوں میں ہر بچے کو استاد بشیر کا علم تھا۔ وہ کہاں رہتے ہیں، کتنے بچے ہیں، کیا کرتے ہیں ، پورا گائوں اس ٹیچر کی شخصیت سے واقف تھا۔ یہ تبدیلی کیسے آئی کہ ایک پسماندہ گائوں کے لڑکے اور لڑکیاں ایم اے ہی نہیں ڈاکٹر اور انجینئرنگ کی ڈگری بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ شاید واحد گائوں تھا جس میں ایک شخص بھی ناخواندہ نہیں تھا۔ شائد سارے ہی ڈگری ہولڈر تھے۔ ڈاکٹر اور انجینئر بھی اسی گائوں میں پیدا ہوئے۔

پوچھتے پچھاتے راجہ صاحب ماسٹر بشیر کے گھر پہنچے ۔ وہ ایک چھوٹے سے مکان میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ راجہ صاحب ان کے پاس بیٹھے اور ان سے بات کی۔ یہ تبدیلی کوئی این جی او نہیں لائی ،بلکہ ایک ماسٹر بشیر کی محنت کا نتیجہ تھی۔ وہی ماسٹر بشیر آج ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد بستر پر آرام فرما رہے تھے۔’’یہ سب کچھ آپ نے کیسے کر دکھایا‘‘ راجہ صاحب کے سوال پر وہ کہنے لگے ؟ ’’میں نے زندگی میں ایک مشن بنایا کسی کو ناخواندہ نہیں رہنے دوں گا۔ سب کو تعلیم دوں گا۔ جو ہو سکے گا کروں گا۔ سکول سے فارغ ہو کر اپنے گھر پر بچے اور بچیوں کو پرائیویٹ ٹیویشن دی مگر اس کارخیر کا کبھی کوئی صلہ نہ لیا۔

مختلف گروپوں کی صورت میں ہر بچی اور بچے کو پڑھایا اور انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ ‘‘ راجہ صاحب اس مشن پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے ماسٹر بشیر کو ایک سکول دینے کی پیشکش کی انہوں نے انکار کیا۔ راجہ صاحب نے ان کے بیٹوں کو سکول دینے کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش بھی انہوں نے قبول نہ کی۔ ان کے بیٹے پہلے ہی پروفیشنل ڈگری ہولڈر ہیں۔ ان سب باتوں کے بعد ماسٹر صاحب کہنے لگے ’’میری ریٹائرمنٹ کو کئی سال بیت گئے ۔ اب ہمت نہیں رہی کچھ کرنے کی لیکن جیسا بویا ہے ویسا ہی پھل کھایا ہے۔ اگر تمام استاد اسی طرح خدمت خلق کا جذبہ لے کر تعلیم کے مشن کو پورا کریں تو کوئی بعید نہیں کہ چند سالوں میں تمام بچے ، اور بڑے بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہو جائیں۔ ‘‘

راجہ صاحب یہ سن کر مطمئن ہو گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان میں ابھی ایسے لوگ زندہ ہیں جو اپنے فرائض بھرپور مشن کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ ماسٹر بشیر کی یہ کہانی کئی انتظامی کورسز میں سنائی جا چکی ہے۔ بہت سے افسران ایک فرد کی ہمت سے آنے والی تبدیلی سے واقف ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ ہمارے سیکرٹریٹ میں بیٹھے افسران ، محکمہ صحت کے ڈاکٹر، محکمہ تعلیم کے اساتذہ ، محکمہ پولیس کے افسران اور اہلکاران کب اس جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سید فیصل عثمان

تعلیم امیر کی جاگیر نہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں محمد ایوب نامی ایک شخص سڑک پر  بیٹھے بچوں کو طویل عرصے سے تعلیم دیتے آرہے ہیں۔ نوجوانوں سے بھرا یہ اسکول محمد ایوب کی کئی سالوں کی محبت کا پھل ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا کسی امیر کی جاگیر نہیں بلکہ تعلیم ہر انسان کا حق ہے۔ محمد ایوب ایک ایسے پاکستانی جنھوں نے اپنے دم توڑتے والد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم کو یقینی بنائیں گے اور پھر ان کی زندگی نادار بچوں کو تعلیم دینے کے لیے وقف ہوکر رہ گئی۔