ماسٹر بشیر کے گاؤں میں سب ہیں ڈگری ہولڈر

قمر الاسلام راجہ ایم پی اے، ایک سروے مشن پر جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کے دورے پر تھے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں ٹیچرز نے بتایا کہ ان کا تعلق حافظ آباد سے ہے۔ قمر الاسلام راجہ کے لیے یہ بات بڑی حیران کن تھی کہ کہاں حافظ آباد اور کہاں ڈیرہ غازی خان۔ اتنی دور سے یہ بچیاں یہاں کیسے آگئیں۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ شاید کوئی وجہ ہوگی روزگار کا مسئلہ ہوگا یا کوئی عزیز رشتہ دار یہاں رہتے ہوں گے۔ اسی سوچ میں غرق راجہ صاحب ہائی وی پر واقع ایک ہوٹل میں رکے۔ انہیں ڈرائیور ہوٹل پر بیٹھنے میں بھی کوئی عار یا ججھک محسوس نہ ہوئی۔ ان کا ڈرائیور ان کی تشویش کو بھانپ چکا تھا۔ قریب آیا اور بولا راجہ صاحب، میں آپ کو حافظ آباد کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں۔ یہ بچے اور بچیاں اس حافظ آباد کا ذکر نہیں کر رہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ یہ حافظ آباد دراصل ضلع ڈیرہ غازی خان کا ایک چھوٹا سا گائوں ہے۔

راجہ صاحب یہ سن کر حیران ہوئے ۔ کھانا کھایا ، چائے پی اور ڈرائیور کو حافظ آباد چلنے کا مشورہ دیا۔ جس جگہ وہ ٹھہرے ہوئے تھے حافظ آباد کا گائوں وہاں سے زیادہ مسافت پر نہیں تھا۔ چند گھنٹوں کی ڈرائیوکے بعد وہ ایک گائوں میں پہنچے ۔ اس گائوں میں ہر بچے کو استاد بشیر کا علم تھا۔ وہ کہاں رہتے ہیں، کتنے بچے ہیں، کیا کرتے ہیں ، پورا گائوں اس ٹیچر کی شخصیت سے واقف تھا۔ یہ تبدیلی کیسے آئی کہ ایک پسماندہ گائوں کے لڑکے اور لڑکیاں ایم اے ہی نہیں ڈاکٹر اور انجینئرنگ کی ڈگری بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ شاید واحد گائوں تھا جس میں ایک شخص بھی ناخواندہ نہیں تھا۔ شائد سارے ہی ڈگری ہولڈر تھے۔ ڈاکٹر اور انجینئر بھی اسی گائوں میں پیدا ہوئے۔

پوچھتے پچھاتے راجہ صاحب ماسٹر بشیر کے گھر پہنچے ۔ وہ ایک چھوٹے سے مکان میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ راجہ صاحب ان کے پاس بیٹھے اور ان سے بات کی۔ یہ تبدیلی کوئی این جی او نہیں لائی ،بلکہ ایک ماسٹر بشیر کی محنت کا نتیجہ تھی۔ وہی ماسٹر بشیر آج ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد بستر پر آرام فرما رہے تھے۔’’یہ سب کچھ آپ نے کیسے کر دکھایا‘‘ راجہ صاحب کے سوال پر وہ کہنے لگے ؟ ’’میں نے زندگی میں ایک مشن بنایا کسی کو ناخواندہ نہیں رہنے دوں گا۔ سب کو تعلیم دوں گا۔ جو ہو سکے گا کروں گا۔ سکول سے فارغ ہو کر اپنے گھر پر بچے اور بچیوں کو پرائیویٹ ٹیویشن دی مگر اس کارخیر کا کبھی کوئی صلہ نہ لیا۔

مختلف گروپوں کی صورت میں ہر بچی اور بچے کو پڑھایا اور انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ ‘‘ راجہ صاحب اس مشن پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے ماسٹر بشیر کو ایک سکول دینے کی پیشکش کی انہوں نے انکار کیا۔ راجہ صاحب نے ان کے بیٹوں کو سکول دینے کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش بھی انہوں نے قبول نہ کی۔ ان کے بیٹے پہلے ہی پروفیشنل ڈگری ہولڈر ہیں۔ ان سب باتوں کے بعد ماسٹر صاحب کہنے لگے ’’میری ریٹائرمنٹ کو کئی سال بیت گئے ۔ اب ہمت نہیں رہی کچھ کرنے کی لیکن جیسا بویا ہے ویسا ہی پھل کھایا ہے۔ اگر تمام استاد اسی طرح خدمت خلق کا جذبہ لے کر تعلیم کے مشن کو پورا کریں تو کوئی بعید نہیں کہ چند سالوں میں تمام بچے ، اور بڑے بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہو جائیں۔ ‘‘

راجہ صاحب یہ سن کر مطمئن ہو گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان میں ابھی ایسے لوگ زندہ ہیں جو اپنے فرائض بھرپور مشن کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ ماسٹر بشیر کی یہ کہانی کئی انتظامی کورسز میں سنائی جا چکی ہے۔ بہت سے افسران ایک فرد کی ہمت سے آنے والی تبدیلی سے واقف ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ ہمارے سیکرٹریٹ میں بیٹھے افسران ، محکمہ صحت کے ڈاکٹر، محکمہ تعلیم کے اساتذہ ، محکمہ پولیس کے افسران اور اہلکاران کب اس جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سید فیصل عثمان

تعلیم امیر کی جاگیر نہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں محمد ایوب نامی ایک شخص سڑک پر  بیٹھے بچوں کو طویل عرصے سے تعلیم دیتے آرہے ہیں۔ نوجوانوں سے بھرا یہ اسکول محمد ایوب کی کئی سالوں کی محبت کا پھل ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا کسی امیر کی جاگیر نہیں بلکہ تعلیم ہر انسان کا حق ہے۔ محمد ایوب ایک ایسے پاکستانی جنھوں نے اپنے دم توڑتے والد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم کو یقینی بنائیں گے اور پھر ان کی زندگی نادار بچوں کو تعلیم دینے کے لیے وقف ہوکر رہ گئی۔

Green Crescent Trust (GCT)

Green Crescent Trust (GCT) is a non-profit organization in Sindh, Pakistan that focuses on education and development. It was established in 1995 by group of people with just one goal: making a better Pakistan through education. It started out with just one school and handful of students in Karachi. Today, GCT aims to making schools a reality for deserving children in underprivileged areas of Sindh. It has expanded their schools network making them more accessible to these children.
Introduction 
GCT is a professional non-profit organization operated by professionals under the supervision of the Board of Trustees, which runs schools in underprivileged areas of Sindh for the boys and girls in the rural and urban areas. The founders took this initiative with a very few number of students. Now with the same passion and enthusiasm, bestowed on that first school, GCT has managed to expand their journey of education and expended their chain of schools in all over Sindh. GCT aims to bring a behavioral change in the communities regarding quality education, community building, and motivation and providing opportunities to bring enhancements in their daily lives.
For that they have expanded their services in Orphan Support Program, Centre for Educational Research and Development (CERD) for teachers training and Development, The Water Project for the people of Tharparkar. It is profoundly difficult in rural areas of Sindh to encourage families to gain education, especially for females. Hence, to achieve this, GCT hires the female staff from within the community and trains them for community mobilization, which greatly helps in convincing the parents to send their children to school. GCT has managed to increase female ratio from 20% to 40% in last 3 years.
Hilal Public School System 
Hilal Public School System (HPSS) run by GCT since 1995 was initiated with just one school. HPSS is a network of curriculum-based schools providing subsidized education to underprivileged children across Sindh. HPSS is running 145 schools successfully all over the Sindh with more than 1200 teachers and 35,000 students.
Center for Educational Research and Development 
Center for Educational Research and Development (CERD) is the professional training and development center for Teachers and Parents. CERD is providing training to all the GCT Teachers and Parents to bring about a substantial change in their lives through Education. CERD also provides training to other NGOs, Non-Profit Organizations and Charities.
Water Project 
Water is one of the main and basic essences of every human. People of Tharparkar (Sindh, Pakistan) are starving for water, not only for them and their families, but also for the cattle they breed as their means of livelihood. The females of Tharparkar travel a minimum of 3 KM daily in scorching heat for search of water for their families.
GCT realized the need of water, when they found out that most of students of HPSS, are not in good health in the Tharparkar region. They took the initiative in 2014 and up till now the GCT has installed 350 water projects, which covers almost 90,000 beneficiaries. Every village now has their own project, providing a safe reliable source of water right outside their homes.
Orphan Support Program 
Orphan Support Program (OSP) with the help of donors to help fulfilling the need of education, ethical and moral, health and sustenance need of orphans. Under OSP more than 1000 Orphans are getting supported. The four main elements are:
Subsistence: monthly ration, clothes, hygiene kits
Education: school fee, books, stationary, uniforms, shoes
Health: proper medical checkups, referrals
Social Activities: picnics, visits to amusement places, confidence building, art and creativity encouragement.
GCT Book Bank 
GCT along with quality education also provides the necessities of education to the deserving students. GCT Book Bank is the program in which books are purchased for the students who could not afford them. These books are then laminated and made a hard cover, which increases their lifespan to 3 to 4 years, ensuring recycling and avoiding paper waste.
Donations 
Being a non-profit organization, the main source of income is from donations, with most of the sources coming from Pakistan, which included corporate and development sectors. Almost 70% of the donations are utilized in education like building and running schools, providing basic equipment, computer and science labs, library books, uniforms and course books. The rest of the donations include 20% in OSP, CERD and Water Project and 10% is allocated for administration cost.

گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی حیران کن کامیابیاں

green-crescent-trust-old

زاہد سعید ادویات کے کاروبار سے منسلک ہیں، یہ انڈس فارما کے نام سے کراچی
میں کمپنی چلا رہے ہیں، یہ دو نسلوں سے بزنس سے وابستہ ہیں، یہ تعلیم سے فراغت کے بعد 1996ء میں کاروبار میں داخل ہوئے،یہ جوں ہی والد کی کرسی پر بیٹھے ان کے ذہن میں فلاح و بہبود کا ایک دلچسپ آئیڈیا آیا، زاہد صاحب نے کراچی کے چھ بڑے کاروباری اداروں کے نوجوان مالکان کو بلایا اور اپنا منصوبہ ان کے سامنے رکھ دیا، یہ لوگ فوراً قائل ہو گئے، یوں چھ بزنس مین خاندانوں کے چھ نوجوانوں نے ’’گرین کریسنٹ ٹرسٹ‘‘ کی بنیاد رکھ دی، تعلیم اس ادارے کا بنیادی مقصد تھا، ان لوگوں نے فیصلہ کیا یہ حکومت کی مدد کے بغیر سندھ کے دیہی علاقوں میں اسکول بنائیں گے، یہ اسکول ان انتہائی غریب اور پسماندہ علاقوں میں بنائے جائیں گے جہاں تعلیم کی سہولت موجود نہیں۔

ان چھ لوگوں نے پیسے جمع کیے اور یہ کراچی ویسٹ اورنگی ٹاؤن کے بلوچ علاقے میں چلے گئے، اس پورے علاقے میں کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں تھا، لوگ تعلیم بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے خلاف تھے، یہ لوگ علاقے کے سردار سے ملے، سردار بھی غریب آدمی تھا، ان لوگوں نے نہ صرف سردار کو اسکول بنانے کے لیے رضا مند کر لیا بلکہ وہ اپنی بیٹی رابعہ کو اسکول میں داخل کرانے کے لیے بھی تیار ہو گیا یوں زاہد سعید نے ہلال اسکول کے نام سے علاقے میں پہلا اسکول قائم کیا، اسکول میں چار سال سے لے کر 14 سال تک کے 50 بچے داخل ہوئے، وہ علاقہ مکمل انگوٹھا چھاپ تھا، بچے بھی ان پڑھ تھے اور ان کے والدین بھی چنانچہ اسکول کو چلانے میں بہت مشکلات پیش آئیں مگر یہ لوگ ڈٹے رہے یہاں تک کہ یہ لوگ کامیاب ہو گئے، سردار کی بیٹی رابعہ نے انٹرمیڈیٹ کیا، ٹیچنگ کا کورس کیا اور یہ اس وقت گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے اسی اسکول میں استادہے۔

یہ ٹرسٹ سندھ میں اب تک 145 اسکول بنا چکا ہے، ان اسکولوں میں 32 ہزار طالب علم پڑھتے ہیں، یہ تمام اسکول چھ بزنس مین فیملیز کی زکوٰۃ اور صدقات پر چل رہے ہیں، ٹرسٹ نے آج تک کسی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سے مدد نہیں لی، یہ لوگ یہ صرف ان علاقوں میں اسکول بناتے ہیں جہاں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے یا پھر وہ علاقہ شہر سے اتنا دور ہے کہ وہاں حکومت اور استاد دونوں نہیں پہنچ پا رہے، یہ لوگ مقامی سردار یا وڈیرے کو اسکول کا سرپرست بنا دیتے ہیں، یہ اسی سے اسکول کا افتتاح کراتے ہیں اور سب سے پہلے اس کے بچوں کو داخلہ دیتے ہیں، یہ کرائے پر عمارت حاصل کرتے ہیں، عمارت کو جدید اسکول کی شکل دیتے ہیں، اس میں واش رومز اور پانی کا بندوبست کرتے ہیں اور بچوں کو وہ ساری سہولتیں فراہم کرتے ہیں جن کی یہ توقع تک نہیں کر سکتے۔

ہلال اسکول کے بچے اور ان کے والدین چٹے ان پڑھ ہوتے ہیں، ان لوگوں کو پڑھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے چنانچہ ٹرسٹ نے ٹیچنگ ٹریننگ کا ایک ادارہ بھی بنا رکھا ہے، یہ ادارہ سی ای آر ڈی (سینٹر فار ایجوکیشن، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) کہلاتا ہے، یہ ادارہ اب تک ایک ہزار چار سو خصوصی استاد تیار کر چکا ہے، یہ ٹرسٹ جتوئی قبیلے کے لیے جتوئی استاد اور چانڈیو قبیلے کے بچوں کے لیے چانڈیو استاد تیار کرتا ہے، ٹرسٹ نے 20 برسوں میں کامیابی کی درجنوں داستانیں تخلیق کیں، ان داستانوں میں ایک داستان تھر بھی ہے، تھر ملک کا وہ علاقہ ہے جس میں آج تک حکومت بھی اسکول نہیں چلا سکی لیکن ان لوگوں نے نہ صرف وہاں اسکول بنائے بلکہ ان اسکولوں میں اڑھائی ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔

یہ ٹرسٹ اب تک درجنوں ڈاکٹرز، انجینئرز اور گریجویٹ پیدا کر چکا ہے، ان میں نوشہرو فیروز کی تحصیل مہران پور کی ایک بچی بھی شامل ہے، یہ بچی پولیو کا شکار تھی، یہ کمزور ٹانگوں کے باوجود اسکول آئی اور یہ اب ڈاکٹر ہے، ٹرسٹ کو تھر میں کام کرتے ہوئے دو دلچسپ تجربے ہوئے، پہلا تجربہ لوگوں کی غیرت تھا، تھر کے لوگ غربت کی نچلی لکیر پر زندگی گزار رہے ہیں، یہ پانی کی نعمت تک سے محروم ہیں مگر ان لوگوں نے اس کے باوجود اپنے بچوں کو زکوٰۃ کی رقم سے تعلیم دلانے سے انکار کر دیا، یہ لوگ اسکولوں میں باقاعدہ فیس ادا کرتے ہیں، دوسرا تجربہ پانی تھا۔

تھر کے ایک گاؤں میں پانی نہیں تھا، ٹرسٹ نے گاؤں میں ’’بور‘‘ کرایا، نلکے کے ساتھ چھوٹی سی ٹینکی بنائی، آٹھ ہزار روپے کا جنریٹر لگایا اور پورے گاؤں کو پانی دے دیا، پانی کے اس کنوئیں پر ٹرسٹ کے صرف 80 ہزار روپے خرچ ہوئے، ٹرسٹ کو یہاں سے نیا پراجیکٹ مل گیا، تھر میں کل 2300 دیہات ہیں، یہ لوگ اب تک 400 دیہات کے لیے پانی کا بندوبست کر چکے ہیں، یہ گاؤں میں پانچ لوگوں کی کمیٹی بناتے ہیں، یہ کمیٹی کنوئیں کی حفاظت بھی کرتی ہے اور یہ گاؤں کے تمام لوگوں کو پانی فراہم کرنے کی ذمے دار بھی ہوتی ہے، یہ لوگ کمیٹی کا ڈونر سے براہ راست رابطہ کرا دیتے ہیں، تھر میں دو سال قبل خوفناک قحط آیا لیکن اس قحط کے دوران بھی وہ تمام گاؤں محفوظ رہے جن میں گرین کریسنٹ ٹرسٹ نے پانی کے کنوئیں کھدوائے تھے، کیوں؟ کیونکہ قحط کے دوران بھی گاؤں کے لوگوں اور مال مویشیوں کو پانی ملتا رہا چنانچہ یہ لوگ اور ان کے مویشی دونوں محفوظ رہے۔

یہ گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی دو حیران کن کامیابیاں ہیں، یہ لوگ وہاں اسکول بنا اور چلا رہے ہیں جہاں حکومت کامیاب نہیں ہو سکی، یہ لوگ تھر کے ان ریگستانوں میں پانی کا بندوبست کر رہے ہیں جہاں حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں، یہ ان لوگوں اور ان کے ماڈل کی کامیابی ہے، پاکستان میں آج بھی اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے محروم ہیں، یہ پانچ سے چودہ سال کے بچے ہیں، یہ تعداد آسٹریلیا کی کل آبادی سے زیادہ ہے، گویا ہمارے ملک میں جہالت کا پورا آسٹریلیا تیار ہو رہا ہے اور ہم خاموش بیٹھے ہیں، یہ لوگ اپنے وسائل سے جہالت کے اس آسٹریلیا کو چھوٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ ان کا کمال دیکھئے ملک میں حالات کی خرابی کی وجہ سے اکثر سرکاری اسکول بند ہو جاتے ہیں لیکن ٹرسٹ کا کوئی اسکول پچھلے بیس برسوں کے دوران بند ہوا اور نہ ہی کسی جگہ لڑائی جھگڑے کا کوئی واقعہ پیش آیا، کیوں؟

ہماری حکومتوں کو اس کیوں کا جواب تلاش کرنا چاہیے، یہ لوگ صرف ایک لاکھ روپے میں تھر کے پورے گاؤں کے لیے پانی کا بندوبست بھی کر دیتے ہیں، تھر میں کل 2300 دیہات ہیں گویا حکومت اگر ان کے ماڈل کو کاپی کر لے یا یہ ان لوگوں کو تھر کے تمام دیہات کو پانی سپلائی کرنے کی ذمے داری سونپ دے تو پورے تھر کو 23 کروڑ روپے میں پانی مل جائے گا، حکومت مشکل اور دشوار گزار علاقوں میں اسکول بنانے اور چلانے کی ذمے داری بھی ان لوگوں کو دے سکتی ہے، حکومت ان کا ماڈل لے کر اپنے ٹرسٹ بھی بنا سکتی ہے، یہ ٹرسٹ ان کی لائنوں پر کام کر سکتے ہیں، مجھے یقین ہے یوں تعلیم اور پانی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔

حکومت اگر کسی دن دیہات کے اسکولوں کا سروے کرائے، یہ اگر دیہی علاقوں کی جہالت کی وجوہات تلاش کرے تو یہ حیران رہ جائے گی، گاؤں کا اصل مسئلہ جہالت ہوتا ہے اور جہالت کبھی اکیلی نہیں آتی،یہ اپنے ساتھ دشمنی، نسلی عصبیت، ضد، ظلم اور بیماری بھی لے کر آتی ہے، آپ دنیا میں کسی جگہ دیکھ لیں، آپ کو جاہل شخص میں ضد بھی نظر آئے گی، ظلم بھی، جانبداری بھی اور بیماری بھی اور اس جاہل شخص کا کوئی نہ کوئی دشمن بھی ضرور ہو گا، حکومتیں اس نفسیات کو سمجھے بغیر اسکول بنا دیتی ہیں، یہ بھول جاتی ہیں جتوئی قبیلے کے لوگ اپنے بچے چانڈیو استاد کے پاس نہیں بھجوائیں گے، یہ دونوں رند کو قبول نہیں کریں گے اور رند بچے استاد کے نام کے ساتھ شاہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔

حکومتیں یہ بھی بھول جاتی ہیں قبائل آج بھی اپنے وڈیرے، اپنے سردار کو حکومت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں لہٰذا آپ ان کے علاقوں میں وڈیرے کو شامل کیے بغیر اسکول نہیں چلا سکیں گے اور گرین کریسنٹ ٹرسٹ نے یہ دونوں کام کیے، یہ اسکول کو وڈیرے کی سرپرستی میں دے دیتے ہیں، یہ چانڈیو بچوں کے لیے چانڈیو استاد ٹرینڈ کر دیتے ہیں اور جتوئی بچوں کو جتوئی ٹیچر فراہم کر دیتے ہیں چنانچہ ان کے اسکول بند نہیں ہوتے، یہ لوگ کاروباری بھی ہیں، یہ چیزوں کی اصل ویلیو اور ان کے آپریشن کو سمجھتے ہیں۔

یہ جانتے ہیں آپ جب تک مقامی لوگوں کو ’’اونرشپ‘‘ نہیں دیتے، آپ اس وقت تک کوئی منصوبہ نہیں چلا سکتے چنانچہ یہ لوگ 80 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے میں پانی کا کنواں کھدواتے اور پھر یہ کنوئیں مقامی کمیٹی کے حوالے کر دیتے ہیں اور یہ کمیٹی اپنی مدد آپ کے تحت کنواں چلاتی رہتی ہے اور یوں پانی کا مسئلہ مستقلاً حل ہو جاتا ہے جب کہ ان کے مقابلے میں صوبائی حکومتیں ہوں یا پھر وفاقی یہ سالانہ اربوں روپے خرچ کرتی ہیں لیکن عوام کو تعلیم مل رہی ہے اور نہ ہی پانی، آپ کسی دن اخبارات کھول کر دیکھ لیجیے، آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے سندھ حکومت اب تک تھر میں اربوں روپے خرچ کر چکی ہے۔

وفاقی حکومت بھی اربوں روپے کی گرانٹ دے چکی ہے لیکن قحط بھی اپنی جگہ موجود ہے، خشک سالی بھی، بھوک بھی، اور نقل مکانی بھی، کیوں؟ کیونکہ آپ تھر کے حالات اور تاریخ دیکھ کر تھر کے فیصلے نہیں کر رہے، آپ یہ جانتے ہی نہیں ہیں تھر کو کیا چاہیے؟ تھر کو صرف پانی چاہیے، یہ لوگ پانی کے لیے نقل مکانی کرتے ہیں اور یہ نقل مکانی ان کے جانوروں کو بھی مار دیتی ہے اور ان کے بچوں کو بھی اور یہ لوگ خود بھی پیٹ کی بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں، حکومت اگر گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے ساتھ مل کر 2300 دیہاتوں میں پانی کے کنوئیں کھدوا دے اور یہ لانگ ٹرم کے طور پر تھر سے کوئی بڑی نہر نکال دے تو تھر کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، حکومت اگر اسی طرح اسکولوں سے محروم اڑھائی کروڑ بچوں کا ڈیٹا جمع کرے، بچوں کے مقام اور آبادی کا تخمینہ لگائے۔

گرین کریسنٹ ٹرسٹ جیسے ادارے تلاش کرے، مخیر حضرات کی مدد لے اور تعلیم سے محروم ان بچوں کی ذمے داری ان لوگوں کو سونپ دے تو ملک میں تعلیمی انقلاب آ جائے گا لیکن اس انقلاب سے پہلے ہمیں یہ ماننا ہوگا ہمارے سرکاری ادارے نااہل ہیں، یہ 21 ویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتے چنانچہ حکومتوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کی مدد لینا ہوگی، ہمیں یہ مدد فوراً لینی چاہیے، یہ ہمارے لوگ ہیں، یہ لوگ دل سے اس ملک کو ترقی یافتہ اور خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ آپ ان کی سپورٹ لیں، اس سے پہلے کہ یہ سپورٹ دینے اور آپ سپورٹ لینے کے قابل نہ رہیں۔

جاوید چوہدری