سیلانی ٹرسٹ…دکھی دلوں کا سہارا

ہمارے حکمران ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اگر ان سے یہ کہا جائے کہ حکومتوں
کی طرز حکمرانی بہتر نہیں ہے ۔ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر نظر دوڑانے یا تنقید کے مثبت پہلو تلاش کرنے کی بجائے ناک منہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ جس انداز میں حکومت چلا رہے ہیں ، اس کے نتیجے میں مخلوق مصائب کا شکار ہے۔ حکومتی عہدیدار کیوں نہیں اپنی اصلاح کے لئے ان غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں جو بیرون ملک سے کسی مالی تعاون کی بجائے اسی ملک کے عام و خاص لوگوں کے چندوں سے اپنی تنظیم چلاتے ہیں۔ میرے لئے تو حیرانی کی بات تھی جب ایک سرکاری عہدیدار ایک غیر سرکاری تنظیم سے یہ کہہ رہے ہوں کہ حیدرآباد میں ایک کولڈ سٹوریج مردہ خانے کی ضرورت ہے جہاں لاشوں کو ان کی شناخت ہونے تک رکھا جا سکے تا کہ لوگ لاوارث قرار دے کر دفنا نہیں دئے جائیں۔

یہ غیر سرکاری تنظیم یعنی این جی او سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ہے جس نے سالانہ سمپوزیم 2017ء حیدرآباد میں کیا۔ مہمان خصوصی حیدرآباد کے ایس ایس پی عرفان بلوچ تھے۔ سیلانی ، دکھی دلوں کا سہارا، کے سرپرست حضرت مولانا بشیر فاروقی قادری صاحب ، ٹرسٹ کے صدر ذکریا لاکھانی، ٹرسٹ کے چیئر مین افضل چامڑیا سمیت درجنوں ملازمین اور رضا کار موجود تھے۔ اس موقع کی مناسبت سے ان مخیر حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن کی مالی سرپرستی کے نتیجے میں سیلانی ٹرسٹ کام کرتا ہے۔ مولانا بشیر صاحب بتا رہے تھے کہ سیلانی کا نام حضرت خواجہ محکم الدین سیلانی رحمت اللہ علیہ کے اسم مبارک کی نسبت سے رکھا گیا ہے اور 1999ء میں ایک کمرے اور تین افراد کے ساتھ کام شروع کیا گیا تھا۔ سیلانی کراچی اور حیدرآباد میں وہ واحد ادارہ ہے جو سینکڑوں افراد کو سلیقہ کے ساتھ صاف ستھرے طریقے سے کھانا کھلاتا ہے۔ سیلانی والے کہتے ہیں کہ روزانہ 63 ہزار لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کھانے کی وجہ سے سفید پوش لوگ اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اس بلا معاوضہ کھانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کی رقم نہیں لگائی جاتی ہے۔

سیلانی کا کام قابل تعریف ضرور ہے لیکن سیلانی کے نگرانوں نے جس انداز میں کام پھیلا لیا ہے وہ کم از کم ہر اس شخص کے لئے باعث تشویش ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بڑے حجم کی چیز یا اونچی عمارت کو ہر وقت خطرہ ہی رہتا ہے۔ محدود وسائل کے حامل لوگوں کو کام پھیلانے کی بجائے محدود کام کرنا اور آمدنی بہتر کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں شاہکار کتابوں کے نام سے سید قاسم محمود صاحب نے سستی کتابیں شائع کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں تین روپے کی وہ کتاب دستیاب ہوتی تھی جو محدود وسائل والے لوگ خرید نہیں پاتے تھے۔ پھر انہوں نے اضافہ کرنا شروع کیا، نئے نئے کتابی سلسلے شروع کئے، نتیجہ یہ نکلا کہ کام تو پھیل گیا، اخراجات بڑھ گئے اور بڑے بڑے نام والے پبلشر بھی ان کے در پے ہو گئے۔

ان پبلشروں نے انہیں میدان سے بھگانے کے لئے خود بھی سستی کتابوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاسم محمود صاحب کو کام پھیلانے پر لگا دیا تا کہ کام سمٹ نہ سکے اور ان کا شاہ کار ادارہ سمٹ جائے۔ جب شاہ کار سمٹا تو بڑے پبلشروں نے بھی اپنی سستی کتابوں کو سمیٹ لیا۔ سمپوزیم کے انعقاد پر سیلانی والوں نے جس طرح پیسہ بہایا وہ قابل تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی بڑے کار پوریٹ ادارے کی کوئی تقریب ہے۔ چندے مانگ کر پیسے جمع کرنے والوں کو اپنے اخراجات پر نظر اور گرفت تو رکھنا چاہئے۔ ہمارے دین میں اسراف سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور سادگی اپنانے کا درس بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔

سیلانی نے اپنا کام خود بڑھا لیا ہے۔ آج ان کا نعرہ ہے کہ ’’مہد سے لہد تک ‘‘ یعنی پیدائش سے موت تک وہ مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔ خوراک، صحت، تعلیم، کھانے پینے کی اشیاء کے سٹور ، سماجی بہبود، روزگار، مختلف شعبوں میں تربیت وغیرہ۔ حال ہی میں سیلانی نے آنکھوں کے علاج کے لئے گشتی دواخانہ کی ابتدا بھی کی ہے۔ تنگ گلیوں میں آتش فرو کرنے کے انتظام کے لئے موٹر سائیکلوں کا دستہ تیار کیا ہے۔ روزگار کے سلسلے میں بے روزگار لوگوں کو آسان قسطوں پر رکشہ، خواتین کو سلائی مشینیں وغیرہ فراہم کی جاتی ہیں۔ کھانا کھلانے کے علاوہ ایسے گھرانوں کی کفالت کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جہاں ضعیف العمر افراد ہوں اور کوئی کفیل نہ ہو، ماہانہ کفالت میں راشن کی فراہمی، گھروں کا کرایہ، بچوں کی تعلیم کے اخراجات، ضروریات کے بلوں کی ادائیگی شامل ہیں۔ غریب بچیوں کی شادی میں جہیز یا مہمانوں کے لئے طعام اور دیگر اخراجات مہیا کر کے بچیوں کو باعزت طور پر رخصت کرنے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ غرض سیلانی ضرورت مند لوگوں کی ضروری حاجات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سیلانی کے بنائے ہوئے ٹھکانوں پر کھانا کھاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو کھانے فراہم کرنے کا بندبست کیا جاتا ہے۔ سٹریچر اور پینے کے لئے پانی کا انتظام بھی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر سیلانی رضاکار لوگوں کو پینے کا ٹھنڈا پانی پلاتے ہیں۔ سیلانی والے دعوی کرتے ہیں کہ وہ یہ خدمات بلامعاوضہ انجام دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں بلامعاوضہ کوئی چیز نہیں ہوا کرتی ہے۔ مفت کی سواری اور دور لے جانے کا مطالبہ تو زندگی بھر جاری رہے گا۔ سیلانی کھانا کھلاتا ہے، بہترین کام کرتا ہے لیکن اسے ایک وقت کے کھانے کا کچھ معاوضہ مقرر کرنا چاہئے خواہ وہ پانچ روپے ہی کیوں نہ ہو۔ کھانا کھانے والا کہہ سکے کہ اس نے پیسے دیکر کھانا کھایا ہے۔ اس کی اپنی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی۔ مفت میں روٹی توڑنے کی عادت ڈالنا ، لوگوں کے ساتھ بھلائی نہیں ہے۔ لوگوں کو کچھ کرنے کی عادت ڈالنا چاہئے۔

سیلانی کے ادارے میں 1800 ملازمین کے علاوہ 2500 رضاکار ہیں جو 125 سے زائد برانچوں میں 63 شعبہ جات میں مخلوق کی خدمت پر مامور ہیں۔ 63 شعبوں کی نسبت آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہے۔ اتنے سارے شعبوں کا انتظام چلانا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو حکومتیں نہیں کر پاتی ہیں۔ ایدھی اور چھیپہ مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سیلانی کیوں کر محفوظ رہ سکے گا ؟ یہ سوچنا سیلانی والوں کا کام ہے کہ اپنے کام کے شعبوں کو محدود کریں اور ان محدود شعبوں میں ہی مہارت دکھائیں۔ انہیں تعلیم، تربیت، ہنر مندی کے کاموں پر توجہ دینا چاہئے۔ پاکستان میں جہاں تمام سرکاری ادارے وسائل رکھنے کے باوجود عوام الناس کی خدمت کرنے میں ناکام ہیں اور حکومت ہسپتال، تعلیمی ادارے، حد تو یہ ہے کہ پارک اور کھیل کے میدان بھی ’’گود ‘‘ دینے میں سبکی یا شرمندگی محسوس نہیں کرتی ہیں وہاں غیر سرکاری تنظیموں کو حکومتوں کا ہاتھ اس طرح نہیں بٹانا چاہئے جیسا سیلانی، ایدھی، چھیپہ، فلاح انسانیت یا دیگر تنظیمیں کرتی ہیں۔ حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آئین پاکستان میں دی گئی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقوں سے انجام دیں، شاہانہ طرز حکمرانی سے نجات حاصل کی جائے۔ نااہل، غیر ذمہ دار اور غیر مخلص لیکن حکومتوں میں شامل لوگوں کے پسندیدہ اور خوشامدی لوگوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی سے باز رہا جائے تو کچھ بات بنے گی۔

وگر نہ حکومت کے لوگوں سے ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی ہے تو حکومت سے دست بردار ہوجائیں۔ عوام کے ٹیکسوں یا بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی

قرضوں پر حکومت کے لوگوں کو شاہانہ زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دی جائے۔ اس پر بھی نخرے ہیں کہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں، بیرون ملک علاج کرانے کا خرچہ دیا جاتا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کی جب تنخواہیں ، مراعات اور سہولتیں بڑھائی جاتی ہیں تو دل جلتا ہے۔ کیا اس تماش گاہ میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، بڑے سرکاری عمل داروں اور اہل کاروں کو اندازہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ کیا ہوتی ہے، گرمی کا درجہ حرارت کیا ہوتا ہے، مضر صحت پانی پینے کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑک پر گاڑی کس طرح چلتی ہے؟

کیا اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی ذمہ داری صرف یہ رہ گئی ہے کہ ذرائع ابلاغ سے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کے بعد یہ خبر شائع کرادی جائے کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا ہے۔ کیا ان کی ذمہ داری واقعات کا صرف نوٹس لینا ہی رہ گیا ہے ؟ ہسپتالوں میں کولڈ سٹوریج مردہ خانے بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہے، کسی غیرسرکاری تنظیم کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔ جب غیر سرکاری تنظیمیں کوئی کام کرنے کی ابتدا کرتی ہیں تو حکومت دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس کا کام تو ہو رہا ہے اور غیر سرکاری تنظیموں کے لوگ بھی اپنے آپ کو حکمران کی نقل سمجھنے لگتے ہیں۔ غیر ملکی چندوں پر پلنے والی تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں کو تو ایسا ہی پایا جاتا ہے۔

علی حسن