دو اعلی فلاحی تعلیمی ادارے

Dr Qadeer Khan1
Read dr-abdul-qadeer-khan Column do-aala-falahi-o-talimi-idaray published on 2016-11-28 in Daily JangAkhbar

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

Advertisements

جنید جمشید کے ساتھ گزرے چند سنہری لمحات

جنید جمشید تاریخ کا حصہ بن گئے، کہنے میں یہ بات جتنی آسان لگ رہی ہے، اِس کا تصور کرنا اتنا ہی مشکل ثابت ہورہا ہے۔ اگر مبالغہ نہ کیا جائے تو اُن کے لاکھوں نہیں کروڑوں پرستار تھے اور اتنے سارے پرستاروں میں ایک پرستار میں بھی تھا۔ سچ پوچھیے تو میں نے کبهی نہیں سوچا تها کہ میں جنید جمشید کے اتنا قریب بهی جاسکوں گا۔ جب بچپن سے لڑکپن کی جانب بڑھا تو جنید بھائی کی سریلی آواز کا دور تها، اسکول کے زمانے میں جس طرح دیگر دوست اُن کے دیوانے تهے اُسی طرح میں بهی دیوانہ تها۔

مشروب کے ایک برانڈ کا گانا تقریباً ان کے آخری گانوں میں سے تها،

دل مانگے دل مانگے مانگے،

ایسے باندهیں پیار کے دهاگے،

ایک ہیں پاکستانی سارے،

مل جل کر ہم جائیں آگے

اس گانے کی کیسٹ میرے اسکول بیگ میں ہوتی تهی، یہ جنید بهائی کے عروج کا زمانہ تها، مگر اچانک ہی خبر آئی کہ جنید جمشید نے گانا چهوڑ دیا۔ اس خبر نے اس زمانے کی نئی ابهرتی نسلوں کو بالکل اسی طرح دم بخود کردیا تها، جس طرح آج ان کی ناگہانی موت نے کیا۔ اس وقت کوئی بهی یہ نہیں سوچ سکتا تها کہ جنید جمشید گانا چهوڑ سکتے ہیں۔ جہاں جنید جمشید کے اِس فیصلے نے نوجوانوں کی اکثریت کو اداس کردیا تھا، وہیں اِس فیصلے کے بعد خود اُن پر بهی بڑے سخت حالات اور آزمائیشیں آئیں اور ایک وقت ایسا بهی آیا کہ لوگوں نے سمجها اب جنید کا زمانہ ختم، عموماً جیسا دوسرے شوبز کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ آف فیلڈ ہوئے تو زمانہ بهلا دیتا ہے۔

مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جنید جمشید کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، وہ جنید جمشید کے بعد جے جے بن کر ابهرے اور پهر چها گئے، لیکن اب کی بار مقبولیت کی وجہ موسیقی نہیں بلکہ دین کی تبلیغ، نعت خوانی اور کپڑے کا کاروبار تھا۔ اگر اُن کے بُرے حالات میں میری اُن سے ملاقات اور دوستی ہوئی ہوتی تو شاید میں اِس قدر خود کو خوش نصیب نہ سمجھتا لیکن میں اُن سے اُس وقت ملا جب جنید جمشید ایک بار پھر مقبولیت کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھ رہے تھے۔ مجهے یقین ہی نہیں تها ایک دن میں اپنے سامنے کهڑے جنید بهائی کو ان کا گانا ’’دل مانگے دل مانگے مانگے‘‘ یاد دلا رہا ہوں گا، اور ان کو یاد نہیں آرہا ہو گا۔ وہ کچھ الجھن میں تهے کیونکہ انہوں نے دل مانگے کے دو گانے گائے تهے، اور جب اُن کی مشکل میں مزید اضافہ ہوا تو میں نے انہیں اس کے بول یاد کرانے کی کوشش کی،

حق تلفی کا سب کو گلا ہے

کیا محنت کا یہی صلا ہے

ظلم، جبر، غربت، افلاس

مایوسی ہے چاروں پاس

کیا جینا غیروں کے سہارے

قوم کی غیرت کو للکارے

بدلے طریقے بدلے طور

دل مانگے دل مانگے اور

جنید بهائی یہ سنتے حیران ہوگئے کہ یہ کہاں سے رٹا ہوا ہے، مجهے تو یاد ہی نہیں تها۔ بہت خوش ہوئے پهر کہنے لگے کہ یار اس کی شاعری بڑی پاور فل ہے اس کو دوبارہ ریکارڈ کرتے ہیں اپنے طریقے سے، میں نے کہا صرف یہی نہیں بلکہ اس زمانے کے 6، 5 ملی نغمے ملا کر ایک مکس ٹریک بنائیں گے۔ یہ سنتے ہی وہ ایسے جذباتی ہوگئے کہ جیسے بس ابهی ریکارڈ کرلیں گے۔ جنید بهائی کبهی بهی اپنے مداحوں کی اس نسل کو نہیں بهولے جو ان کے عروج کے وقت کانسرٹ کے دوران پہلی صفوں میں نظر آیا کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے منفرد اسٹائل میں یہ کہتے تهے کہ یار میں اپنے میوزک کے دور کے فینز کو چهوڑ نہیں سکتا، کل کو مجھ سے ہی پوچھ ہوگی کہ خود تو دین کا بیڑا اٹها کر نکل گیا اور پیچهے پوری قوم کو میوزک پر لگا آیا۔ اسی لئے وہ اکثر و بیشتر حمد و نعت ریکارڈ کراتے رہتے تهے، اور جہاں موقع ملتا سناتے بهی رہتے۔ میوزک چهوڑنے کے بعد کبهی بهی انہوں نے اپنی حمد و نعت یا ترانوں کا معاوضہ نہیں لیا۔

انہوں نے موسیقی تو چهوڑ دی مگر نوجوان نسل کو اپنا ایک مہذب ٹرینڈ بهی دیا چاہے وہ حمد ونعت ہوں، ترانے ہوں یا پوشاک۔ میں نے جنید بهائی سے بنوریہ میڈیا کے تحت ایک نئے پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نعتیں حمدیں تو بہت ریکارڈ کی ہیں مگر ملی نغمیں اب تک ریکارڈ نہیں کئے۔ کہنے لگے لوگ ملی نغمے میوزک کے بغیر سنتے نہیں، میں نے کہا ہم کریں گے۔ پہلی بار ہم مدارس طبقے سے ایک پروفیشنل کوالٹی کا ملی نغمہ ریلیز کریں گے تو شاید معاشرے سے نفرت و فرقہ واریت کے خاتمے میں کوئی مدد ہوجائے، جس پر جنید بهائی فوراً تیار ہوگئے۔ کہا شروع ہوجاؤ میں اس پراجیکٹ کے لئے تیار ہوں۔

یہ وہ وقت تها جب اُن پر گستاخ رسول ﷺ کے فتوے لگ رہے تهے، قتل کی دهمکیاں مل رہی تهیں، رمضان کا مہینہ تها، تو رمضان ٹرانسمیشن بهی کررہے تهے۔

جس اسٹوڈیو پر اُن کی نشریات جاری تھیں، دھمکیوں کے سبب انہوں نے اُسی اسٹوڈیو میں ہی اہل خانہ کے ہمراہ رہنے کو ترجیح دی۔ سیکیورٹی سخت تهی اور ان کو باہر بهی نکلنے نہیں دیا جارہا تها۔ ’پاک وطن‘ پراجیکٹ کی آڈیو ریکارڈنگ کے لئے جنید بهائی نے کہا کہ چاند رات کو اسٹوڈیو کا ٹائم لے لو میں ٹرانسمیشن سے فارغ بهی ہوجاؤں گا تو سکون سے ریکارڈنگ کر لیں گے۔ جنید بھائی چاند رات کو فارغ ہوکر رات 1 بجے اسٹوڈیو پہنچے، میں نے کہا ابھی تو بہت تاخیر ہو گئی ہے، صبح عید بھی ہے تو عید کے بعد کر لیتے ہیں۔ میری آفر پر انہوں نے مذاقاً کہا کہ ارے کر لے ابهی! پهر جنید جمشید ہاتھ آئے یا نا آئے۔ بہرکیف گن مین اور ڈرائیور کو عید کا خرچہ دیا اور کہا گهر جاؤ، صبح عید ہے تیاریاں کرو میں ریکارڈنگ سے فارغ ہوکر خود گهر چلا جاؤں گا۔

اُن کا یہ فیصلہ تمام ہی لوگوں کے لیے حیران کن تھا کیونکہ اُن کی زندگی کو خطرہ جو تھا۔ اُن کو اِس فیصلے کی واپسی کے لیے ہزار سمجهایا مگر انہوں نے گارڈ اور ڈرائیور کو بهجوا دیا، اور پهر کہنے لگے لاو اب بتاو کیا ریکارڈ کرنا ہے؟ قارئین آپ حیران ہوں گے کہ ہم نے بوقت ریکارڈنگ جنید بهائی کو بتایا کہ ہم استاد امانت علی خان کا ’اے وطن پاک وطن‘ ریکارڈ کررہے ہیں۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ وہ تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ ایک تو میری کوئی تیاری نہیں اوپر سے تم لوگوں نے نغمہ بهی ایسا منتخب کیا جس کو گانے سے بڑے سے بڑے گائیک بهی بهاگتے نظر آتے ہیں۔ بہرکیف انہوں نے ریکارڈنگ کروائی اور چاند رات کو 4 بجے فارغ ہوئے اور شہر کے خراب حالات میں اکیلے گاڑی ڈرائیو کرکے گهر گئے، وہ بڑے نڈر قسم کے انسان تهے اور ڈر خوف نام کی کوئی چیز کم از کم میں نے تو اُن کے قریب بھٹکتے نہیں دیکھی۔

سلمان ربانی

تعلیم امیر کی جاگیر نہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں محمد ایوب نامی ایک شخص سڑک پر  بیٹھے بچوں کو طویل عرصے سے تعلیم دیتے آرہے ہیں۔ نوجوانوں سے بھرا یہ اسکول محمد ایوب کی کئی سالوں کی محبت کا پھل ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا کسی امیر کی جاگیر نہیں بلکہ تعلیم ہر انسان کا حق ہے۔ محمد ایوب ایک ایسے پاکستانی جنھوں نے اپنے دم توڑتے والد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم کو یقینی بنائیں گے اور پھر ان کی زندگی نادار بچوں کو تعلیم دینے کے لیے وقف ہوکر رہ گئی۔

فلاحی اداروں کے دستر خواں

Saylani Welfare1

 اس وقت شہرکراچی کی آبادی پونے دوکروڑکے لگ بھگ ہے،اس لحاظ سے یہ دنیا کا بارہواں بڑا شہرہے۔ مستقبل قریب میں یعنی آیندہ 15 برس میں کراچی کی آبادی 50 فیصد کے حساب سے بڑھتے ہوئے دگنی ہوجائے گی ، یوں کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا شہر بن جائے گا ۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے جس کی ترقی کے لیے انفرا اسٹرکچرکی تعمیر اور وسائل کوموثر انداز میں استعمال میں لانے کے لیے دیرپا منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ ایک طویل عرصے سے ملک کے دیگر علاقوں سے روزگارکے حصول کے لیے لوگ شہرکراچی کا رخ کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے شہرکی آبادی میں دن بہ دن  اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جب کہ شہرکراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں شہر میں وسائل کم ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ شہرمیں مقیم آبادی کا معیار زندگی بلند ہونا ہی شہرکی ترقی کا ضامن ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضرویات زندگی کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ روزگارکے حصول کے لیے دربدرکی ٹھوکریں کھا رہا ہے، مزدور طبقہ کم اجرت پرکام کرنے پرمجبورہے۔  پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی ہے  اوراس کا فرسودہ نظام شہریوں کے لیے عذاب بنا ہوا ہے ۔ پانی، بجلی، گیس  کی قلت نے شہری زندگی کا پہیہ جام رکھا ہے۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شہر کراچی کے لاکھوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہے۔

بھلا ہوکراچی کے ان فلاحی اداروں کا جن کے دستر خوان غریب مستحقین اورسفید پوش گھرانوں کو باعزت طریقے سے پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ان دسترخوانوں پر باعزت طریقے سے 2 لاکھ سے زائد افرادکو دو وقت کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، یہ دسترخوان شہر کراچی کے مختلف علاقوں اور بڑے سرکاری اسپتالوں کے باہر قائم کیے گئے ہیں اوراس کارخیر میں سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ، چھپا فاؤنڈیشن، ایدھی فاؤنڈیشن، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ، جعفریہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اور بحریہ ٹاؤن سمیت دیگر فلاحی ادارے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ہزاروں افراد خاموشی سے ان دسترخوانوں پر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اورکھانے کی فراہمی کے دوران فلاحی اداروں کے رضاکاروں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی کی بھی عزت نفس مجروح نہ ہواور وہ باعزت طریقے سے کھانا کھا کر چلا جائے۔

ایک سروے رپورٹ کے مطابق ان فلاحی اداروں کی جانب سے 80 مقامات پر 110 دستر خوان لگائے گئے ہیں، جہاں ان فلاحی اداروں کے رضا کار مستحقین،غرباء اور روزانہ اجرت پرکام کرنے والے افراد کے علاوہ سفید پوش گھرانوں کے افراد کو دو وقت  کا کھانا کھلاتے ہیں۔ ان اداروں کا کھانا کھلانے کا نیٹ ورک انتہائی مضبوط اورمنظم ہے ہرادارے نے کھانے کی تیاری کے لیے مرکزی کچن مختلف علاقوں میں قائم کیے ہوئے ہیں۔ مردوں اورخواتین کے لیے الگ الگ جگہ مختص ہوتی ہے۔ بڑے بڑے تھالوں میں سالن ڈالا جاتا ہے یا مختلف دسترخوانوں پر ہرکھانا کھانے والے شخص کو پلیٹ دی جاتی ہے اورباعزت طریقے سے ان کو سالن اورجتنی روٹی وہ کھانا چاہیں انھیں فراہم کی جاتی ہے۔ مختلف ادارے دو وقت کا کھانا ان فلاحی اداروں کے دسترخوانوں پرہزاروں افرادکو فراہم کرتے ہیں،اسپتالوں کے باہرلگائے گئے دسترخوان مریضوں کے تیمارداریوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے،ان فلاحی اداروں کی جانب سے ان دسترخوانوں کے علاوہ کراچی سینٹرل جیل اورملیر جیل میں صدقے کے بکروں کا گوشت فراہم کیا جاتا ہے۔

ان فلاحی اداروں میں روزانہ 3 ہزار سے زائد صدقے،عقیقے اورخیرات کے بکرے اللہ کی راہ میں قربان کیے جاتے ہیں ۔ شہری خاموشی سے آتے ہیں اور یہ بکرے ان فلاحی اداروں کے منتظمین کے حوالے کرکے چلے جاتے ہیں، پھر ان کو ذبح کیا جاتا ہے، ہرادارے کا اپنا مرکزی باورچی خانہ ہے۔ ایدھی نے سہراب گوٹھ ، سیلانی نے بہادر آباد، چھیپا نے ایف ٹی سی، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ نے بہادرآباد میں مرکزی باورچی خانہ قائم کیا ہے جب کہ ان اداروں نے روٹی کے بڑے پلانٹ بھی لگائے ہیں،ان روٹی پلانٹ میں روزانہ 6 لاکھ سے زائد روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔

مختلف فلاحی اداروں کے دسترخوانوں پر یومیہ ایک کروڑ 30 لاکھ  سے زائد کے اخراجات آتے ہیں یہ سب کچھ مخیر حضرات کے تعاون سے ممکن ہوتا ہے اور معاشرے میں اللہ کے نیک بندوں کی کمی نہیں ہے، وہ مسلسل اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ، جس کی وجہ سے دستر خوان کے نیٹ ورک میں اضافہ ہورہا ہے۔ 55 مقامات پر سیلانی دستر خوان لگائے جاتے ہیں،ان دستر خوانوں پر ایک وقت میں 50 ہزار سے زائد افراد کھانا کھاتے ہیں اور روزانہ بکرے کا گوشت جس میں مختلف سبزیاں ڈالی جاتی ہیں، منظم نیٹ ورک کے ذریعے اس کارخیر کو انجام دیا جاتا ہے، سول اورجناح اسپتال کے علاوہ سٹی کورٹ میں بھی سیلانی دسترخوان موجود ہے۔

چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے کراچی میں 40 دسترخوان  قائم ہیں،ان دسترخوانوں پر روزانہ 60 ہزار سے زائد لوگوں کو 2 وقت کا کھانا کھلایا جاتا ہے، 300 رضاکار اس کارخیر میں خدمات انجام دیتے ہیں، دسترخوان پر مزدور،کم آمدنی والے افراد اوردیگر سفید پوش افراد کھانا کھاتے ہیں اور یہ عمل خاموشی سے مکمل کیا جاتا ہے۔ جعفریہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ نے نمائش پر دسترخوان قا ئم کیا ہے ، جہاں روزانہ  ایک ہزارافراد کو 2 وقت کا کھانا کھلایا جاتا ہے،عالمگیر ویلفئیر ٹرسٹ نے شہر کراچی میں دو دسترخوان قائم کیے ہیں،ان کی موبائل دسترخوان سروس ہے،روزانہ مختلف علاقوں میں کھانے کے 5 ہزارپیکٹ غریب اور مستحق افراد میں تقسیم کرتی ہے، 6 موبائل دستر خوان سروس مختلف علاقوں میں جاکر ایسے افراد کو کھانے کے پیکٹ دیتی ہے جن کی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے 7 بڑے دسترخوان ہیں، جو سہراب گوٹھ ،کھارادر،کلفٹن اوردیگرعلاقوں میں واقع ہیں،کھانے کی تقسیم صرف ایک وقت میں کی جاتی ہے اور روزانہ ان دسترخوانوں پر30 ہزار سے زائد افراد کوکھانا کھلایا جاتا ہے۔ خدمت خلق فاؤنڈیشن کی جانب سے دسترخوان تو نہیں لگائے جاتے لیکن 8 سے 10 ہزار خاندانوں کوکفالت پروگرام کے تحت ماہانہ راشن فراہم کیا جاتا ہے ۔

ان فلاحی کے دسترخوانوں کے علاوہ شہرکراچی کے مختلف علاقوں میں واقع بڑے ہوٹلوں اور نہاری ہاوس بھی غریبوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق ماڑی پور،کھارادر، میٹھادر، برنس روڈ، رنچھوڑ لائن، حسن اسکوائر،طارق روڈ، لیاقت آباد ، حسین آباد، نیوکراچی، سہراب گوٹھ،اورنگی ٹاون، صدر، لانڈھی،کورنگی  سمیت دیگرعلاقوں میں 300 سے زائد ایسے ہوٹل اورنہاری ہاوسز موجود ہیں جہاں مخیر حضرات خاموشی سے آتے ہیں اور کھانے کے پیسے دے کر چلے جاتے ہیں،اس کے بعد ہوٹل انتظامیہ باعزت طریقے سے ان افراد کو جو ہوٹل کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں ان کوکھانا فراہم کرتی ہے،ان ہوٹلوں سے ایک لاکھ سے زائد افراد  روزانہ کھانا کھاتے ہیں۔

لیاری بھی کراچی کا ایک حصہ ہے یہاں غربت اپنا پنجے گاڑھے ہوئے ہے، یہاں ہشت چوک پر بحریہ ٹاون کا  اور لیاری جنرل اسپتال کے قریب سیلانی کے دسترخوان قائم ہیں، جہاں روزانہ سیکڑوں افراد پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔علاوہ ازیں لیاری کے علاقے کلاکوٹ صادر برلین میں سیلانی کا مقامی مرکز قائم ہے جہاں سے غریبوں اور مسکینوں کی مدد کی جاتی ہے،کھانا کھلایا جاتا ہے،راشن تقسیم کیا جاتا ہے،کپڑے دیے جاتے ہیں، علاج ومعالجے میں مدد دی جاتی ہے، بے روزگار نوجوانوں کو رکشے دیے جاتے ہیں، یہاں گبول پارک میں دیوار مہربانی  بھی ہے جہاں لوگ اپنے پرانے کپڑے ٹانگ دیتے ہیں اور ضرورت مند موقع دیکھ کر منہ اندھیرے میں  جاتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت ایک زمانے سے لیاری میں گوشت، سلے سلائے ملبوسات ، وہیل چیئرزاور شادی بیاہ میں امداد و تعاون  سمیت دیگر خدمات انجام دی جارہی ہیں۔

کراچی ملک کا واحد شہر ہے جہاں سب سے زیادہ عوامی دسترخوان لگائے جاتے ہیں، جہاں مخیر حضرات اورفلاحی تنظیموں کی جانب سے رمضان مبارک کے مہینے  میں روزہ داروں کو افطارکرانے، کھانا کھلانے کے لیے دسترخوان سجا دیتے ہیں۔ شہرکراچی میں روزہ داروں کے لیے 4 ہزار سے زائد عوامی دستر خوان لگائے جاتے ہیں، یہاں 25 سے30 لاکھ افراد خاموشی کے ساتھ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے افطارکرتے ہیں۔ یہ عوامی دسترخوان شاہراہوں، سڑکوں، عوامی مقامات، بس اسٹاپس پر لگائے جاتے ہیں، مختلف افطار دستر خوانوں کا اہتمام صاحب حیثیت اورخدا ترس خواتین بھی کرتی ہیں،امام بارگاہوں، مساجد، مدارس میں بھی افطارکا اہتمام کیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں علاقائی سطح پر بھی لوگ افطار اورکھانے کا اہتمام کرتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں افطار بکس غریب علاقوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔  علاوہ ازیں سحری کے اوقات میں ہزاروں کی تعداد میں خاندانوں کو ان کے گھروں پر سحری پہنچائی جاتی رہی ہے۔ یہ غریب پرورشہرکراچی کی وہ صورت حال ہے جو عوامی ریلیف سے بے نیاز و بے رحم حکمرانوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔

شبیر احمد ارمان

Dr. Abdul Wahab : The man who denied admission to his own son at IBA

Dr Wahab1
Former vice chancellor of the University of Karachi and head of the Institute of Business Administration (IBA) Dr Abdul Wahab passed away here on Tuesday after a prolonged illness. He was 77. He is survived by his wife, three sons and a daughter. Dr Wahab was born in the state of Tonk, Rajasthan. In 1948 he migrated to Pakistan. He obtained his bachelor’s degree in psychology from S.M. Arts College and did his master’s in business administration from the IBA. He joined the same institute as a lecturer. Afterwards, he got his doctoral degree from the University of British Columbia, Canada. On his return to Pakistan in 1978 he was appointed deputy director of the IBA. He retired from the institute as its director in 1999.
Dr Wahab also served as vice chancellor of the University of Karachi (1994-96) and president of Mohammad Ali Jinnah University (2002-2016). Dr Wahab was known for his upright attitude towards education. Under his leadership the IBA emerged as the premier educational institute of the country. He was a hard taskmaster who did not tolerate any laxity on the part of his faculty or those who ran the IBA administration. He himself set an example by refusing to act submissively in front of the high and mighty. Not just that, he turned down one of his own sons admission application to the IBA because he had fewer marks than required.
Dr Wahab’s stint at the University of Karachi was not a smooth one. Student wings of political parties were hyperactive at the time. He had to deal with quite a few contentious issues, including the matter of clearing the boys’ hostels of students who were not enrolled. Talking to Dawn, former vice chancellor of Karachi University and poet Dr Pirzada Qasim said: “I had known Dr Wahab since 1965-66. The IBA was the first business management school outside of America. Therefore it had a great deal of significance, and naturally it needed top-notch faculty to run it. Dr Wahab was one of those who ran the institution successfully, both as a teacher and as its director. He was known for attaching great importance to discipline. It showed in the way things functioned. Then he worked with other institutions as well, which means that he was an important figure in the field of education in the country.
“As far as his KU tenure goes, he did not work there for a long time. He tried to run it like he ran the IBA. But the KU was a much bigger institution, because even at that time there were 17,000 students, which was why some problems reared their heads,” said Dr Qasim. Dr Wahab’s son Farooque said: “He was loving and scholarly, and because of that the atmosphere around the house was scholarly.”Another son, Babar, said: “We have 50 years of memories of him. He was a loving and kind-hearted man. People used to ask me whether he was as strict at home as he was at the IBA. I would tell them that nothing like that. He was a gentle soul.”Dr Wahab’s funeral prayers will be held at Karachi University’s main mosque on Wednesday after Zuhr. He will be buried in the university graveyard.
Published in Dawn, September 7th, 2016

جان شیر خان : ایک عہد ساز شخصیت

Jansher Khan2گذشتہ دنوں جان شیر خان سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی وہ ویسے نہیں تھے جو بیس سال قبل تھے ان کا رویہ اب تبدیل ہو چکا تھا، مد مقابل کھلاڑی سے اسکواش کورٹ میں ہر اعزاز چھین لینے والا جان شیر خان اب ایک ایسی بیماری سے لڑ رہا ہے جس نے بظاہر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا لیکن عمر کے ڈھلتے سائے اس کے چہرے سے عیاں ہونے لگے تھے۔ میں نے جان شیر خان سے کئی بار کہا کہ اس پر کتاب لکھنا چاہتا ہوں ،لکھنے کا کوئی مسئلہ نہیں مگر یہ آپ بیتی ہو تو دنیا جان شیر خان کے بارے میں اس کی زبانی بہت کچھ جان سکے گی مگر جان شیر نجانے کیوں ایسا نہیں کرنا چاہتا اگرچہ اب میں نے فیصلہ تو کر لیا ہے کہ بہت جلد اس عظیم کھلاڑی سے متعلق کتاب لکھوں گا مگر اس میں بہت سی باتیں تشنہ رہ جائیں گی ۔

جان شیر کے فرزند ایاز شیر خان اپنے والد کی کامیابیوں کو زندہ رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں میں نے انھیں بھی چند سوالات لکھ کر دیے لیکن جان شیر خان اسے بھی وقت نہیں دے پا رہے ۔ مختصر سی ملاقات کے دوران میں جان شیر کو محض دیکھتا ہی رہا اور پھر ایک ایک کر کے اس کی کامیابیاں آنکھوں کے سامنے آنے لگیں۔ وہ جب اسکواش کورٹ میں بڑی شان سے داخل ہوا کرتا اور دیکھتے ہی دیکھتے مد مقابل کو زیر کر لیتا ،اس نے دنیا کے ہر اس کھلاڑی کو شکست دی جس نے اسکواش کھیل پر حکمرانی کا خواب دیکھا ،جان شیر خان نے ہر اس کھلاڑی سے بدلہ لیا جس نے کبھی بھی کسی وقت کسی پاکستانی کھلاڑی کے خلاف کامیابی حاصل کی،اس نے دنیا کے ہر اس ملک میں جہاں اسکواش کھیلی یا جانی جاتی ہے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔Jansher Khan1

جان شیر خان نے لا تعداد ٹورنامنٹ کھیلے ،بے شمار کامیابیاں حاصل کیں اور پھر اسے بہت سی مزاحمتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ مجھے پشاور کے آرمی اسکواش کمپلیکس میں کھیلا گیا وہ میچ یاد ہے جب وہ جہانگیر خان کے مد مقابل تھا ،جب وہ پوائنٹ حاصل کرتا تو کورٹس میں خاموشی چھا جاتی اور جب جہانگیر خان کامیابی حاصل کرتا تو کورٹ شائقین کی تالیوں سے گونج اٹھتا اور پھر جان شیر خان اور خوب کھیلنا شروع کرتا اس کے فورہینڈ اسٹروکس پر جب گیند سامنے دیوار سے ٹکراتی تو پٹاخ کی آواز دل و دماغ میں ارتعاش پیدا کر دیتی ۔ جب وہ فاتح بن کر کورٹ سے  باہر نکلا توداد نہ دینے والے ان شائقین کو دیکھ کر مسکرایا اور پھر نظریں نیچی کر لیں ۔اب شائقین کے پاس کوئی جواز باقی نہ بچا تھا تب تالیاں جان شیر کے لیے بجنا شروع ہوئیں اور پھر کافی دیر تک بجتی رہیں۔

میں جان شیر خان کے چہرے پر نظریں جمائے چند لمحوں کے لیے پھر ماضی میں لوٹ گیا کہ جان شیر خان زیادہ مقبولیت کیوں حاصل نہیں کر سکا اس کا جواب قطعی مشکل نہیں! اسے اس کا حق چاہیے تھا جو مل نہ پا رہا تھا وہ پشاور میں قیام پذیر تھا اور اس کی رسائی متعلقہ افراد تک بسا اوقات نا ممکن ہوا کرتی تھی لہٰذا اس نے اپنا ہر حق چھین کر حاصل کیا ۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ پشاور اور اس وقت کا صوبہ سرحد شاید اس کے لیے بد قسمتی کا سبب بن گیا تھا اور ایسا آج بھی ہے بالکل ویسا ہی جس طرح ماضی میں جان شیر کو نظر انداز کیا جاتا تھا آج بھی قوم پرستی اس صوبے کی قابل فخر شخصیات ،ملک و قوم کی خدمت کرنے والوں بلکہ عوام کے لیے وبال جان بن چکی ہے یہاں کے حکمران ،یہاں کے بیورو کریٹس، یہاں کے سرمایہ کار سبھی اس صوبے کو وقتی طور پر استعمال کر کے یہاں کے محب وطن لوگوں کو بے بس و بے یارو مددگار چھوڑنا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔

مگر جان شیر نے ٹھیک کیا ،کسی بھی مخالفت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے ادارے پی آئی اے،پاکستان اسکواش فیڈریشن اور سپانسرز سبھی کو جوتے کی نوک پر رکھا ورنہ آج شاید اس کا نام لیو اکوئی نہ ہوتا ۔ میں نے جان شیر سے کہا کہ ماضی یاد آتا ہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی !وہ جان گیا کہ میں کوئی شرارت کرنے جا رہا تھا، مگر کہنے لگا بہت خوش ہوں اللہ تعالیٰ نے ہر خوشی سے نوازا ہے مجھے ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے کا اعزاز ملا ،ریکارڈز کی دنیا میں جہاں اس کا نام درج ہے سامنے پاکستان کا نام بھی ہے، وہ جو بھی ہے اس ملک کی وجہ سے ہے۔

اس کی کامیابیاں اس کی زندگی کا سرمایہ ہیں،اس کی اولاد اس کے مستقبل کا یقین ہے۔ اسے کبھی اپنے ماضی پر ملا ل نہیں ہوا، ذاتی زندگی کو موضوع بحث بنائے بناء اس کا کھیل ناقدین کے ہر سوال کا بیباک جواب رہا اور یہ اعزاز و اکرام ہر کسی کے حصے میں کم ہی آتا ہے۔ آج اسکواش میں ناکامیوں پر جان شیر خان ضرور مایوس تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں وہ جذبہ اور لگن نہیں جو ماضی میں جہانگیر خان اور ان میں ہوا کرتی تھی۔ ان کے خیال میں اپ سیٹ کامیابیاں ہی کسی کھیل کی ترقی کا باعث بنتی ہیں اور جب پاکستانی کھلاڑیوں نے جیتنا شروع کر دیا تو پھر وہ دن دور نہیں جب سارے عالمی اعزازات ان کے قدموں میں ہوں گے انھیں یہ یقین ضرور تھا کہ پاکستانی کھلاڑی ایک دن ضرور جیتیں گے (ان کی خواہش پاکستانی جونئیر کھلاڑیوں نے پولینڈ میں منعقدہ جونئیر عالمی کپ میں فتح حاصل کر کے پوری کر دی ،پاکستان نے آٹھ برسوں بعد یہ گراں قدر اعزاز اپنے نام کیا)

جان شیر خان بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ وہ زیادہ دیر بات چیت نہیں کر سکے گا ۔ اس کا جذبہ پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کے موقع پر ویسا ہی تھا جب وہ اسکواش کورٹس کے اندر مد مقابل کو لمحوں میں شکست سے دوچار کر دیا کرتا تھا۔ اس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی جو ہر میچ میں فتح کے بعد ہوا کرتی تھی اور بیماری کے خلاف وہی ہمت بھی جو ہمیشہ حق نہ دینے والوں سے حق چھین لینے کی تھی۔ جان شیر خان پاکستان کی عزت و افتخار ہے اور اس کی کامیابیوں کو جب بھی تذکرہ ہو گا پاکستان کا بچہ بچہ اس ان پر فخر کرے گا ،ان کی عظیم کامیابیاں نئی نسل خاص طور پر اسکواش کھیلنے اور جیت کا عزم رکھنے والوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ باعث تقلید رہیں گی۔

امجد عزیز ملک

گوگل اور فائر فاکس کی جانب سے پاکستانی اخلاقی ہیکر رافع بلوچ کیلیے انعام

 پاکستانی اخلاقی ہیکر رافع بلوچ کو گوگل کروم اور فائرفاکس براؤزر میں سیکیورٹی کی اہم خامیاں دریافت کرنے پر ان اداروں کی جانب سے مجموعی طور پر 5 ہزار ڈالر کا انعام دیا گیا ہے۔ رافع بلوچ کو انعامی رقم کے 3 ہزار ڈالر گوگل نے اور ایک ہزار ڈالر فائرفاکس نے جب کہ باقی کے ایک ہزار ڈالر ایک نامعلوم ادارے نے بطور انعام دیئے ہیں۔ رافع پچھلے 6 سال سے سائبر سیکیورٹی کی دنیا سے وابستہ ہیں اور اب تک انٹرنیٹ پر موجود درجنوں سیکیورٹی خطرات اور کمزوریوں کی نشاندہی کرکے اس شعبے میں نمایاں نام بناچکے ہیں۔

کروم اور فائرفاکس میں رافع نے جس خامی کی نشاندہی کی ہے اس کا تعلق ایڈریس بار سے ہے اور اسے ’’ایڈریس بار اسپوفنگ ولنریبلٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس خامی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہیکر کسی اصل ویب سائٹ کے یو آر ایل کے اختتام پر ’’ا‘‘ یا ’’/‘‘ جیسے کیریکٹرز شامل کردیتے ہیں جو اس یو آر ایل کی سمت تبدیل کرکے صارف کو ہیکر کی مرضی کی جگہ پر پہنچادیتے ہیں اور صارف یہ سمجھتا ہے کہ وہ اصل ویب سائٹ دیکھ رہا ہے۔

مثلاً اگر کسی ویب سائٹ کا درست یو آر ایل یہ ہو:

http://ift.tt/2bv1yx6

تو وہ اسپیشل کیریکٹر کی وجہ سے تبدیل ہوکر یوں ہوجائے گا:

127.0.0.1/ا/http://facebook.com

جس سے صارف گمراہ ہوجائے گا اور سمجھے گا کہ وہ (اس مثال میں) فیس بُک ہی کا کوئی پیج دیکھ رہا ہے حالانکہ وہ ہیکر کے بنائے ہوئے (جعلی) فیس بُک پیج پر پہنچ چکا ہوگا۔ اس دھوکے کا شکار ہوکر صارف اپنے پاس ورڈ سے لے کر کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات تک بہت سی قیمتی اور حساس معلومات غلط ہاتھوں میں پہنچاسکتا ہے۔

رافع بلوچ نے گوگل کروم اور فائرفاکس ایڈریس بار میں یہی خرابی ڈھونڈی تھی جسے ان اداروں نے بعد میں درست کرلیا۔ رافع اس سے پہلے بھی پے پال کے آن لائن سسٹم میں خرابیوں کی نشاندہی کرکے 10 ہزار ڈالر بطور انعام حاصل کرچکے ہیں۔