گوگل کا صادقین کو زبر دست خراج تحسین

گوگل نے پاکستان کے نامور مصور صادقین کو ان کے یوم پیدائش پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پاکستان کے معروف مصور، خطاط اور کیلی گرافر سید صادقین احمد 30 جون 1930 کو بھارت کے شہر امروہا میں پیدا ہوئے اور آپ کا تعلق بھی ایک خطاط فیملی سے تھا۔ آپ نے 1940 کے عشرے میں ترقی پسند رائٹرز اینڈ آرٹسٹ مومنٹ میں شمولیت اختیار کی لیکن آپ کے اصل ٹیلنٹ کو حسین شہید سہروردی نے متعارف کروایا۔ صادقین نے اپنے فن میں نکھار پیدا کرنے کے لئے کچھ وقت پیرس میں بھی گزارا اور آپ کو جنوبی ایشیا میں ایک آئیکونک مصور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

گوگل نے پاکستان کے اس عظیم مصور کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنا ڈوڈل تبدیل کیا ہے۔ واضح رہے کہ صادقین کو ان کی فنی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز، تمغہ حسن کارکردگی اور ستازہ امتیاز جیسے بڑے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ آپ کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آپ کے نام سے کراچی میں صادقین انسٹیٹیوٹ بھی قائم ہے۔

Advertisements

جب راشد منہاس نے دشمن کی سازش ناکام بنائی

راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور وہ نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر ہیں۔ راشد منہاس نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سترہ سال کی عمر میں پاک فضائیہ کی رسالپور اکیڈمی میں بطور فلائنگ کیڈٹ داخلہ لیا۔ 1971 میں راشد مہناس نے اکیڈمی سے جنرل ڈیوٹی پائلٹ کی حیثیت سے گریجوٹ کیا اور انہیں کراچی میں پی اے ایف بیس مسرور پر پوسٹ کیا گیا تاکہ لڑاکا پائلٹ کی تربیت حاصل کر سکیں۔

20اگست 1971 کو زیرتربیت پائلٹ کی حیثیت سے راشد منہاس ٹی 33 جیٹ ٹرینرکو اڑانے والے تھے جب بنگالی پائلٹ انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ دوران پرواز مطیع الرحمان نے راشد منہاس کو سر پرضرب لگا کر بے ہوش کیا اور پرواز کا کنٹرول سنبھال کر طیارے کا رخ ہندوستان کی جانب موڑ دیا۔ اس وقت جب ہندوستان کا فاصلہ 40 میل رہ گیا تھا، راشد منہاس کو ہوش آیا اور انہوں نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی، اس میں ناکامی کے بعد نوجوان پائلٹ کے پاس اپنے طیارے کو ہندوستان لے جانے سے روکنے کا ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور انہوں نے ہندوستانی سرحد سے محض 32 میل دور طیارے کو گرا کر اپنی جان پاکستان کے لیے قربان کر دی۔

راشد منہاس کو 21 اگست 1971 کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور ان نوجوان پائلٹ کے پورے خاندان سمیت پاک فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔ راشد منہاس کو بعد از وفات پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز نشان حیدر دینے کا اعلان اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے کیا اور اس طرح وہ اس اعزاز کو پانے والے سے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے اب تک واحد رکن بن گئے۔ اپنے بیٹے کی شہادت پر راشد منہاس کے والد عبدالماجد منہاس نے یہ کہا ” اگرچہ بیٹے کی وفات کا دکھ کبھی ختم نہ ہونے والا ہے مگر مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اس نے ایک نیک مقصد اور ملک و قوم کے وقار کے لیے اپنی جان قربان کی”۔

اٹھائیس اگست 1971 کو دیئے جانے والے ایک انٹرویو میں عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کا بیٹا شروع سے ہی ایسے کرئیر میں دلچسپی رکھتا تھا جس کے ذریعے وہ ملک و قوم کی خدمت اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس زمانہ طالبعلمی میں جنگوں پر لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھنا پسند کرتے تھے اور ان کے اہم اقوال اپنی ڈائری پر نقل کر لیتے تھے۔ راشد منہاس کی ڈائری پر درج اقوال میں سے ایک میں کہا گیا تھا ” ایک شخص کے لیے سب سے بڑا اعزاز اپنے ملک کے لیے قربان کردینا اور قوم کی امیدوں پر پورا اترنا ہے”۔

راشد منہاس کی تعلیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے راولپنڈی کے میری کیمبرج اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور سنیئر کیمبرج کراچی سے کیا۔ راشد منہاس نے پاک فضائیہ 1968 میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے اور پی اے ایف اکیڈمی سے سائنس کے مضمون میں گریجویشن ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کی بڑا بیٹا ٹیکنیکل مزاج رکھتا تھا اوربارہ سال کی عمر میں ڈرائیونگ سیکھ چکا تھا۔ اس کی زاتی لائبریری میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ الیکٹرونکس اور علم فلکیات کی کتابیں بھی شامل تھیں۔ اس کے مشاغل میں پڑھنا، فوٹوگرافی، ہاکی اور بلیئرڈ شامل تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ راشد منہاس ابتدائی عمر سے مزاجاً ایک آئیڈیلسٹ تھے جو اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس اپنے بہنوئی میجر ناصر احمد خان سے بہت زیادہ متاثر تھے جنھیں ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا ” میرا بیٹا ہر کام کو مکمل کرنے والا، متعدل مزاج لڑکا تھا اور اسے پیسہ کمانے سے دلچسپی نہیں تھی”۔ عبدالماجد منہاس نے کہا کہ راشد منہاس اپنی پیدائش سے ہی پاک فضائیہ سے جڑا ہوا تھا کیونکہ اس کی پیدائش کراچی کے ڈرگ روڈ پر واقع پی اے ایف ہسپتال میں ہوئی ” میرے بیٹے نے اتنی بڑی قربانی دے کر میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا ” ہمارے پاس ایسے فوجی ہیں جو اپنی زندگیاں قوم پر نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں”۔

تیرہ سالہ پاکستانی احسن طاہر کا نام ہیکنگ کے ہال آف فیم میں شامل

پاکستان کے 13 سالہ شہری احسن طاہر کا نام مائیکروسوفٹ اور گوگل کی جانب سے ہیکنگ کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ کراچی کے رہائشی احسن طاہر نویں جماعت کے طالبعلم اور ایک ایتھیکل ہیکر ہیں۔ ایک سال قبل اُن کی اپنی ہی بنائی ہوئی ویب سائٹ ہیک ہو گئی جسے واپس حاصل کرنے کے لیے انھوں نے کامیاب کوشش کی۔ یہیں سے ان کے سفر کا آغاز ہوا کہ کسی ویب سائٹ کو کس طرح محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ احسن طاہر کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی انفراسٹرکچر جیسا کہ حکومتی ویب سائٹس اور پورٹلز سمیت تمام نئے برنس کو بھی محفوظ بنانا ممکن ہے۔‘ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ’ہیکر ون اینڈ بگ کراؤڈ‘ کمپنی نے ان صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں امریکہ آنے کی دعوت دی۔

احسن طاہر نے 18 مارچ سے یکم اپریل تک اپنے دورے میں کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ملاقات بھی کی، جس میں انھوں نے کچھ بڑی انٹرنیشنل ٹیکنالوجی کمپنیز کو اُن کے ڈیٹا بیس میں سکیورٹی نقائص سے آگاہ کیا۔ اس تجربے سے ان کا رجحان ’ایتھیکل ہیکنگ‘ کی جانب مزید بڑھ گیا۔ احسن کا خیال ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کمپنیز کی ویب سائٹس، سماٹ فونز، سماٹ ٹی وی حتیٰ کہ کاریں ہیک کیے جانے کے خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے سائبر سکیورٹی کے میدان میں پاکستان کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ماہرین ’آئی او ٹی‘ ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دیں تو مسئلے کا حل ممکن ہے۔

پاکستان میں آئے دن ویب سائٹس ہیک ہونے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ اُن کا خاتمہ باؤنٹی پروگرامز کے تحت ممکن ہے۔ یہ پروگرامز ہیکنگ کو شفاف بناتے ہیں اور ایتیھکل ہیکرز قانون کے دائرے میں رہ کر کمپنیوں کے ڈیٹا بیس کی سکیورٹی کو لاحق خطرات یا اُن میں خامیاں تلاش کر کے اداروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر محمد مناف کا کہنا ہے کہ ’ایتیھکل ہیکنگ ایک آرٹ ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ احسن طاہر جیسے بچے جو اس کم عمری میں جس نہج پر سوچتے ہیں اور جس مقام پر ہیں یہ وہ اچیومنٹ ہے جو ہیکنگ کی دنیا میں ایک عام شخص اپنے 17 سالہ تجربے سے حاصل کرتا ہے۔‘ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی توجہ اس طرف دلانے کی ضرورت ہے کہ اداروں کے لیے صرف پروگرامنگ ہی نہیں سکیورٹی بھی توجہ طلب شعبہ ہے۔

صبا ناز
اسلام آباد

کاروان علم فائونڈیشن پر مہربانی کریں

زہرہ نواز کے والد آرمی میں سپاہی تھے‘وہ کراچی میں تعینات تھے‘ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے کراچی میں گھر بنا لیا‘ زہرہ کا ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹی بہن تھی‘ اللہ نے تینوں کو ذہانت اور قابلیت سے نواز رکھا تھا‘حالات معمول پر چل رہے تھے کہ محمد نواز کے مزاج میں تبدیلیاں آنے لگیں‘ انھوں نے ایک دن گاؤں واپس جانے کا اعلان کر دیا‘ بیوی نے بچوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا لیکن بے فائدہ‘خوشحال گھرانے میں لڑائی جھگڑے معمول بن گئے‘ بات مار کٹائی تک پہنچ گئی‘ زہرہ نے ان دنوں ایف ایس سی پارٹ ون کے امتحانات دینے تھے لیکن اس کے والد نے اسے کمرے میں بند کر دیا‘ بھائی نے مداخلت کر کے بہن کے پیپر دلوائے جس پر باپ بیٹے کا بھی دشمن ہو گیا۔

بالآخر باپ گھر بیچ کر آبائی گاؤں چلا گیا‘ وہاں اس نے دوسری شادی کر لی اور زہرہ کی والدہ کو طلاق دے دی‘ والدہ بچوں کو لے کرلاہور آ گئی‘ اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا‘ بھائی نے ایف اے کے بعد تعلیم چھوڑ دی اور نوکری شروع کر دی‘ خود زہرہ نے ٹیوشن پڑھانا شروع کردی لیکن وہ کوشش کے باوجود اتنی رقم جمع نہ کر سکی کہ ایف ایس سی پارٹ ٹو میں داخلہ لے سکتی‘ سال اول میں اس نے بہت اچھے نمبرحاصل کیے تھے‘ وہ صبح چھ بجے سے رات نو بجے تک مختلف کلاسز کے بچوں کو پڑھاتی تھی‘ایک سال ضایع ہونے کے بعد اس نے سیکنڈ ائیر میں داخلہ لیا‘معاشی دباؤ اور ٹیوشن پڑھانے کی وجہ سے اس کے سیکنڈ ائیر میں خاطر خواہ نمبر نہ آ سکے جس کی وجہ سے اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ اس نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا اور یوں اس کا مزید ایک سال ضایع ہو گیا۔

اگلے سال اس نے دوبارہ انٹری ٹیسٹ دیا اور اس کا نام آرمی میڈیکل کالج میںویٹنگ لسٹ میں آ گیا‘ زہرہ کو آرمی میڈیکل کالج سے ایڈمیشن کال آئی تو فیملی کے پاس راولپنڈی جانے کے لیے اخراجات بھی نہیں تھے‘ ڈاکٹر شاہد صدیقی (موجودہ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی) کی بیگم کے زہرہ کی والدہ سے بہنوں جیسے تعلقات تھے‘ انھوں نے زہرہ کے ابتدائی اخراجات اورفیس ادا کر دی‘ آرمی میڈیکل کالج میں کلاسز جاری تھیں لیکن زہرہ کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ آیندہ کے تعلیمی اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘اس نے کئی فلاحی اداروں اور مخیر حضرات سے رابطہ کیا لیکن کہیں سے مثبت جواب نہ ملا‘ اس نے آخر میں کاروان علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا اور اسے اسکالرشپ ملنا شروع ہو گیا‘ زہرہ نے ڈینٹل ڈاکٹر کی تعلیم مکمل کی اور یہ آج نہ صرف اپنے خاندان کو سپورٹ کر رہی ہے بلکہ یہ اسپیشلائزیشن کے اخراجات بھی خود ادا کر رہی ہے۔

دوسری کہانی محمد افضل اور ان کی بیگم کشور سلطانہ کی ہے‘ یہ دونوں گوجرانوالہ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ان دونوں نے عزم و ہمت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں سب سے پہلے اولاد نرینہ دی‘ بیٹے کا نام عمیر افضل رکھا گیا‘عمیر پیدائشی نابینا تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں بیٹی عمارہ افضل پیدا ہوئی‘وہ بھی پیدائشی نابینا تھی‘ غریب میاں بیوی دوسری اولاد بھی نابینا ہونے پر آبدیدہ ہو گئے لیکن لبوں پر شکوہ نہ لائے‘ اس کے بعد اللہ تعالی نے انھیں دوسرے بیٹے زبیر سے نوازا لیکن زبیر کو بھی قدرت نے بینائی سے محروم رکھا‘ ہر والدین کی طرح محمد افضل اورکشور سلطانہ کی خواہش بھی تندرست اولاد کی تھی لیکن قدرت کو یہ منظور نہیں تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں آنسہ افضل کی پیدائش ہوئی‘ یہ بچی ریڑھ کی ہڈی کے ٹیڑھے پن کے ساتھ دنیا میں آئی‘محمد افضل اور اس کی بیوی کے پاس دو آپشن تھے۔

یہ اپنے بچوں کو فقیر بنا دیتے یا پھر انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتے‘ میاں بیوی دوسرے آپشن پر چلے گئے‘ انھوں نے معذور بچوں کو علم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا‘محمد افضل محنت مزدوری کر کے گھر کا چولہا چلاتا رہا جب کہ کشور سلطانہ نے خود کو چار معذور بچوں کی پرورش اور تعلیم کے لیے وقف کر دیا‘ زندگی کی گاڑی آگے بڑھتی گئی‘جب عمیر افضل نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو میاں بیوی نے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے لاہور شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا‘ محمد افضل نے لاہور میں کریانے کی دکان کھول لی‘ دکان کی آمدن سے بمشکل گھر کا چولہا جلتا تھا ‘بچوں کی تعلیم‘ آمدورفت اور علاج معالجے کے لیے سخت مالی مشکلات نے حوصلے آزمانا شروع کر دیے۔

ایک دن کشور سلطانہ نے نماز کے بعد بھیگی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی‘اسی شام انھیں ایک جاننے والے کی معرفت کاروان علم فاؤنڈیشن کے بارے میں علم ہوا‘ کشورسلطانہ درخواست لے کر کاروان علم فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچی‘ فاؤنڈیشن نے چاروں بچوں کی ذمے داری اٹھا لی‘ کاروان علم فاؤنڈیشن کے تعاون سے عمیر افضل نے گریجوایشن‘ عمارہ افضل نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ایم فل‘ آنسہ افضل نے کنیئرڈ کالج سے بی اے آنرز اور زبیرافضل نے گریجوایشن تک تعلیم حاصل کی‘ آج یہ چاروں بچے معذور ہونے کے باوجود معاشرے کے فعال شہری ہیں۔

کاروان علم فاؤنڈیشن پندرہ سال سے طلبہ کو وظائف جاری کررہی ہے‘ فاؤنڈیشن کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیل چکا ہے‘ آج پاکستان کی کوئی یونیورسٹی‘ میڈیکل کالج‘ انجینئرنگ یونیورسٹی یا کالج ایسا نہیں جہاں فاؤنڈیشن کے تعاون سے طلبہ تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف جاری کرنے کے حوالے سے بہت سے قابل ستائش اقدامات کیے‘ ادارے کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لیے سارا سال کھلے رہتے ہیں‘ طلبہ کو تعلیم کے دوران جس مرحلے پر بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن ان کی مدد کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف کا سلسلہ اتنا باوقار بنا رکھا ہے کہ کسی مرحلے پر طالب علموں کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی‘ ہر طالب علم کی درخواست کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے اور ہر طالب علم کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وظائف جاری کیے جاتے ہیں۔

فاؤنڈیشن درخواست گزار طلبہ کو سالانہ فیس‘ سمیسٹر فیس‘ کرایہ ہاسٹل‘ ماہوار خرچ‘ طعام‘ کتب اور کرایہ آمدورفت تک ادا کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن زیر کفالت طلبہ کی بیوہ ماؤں اور ضعیف والدین کو گھریلو اخراجات کے لیے بھی وظائف دیتی ہے تاکہ طلبہ مکمل اطمینان اور یکسوئی سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن جب کسی کو وظیفہ جاری کرتی ہے تو یہ اس کی سرپرست بن جاتی ہے‘ یہ پورا سال طالب علم کی کارکردگی کا جائزہ لیتی رہتی ہے‘ یہ ہر ضرورت کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے دستیاب رہتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن غریب طبقہ کے لوگوں کو ضروریات کے لیے زکوٰۃ اور عطیات کی رقم فراہم کرنے کے بجائے اس رقم سے ان کے بچوں کو علم و ہنر سے آراستہ کرتی ہے تا کہ یہ مستقل طور پر خاندان کا سہارا بن سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن یتیم اور خصوصی طلبہ کو ترجیہی بنیادوں پر وظائف جاری کرتی ہے۔

یہ ادارہ اب تک 5524 طلبہ کو ساڑھے بارہ کروڑ روپے کے وظائف دے چکا ہے‘ وظائف حاصل کرنے والے طلباء میں 937 یتیم طلبہ اور 333 خصوصی طلبہ (نابینا‘ پولیو زدہ اور حادثات کی وجہ سے معذور) شامل ہیں‘ مالی اعانت حاصل کرنے والوں میں ایم بی بی ایس (ڈاکٹر) کے1314‘ بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے 51‘ فزیوتھراپی (ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ) کے 45‘ ڈی وی ایم (ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز) کے121‘ ڈی فارمیسی (ڈاکٹر آف فارمیسی) کے99‘ ایم ایس سی کے 135، ایم اے کے133‘ ایم کام کے 40‘ ایم بی اے کے 58‘ ایم پی اے کے 05‘ ایم فل کے 19‘ بی ایس سی انجینئرنگ کے1398‘ بی کام آنرز کے159‘ بی ایس آنرز کے 701‘ بی بی اے کے 61‘ اے سی سی اے کے 18‘ سی اے کے 04‘ بی ایس ایڈ‘ بی ایڈ کے 41‘ ایل ایل بی کے 14‘بی اے آنرز کے45‘ بی اے کے73‘ سی ایس ایس کا 01‘ بی ٹیک کے 23‘ ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے 161‘ ایف ایس سی کے 510‘ ایف اے کے 90‘ آئی کام کے 52‘ ڈی کام کے05‘ آئی سی ایس کے17 میٹرک اور انڈر میٹرک کے 131 طلبا و طالبات شامل ہیں۔

میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر اپنی زکوٰۃ‘ صدقہ اور فطرہ کاروان علم فاؤنڈیشن کو عطیہ کریں‘ آپ کی یہ عنایت بے شمار گھروں میں علم کے چراغ جلا دے گی‘ آپ اپنے عطیات میزان بینک کے اکاؤنٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروا سکتے ہیں۔ آپ67 کشمیر بلاک ‘علامہ اقبال ٹاؤن لاہورکے پتے اور ای میل info@kif.com.pk پرفاؤنڈیشن سے رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے موبائل نمبر 0321-8461122 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

جاوید چوہدری

سیلانی ٹرسٹ…دکھی دلوں کا سہارا

ہمارے حکمران ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اگر ان سے یہ کہا جائے کہ حکومتوں
کی طرز حکمرانی بہتر نہیں ہے ۔ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر نظر دوڑانے یا تنقید کے مثبت پہلو تلاش کرنے کی بجائے ناک منہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ جس انداز میں حکومت چلا رہے ہیں ، اس کے نتیجے میں مخلوق مصائب کا شکار ہے۔ حکومتی عہدیدار کیوں نہیں اپنی اصلاح کے لئے ان غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں جو بیرون ملک سے کسی مالی تعاون کی بجائے اسی ملک کے عام و خاص لوگوں کے چندوں سے اپنی تنظیم چلاتے ہیں۔ میرے لئے تو حیرانی کی بات تھی جب ایک سرکاری عہدیدار ایک غیر سرکاری تنظیم سے یہ کہہ رہے ہوں کہ حیدرآباد میں ایک کولڈ سٹوریج مردہ خانے کی ضرورت ہے جہاں لاشوں کو ان کی شناخت ہونے تک رکھا جا سکے تا کہ لوگ لاوارث قرار دے کر دفنا نہیں دئے جائیں۔

یہ غیر سرکاری تنظیم یعنی این جی او سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ہے جس نے سالانہ سمپوزیم 2017ء حیدرآباد میں کیا۔ مہمان خصوصی حیدرآباد کے ایس ایس پی عرفان بلوچ تھے۔ سیلانی ، دکھی دلوں کا سہارا، کے سرپرست حضرت مولانا بشیر فاروقی قادری صاحب ، ٹرسٹ کے صدر ذکریا لاکھانی، ٹرسٹ کے چیئر مین افضل چامڑیا سمیت درجنوں ملازمین اور رضا کار موجود تھے۔ اس موقع کی مناسبت سے ان مخیر حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن کی مالی سرپرستی کے نتیجے میں سیلانی ٹرسٹ کام کرتا ہے۔ مولانا بشیر صاحب بتا رہے تھے کہ سیلانی کا نام حضرت خواجہ محکم الدین سیلانی رحمت اللہ علیہ کے اسم مبارک کی نسبت سے رکھا گیا ہے اور 1999ء میں ایک کمرے اور تین افراد کے ساتھ کام شروع کیا گیا تھا۔ سیلانی کراچی اور حیدرآباد میں وہ واحد ادارہ ہے جو سینکڑوں افراد کو سلیقہ کے ساتھ صاف ستھرے طریقے سے کھانا کھلاتا ہے۔ سیلانی والے کہتے ہیں کہ روزانہ 63 ہزار لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کھانے کی وجہ سے سفید پوش لوگ اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اس بلا معاوضہ کھانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کی رقم نہیں لگائی جاتی ہے۔

سیلانی کا کام قابل تعریف ضرور ہے لیکن سیلانی کے نگرانوں نے جس انداز میں کام پھیلا لیا ہے وہ کم از کم ہر اس شخص کے لئے باعث تشویش ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بڑے حجم کی چیز یا اونچی عمارت کو ہر وقت خطرہ ہی رہتا ہے۔ محدود وسائل کے حامل لوگوں کو کام پھیلانے کی بجائے محدود کام کرنا اور آمدنی بہتر کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں شاہکار کتابوں کے نام سے سید قاسم محمود صاحب نے سستی کتابیں شائع کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں تین روپے کی وہ کتاب دستیاب ہوتی تھی جو محدود وسائل والے لوگ خرید نہیں پاتے تھے۔ پھر انہوں نے اضافہ کرنا شروع کیا، نئے نئے کتابی سلسلے شروع کئے، نتیجہ یہ نکلا کہ کام تو پھیل گیا، اخراجات بڑھ گئے اور بڑے بڑے نام والے پبلشر بھی ان کے در پے ہو گئے۔

ان پبلشروں نے انہیں میدان سے بھگانے کے لئے خود بھی سستی کتابوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاسم محمود صاحب کو کام پھیلانے پر لگا دیا تا کہ کام سمٹ نہ سکے اور ان کا شاہ کار ادارہ سمٹ جائے۔ جب شاہ کار سمٹا تو بڑے پبلشروں نے بھی اپنی سستی کتابوں کو سمیٹ لیا۔ سمپوزیم کے انعقاد پر سیلانی والوں نے جس طرح پیسہ بہایا وہ قابل تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی بڑے کار پوریٹ ادارے کی کوئی تقریب ہے۔ چندے مانگ کر پیسے جمع کرنے والوں کو اپنے اخراجات پر نظر اور گرفت تو رکھنا چاہئے۔ ہمارے دین میں اسراف سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور سادگی اپنانے کا درس بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔

سیلانی نے اپنا کام خود بڑھا لیا ہے۔ آج ان کا نعرہ ہے کہ ’’مہد سے لہد تک ‘‘ یعنی پیدائش سے موت تک وہ مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔ خوراک، صحت، تعلیم، کھانے پینے کی اشیاء کے سٹور ، سماجی بہبود، روزگار، مختلف شعبوں میں تربیت وغیرہ۔ حال ہی میں سیلانی نے آنکھوں کے علاج کے لئے گشتی دواخانہ کی ابتدا بھی کی ہے۔ تنگ گلیوں میں آتش فرو کرنے کے انتظام کے لئے موٹر سائیکلوں کا دستہ تیار کیا ہے۔ روزگار کے سلسلے میں بے روزگار لوگوں کو آسان قسطوں پر رکشہ، خواتین کو سلائی مشینیں وغیرہ فراہم کی جاتی ہیں۔ کھانا کھلانے کے علاوہ ایسے گھرانوں کی کفالت کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جہاں ضعیف العمر افراد ہوں اور کوئی کفیل نہ ہو، ماہانہ کفالت میں راشن کی فراہمی، گھروں کا کرایہ، بچوں کی تعلیم کے اخراجات، ضروریات کے بلوں کی ادائیگی شامل ہیں۔ غریب بچیوں کی شادی میں جہیز یا مہمانوں کے لئے طعام اور دیگر اخراجات مہیا کر کے بچیوں کو باعزت طور پر رخصت کرنے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ غرض سیلانی ضرورت مند لوگوں کی ضروری حاجات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سیلانی کے بنائے ہوئے ٹھکانوں پر کھانا کھاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو کھانے فراہم کرنے کا بندبست کیا جاتا ہے۔ سٹریچر اور پینے کے لئے پانی کا انتظام بھی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر سیلانی رضاکار لوگوں کو پینے کا ٹھنڈا پانی پلاتے ہیں۔ سیلانی والے دعوی کرتے ہیں کہ وہ یہ خدمات بلامعاوضہ انجام دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں بلامعاوضہ کوئی چیز نہیں ہوا کرتی ہے۔ مفت کی سواری اور دور لے جانے کا مطالبہ تو زندگی بھر جاری رہے گا۔ سیلانی کھانا کھلاتا ہے، بہترین کام کرتا ہے لیکن اسے ایک وقت کے کھانے کا کچھ معاوضہ مقرر کرنا چاہئے خواہ وہ پانچ روپے ہی کیوں نہ ہو۔ کھانا کھانے والا کہہ سکے کہ اس نے پیسے دیکر کھانا کھایا ہے۔ اس کی اپنی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی۔ مفت میں روٹی توڑنے کی عادت ڈالنا ، لوگوں کے ساتھ بھلائی نہیں ہے۔ لوگوں کو کچھ کرنے کی عادت ڈالنا چاہئے۔

سیلانی کے ادارے میں 1800 ملازمین کے علاوہ 2500 رضاکار ہیں جو 125 سے زائد برانچوں میں 63 شعبہ جات میں مخلوق کی خدمت پر مامور ہیں۔ 63 شعبوں کی نسبت آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہے۔ اتنے سارے شعبوں کا انتظام چلانا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو حکومتیں نہیں کر پاتی ہیں۔ ایدھی اور چھیپہ مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سیلانی کیوں کر محفوظ رہ سکے گا ؟ یہ سوچنا سیلانی والوں کا کام ہے کہ اپنے کام کے شعبوں کو محدود کریں اور ان محدود شعبوں میں ہی مہارت دکھائیں۔ انہیں تعلیم، تربیت، ہنر مندی کے کاموں پر توجہ دینا چاہئے۔ پاکستان میں جہاں تمام سرکاری ادارے وسائل رکھنے کے باوجود عوام الناس کی خدمت کرنے میں ناکام ہیں اور حکومت ہسپتال، تعلیمی ادارے، حد تو یہ ہے کہ پارک اور کھیل کے میدان بھی ’’گود ‘‘ دینے میں سبکی یا شرمندگی محسوس نہیں کرتی ہیں وہاں غیر سرکاری تنظیموں کو حکومتوں کا ہاتھ اس طرح نہیں بٹانا چاہئے جیسا سیلانی، ایدھی، چھیپہ، فلاح انسانیت یا دیگر تنظیمیں کرتی ہیں۔ حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آئین پاکستان میں دی گئی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقوں سے انجام دیں، شاہانہ طرز حکمرانی سے نجات حاصل کی جائے۔ نااہل، غیر ذمہ دار اور غیر مخلص لیکن حکومتوں میں شامل لوگوں کے پسندیدہ اور خوشامدی لوگوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی سے باز رہا جائے تو کچھ بات بنے گی۔

وگر نہ حکومت کے لوگوں سے ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی ہے تو حکومت سے دست بردار ہوجائیں۔ عوام کے ٹیکسوں یا بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی

قرضوں پر حکومت کے لوگوں کو شاہانہ زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دی جائے۔ اس پر بھی نخرے ہیں کہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں، بیرون ملک علاج کرانے کا خرچہ دیا جاتا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کی جب تنخواہیں ، مراعات اور سہولتیں بڑھائی جاتی ہیں تو دل جلتا ہے۔ کیا اس تماش گاہ میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، بڑے سرکاری عمل داروں اور اہل کاروں کو اندازہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ کیا ہوتی ہے، گرمی کا درجہ حرارت کیا ہوتا ہے، مضر صحت پانی پینے کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑک پر گاڑی کس طرح چلتی ہے؟

کیا اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی ذمہ داری صرف یہ رہ گئی ہے کہ ذرائع ابلاغ سے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کے بعد یہ خبر شائع کرادی جائے کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا ہے۔ کیا ان کی ذمہ داری واقعات کا صرف نوٹس لینا ہی رہ گیا ہے ؟ ہسپتالوں میں کولڈ سٹوریج مردہ خانے بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہے، کسی غیرسرکاری تنظیم کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔ جب غیر سرکاری تنظیمیں کوئی کام کرنے کی ابتدا کرتی ہیں تو حکومت دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس کا کام تو ہو رہا ہے اور غیر سرکاری تنظیموں کے لوگ بھی اپنے آپ کو حکمران کی نقل سمجھنے لگتے ہیں۔ غیر ملکی چندوں پر پلنے والی تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں کو تو ایسا ہی پایا جاتا ہے۔

علی حسن

ماسٹر بشیر کے گاؤں میں سب ہیں ڈگری ہولڈر

قمر الاسلام راجہ ایم پی اے، ایک سروے مشن پر جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کے دورے پر تھے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں ٹیچرز نے بتایا کہ ان کا تعلق حافظ آباد سے ہے۔ قمر الاسلام راجہ کے لیے یہ بات بڑی حیران کن تھی کہ کہاں حافظ آباد اور کہاں ڈیرہ غازی خان۔ اتنی دور سے یہ بچیاں یہاں کیسے آگئیں۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ شاید کوئی وجہ ہوگی روزگار کا مسئلہ ہوگا یا کوئی عزیز رشتہ دار یہاں رہتے ہوں گے۔ اسی سوچ میں غرق راجہ صاحب ہائی وی پر واقع ایک ہوٹل میں رکے۔ انہیں ڈرائیور ہوٹل پر بیٹھنے میں بھی کوئی عار یا ججھک محسوس نہ ہوئی۔ ان کا ڈرائیور ان کی تشویش کو بھانپ چکا تھا۔ قریب آیا اور بولا راجہ صاحب، میں آپ کو حافظ آباد کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں۔ یہ بچے اور بچیاں اس حافظ آباد کا ذکر نہیں کر رہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ یہ حافظ آباد دراصل ضلع ڈیرہ غازی خان کا ایک چھوٹا سا گائوں ہے۔

راجہ صاحب یہ سن کر حیران ہوئے ۔ کھانا کھایا ، چائے پی اور ڈرائیور کو حافظ آباد چلنے کا مشورہ دیا۔ جس جگہ وہ ٹھہرے ہوئے تھے حافظ آباد کا گائوں وہاں سے زیادہ مسافت پر نہیں تھا۔ چند گھنٹوں کی ڈرائیوکے بعد وہ ایک گائوں میں پہنچے ۔ اس گائوں میں ہر بچے کو استاد بشیر کا علم تھا۔ وہ کہاں رہتے ہیں، کتنے بچے ہیں، کیا کرتے ہیں ، پورا گائوں اس ٹیچر کی شخصیت سے واقف تھا۔ یہ تبدیلی کیسے آئی کہ ایک پسماندہ گائوں کے لڑکے اور لڑکیاں ایم اے ہی نہیں ڈاکٹر اور انجینئرنگ کی ڈگری بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ شاید واحد گائوں تھا جس میں ایک شخص بھی ناخواندہ نہیں تھا۔ شائد سارے ہی ڈگری ہولڈر تھے۔ ڈاکٹر اور انجینئر بھی اسی گائوں میں پیدا ہوئے۔

پوچھتے پچھاتے راجہ صاحب ماسٹر بشیر کے گھر پہنچے ۔ وہ ایک چھوٹے سے مکان میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ راجہ صاحب ان کے پاس بیٹھے اور ان سے بات کی۔ یہ تبدیلی کوئی این جی او نہیں لائی ،بلکہ ایک ماسٹر بشیر کی محنت کا نتیجہ تھی۔ وہی ماسٹر بشیر آج ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد بستر پر آرام فرما رہے تھے۔’’یہ سب کچھ آپ نے کیسے کر دکھایا‘‘ راجہ صاحب کے سوال پر وہ کہنے لگے ؟ ’’میں نے زندگی میں ایک مشن بنایا کسی کو ناخواندہ نہیں رہنے دوں گا۔ سب کو تعلیم دوں گا۔ جو ہو سکے گا کروں گا۔ سکول سے فارغ ہو کر اپنے گھر پر بچے اور بچیوں کو پرائیویٹ ٹیویشن دی مگر اس کارخیر کا کبھی کوئی صلہ نہ لیا۔

مختلف گروپوں کی صورت میں ہر بچی اور بچے کو پڑھایا اور انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ ‘‘ راجہ صاحب اس مشن پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے ماسٹر بشیر کو ایک سکول دینے کی پیشکش کی انہوں نے انکار کیا۔ راجہ صاحب نے ان کے بیٹوں کو سکول دینے کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش بھی انہوں نے قبول نہ کی۔ ان کے بیٹے پہلے ہی پروفیشنل ڈگری ہولڈر ہیں۔ ان سب باتوں کے بعد ماسٹر صاحب کہنے لگے ’’میری ریٹائرمنٹ کو کئی سال بیت گئے ۔ اب ہمت نہیں رہی کچھ کرنے کی لیکن جیسا بویا ہے ویسا ہی پھل کھایا ہے۔ اگر تمام استاد اسی طرح خدمت خلق کا جذبہ لے کر تعلیم کے مشن کو پورا کریں تو کوئی بعید نہیں کہ چند سالوں میں تمام بچے ، اور بڑے بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہو جائیں۔ ‘‘

راجہ صاحب یہ سن کر مطمئن ہو گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان میں ابھی ایسے لوگ زندہ ہیں جو اپنے فرائض بھرپور مشن کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ ماسٹر بشیر کی یہ کہانی کئی انتظامی کورسز میں سنائی جا چکی ہے۔ بہت سے افسران ایک فرد کی ہمت سے آنے والی تبدیلی سے واقف ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ ہمارے سیکرٹریٹ میں بیٹھے افسران ، محکمہ صحت کے ڈاکٹر، محکمہ تعلیم کے اساتذہ ، محکمہ پولیس کے افسران اور اہلکاران کب اس جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سید فیصل عثمان

شاہد آفریدی فلاحی میدان میں باقاعدہ سرگرم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے دبئی میں قید پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ شاہد آفریدی نے ٹوئیٹر پر جاری اپنے پیغام میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘فاؤنڈیشن نے دبئی میں قید پاکستانیوں کو رہائی دلوا کر ان کے گھر والوں کو خوشی دینے کا آغاز کردیا ہے جو شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے لیے ایک نمایاں کامیابی ہے’۔ آفریدی نے تعاون کرنے پر دبئی کے حکام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ‘دبئی پولیس کے ڈپٹی چیف جنرل داہی خالفان تمیم اور انسانی حقوق کی تنظیم کےسربراہ بریگیڈیئر محمدالمر کا مشکور ہوں’۔Shahid Afridi1

شاہدآفریدی نے کہا کہ ‘یہ ان کی فاؤنڈیشن کے لیے بہت خوشی کا دن ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کےلیے یہ ایک چیلنج تھا کہ وہ دبئی میں بڑے عرصے سے جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا بندوبست کرے اور اب خوشی ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب یہ قیدی چند دن بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے’۔ سابق کپتان نے کہا کہ وہ دبئی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے ان کے مقصد کو اہمیت دی۔ عظیم آل راؤنڈر نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کو دبئی میں بھی رجسٹر کروا دیں گے اور مستقبل میں بھی دبئی پولیس کےساتھ مل کر کام کریں گے۔

لاہور کی یونیورسٹی کا اسٹیڈیم جنید جمشید سے منسوب

یونیورسٹی آف انیجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یوای ٹی) لاہور نے یونیورسٹی کے اسٹیڈیم کومرحوم نعت خواں جنید جمشید سے منسوب کر دیا۔ یو ای ٹی کی جانب سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد کی صدارت میں شعبہ جات کے سربراہان کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں یونیورسٹی کے میکینیکل انجیینئرنگ کے سابق طالب علم جنید جمشید کو گلوکاری، مذہبی تعلیمات اور نعت خوانی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں متفقہ طور پر یونیوسٹی کے اسٹیڈیم کو ان کے نام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نوے کی دہائی میں مشہور گیت ‘دل دل پاکستان’ سے مقبولیت حاصل کرنے والے خوش گلو جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 661 کے ذریعے چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے قریب حادثے کے باعث جاں بحق ہوئے تھے۔

جنرل راحیل مسلم ریاستوں کے فوجی اتحاد کی قیادت کیوں نہ کریں ؟

Raheel Sharif1سلام آباد (تبصرہ / انصار عباسی) سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کا دہشت گردی کیخلاف 39؍ مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت کے مبینہ کے فیصلے کو عمومی طور پر ایران مخالف سمجھا جا رہا ہے۔ اس اتحاد کے خالق ملک سعودی عرب نے کبھی ایسا کہا ہے اور نہ ہی اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی لوگ بالخصوص میڈیا نے پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ فوجی اتحاد ایران مخالف ہے اور اس لیے جنرل راحیل کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ اسلئے، یہ ان کیلئے سادہ اور واضح صورتحال ہے۔ درحقیقت، اتحاد کے قیام کے وقت یہ بتا دیا گیا تھا کہ یہ دہشت گردی اور داعش جیسی تنظیموں کے خاتمے کیلئے تشکیل دیا جار ہا ہے۔

اتحاد میں سعودی عرب نے ایران کو شامل نہیں کیا تھا۔ دوسری جانب، ایران نے بھی اس اتحاد کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس فوجی اتحاد کی تفصیلات کے حوالے سے کئی ابہام موجود ہیں اور جب تک اس اتحاد کی تفصیلات واضح نہیں ہو جاتیں اس وقت تک اسے فرقہ ورانہ رنگ دے کر اسے مسترد کرنا قبل از وقت اور متعصبانہ اقدام ہوگا۔ صرف تاثرات اور تعصب کی بنا پر جنرل (ر) راحیل اور سعودی حکومت کیخلاف فیصلہ کرنا غیر منصفانہ عمل ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے اور اس کا اندازہ اسلام آباد کے یمن تنازع کے حوالے سے موقف کو دیکھ کر بھی ہوجا تا ہے۔ سعودی عرب کی خواہش کے باوجود، پاکستان نے اپنے فوجیوں کو یمن میں ایران نواز باغیوں سے لڑنے کیلئے سعودی عرب بھیجنے سے انکار کر دیا۔Raheel Sharif2

یہ فیصلہ پاکستانی پارلیمنٹ نے کیا تھا اور اس کی توثیق ملک کی سویلین اور ملٹری قیادت نے بھی کی تھی۔ اس وقت آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے۔ ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور سویلین قیادت کی طرح، جنرل راحیل کو بھی یمن تنازع میں جانے کے سنگین مضمرات کا اندازہ تھا۔ عموماً یہ کہا اور سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کی یمن میں براہِ راست مداخلت سے پاکستان میں فرقہ ورانہ تقسیم بڑھے گی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور جنرل (ر) راحیل کس طرح وہ کام کر سکتے ہیں جس سے انہوں نے سعودی حکام کی ناراضی کے باوجود انکار کیا تھا۔ گزشتہ چند سال کے دوران، سعودی عرب دہشت گرد تنظیموں کا ہدف بنا ہوا ہے۔ ان میں سے اکثر حملے داعش نے کیے۔

داعش نے ہی ایک حملہ مدینہ میں مسجد نبوی کے باہر کیا تھا۔ اس واقعہ نے امت مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایسے حالات میں، سعودی عرب نے مسلم ممالک کا اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ جنرل (ر) راحیل نے اتحاد کے قیام کے حوالے سے اپنی رائے پیش کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ فوجی اتحاد کے اعلان کے فورا بعد میڈیا میں ایک رپورٹ سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ جنرل راحیل کو اتحاد کا سربراہ بنایا جا رہا ہے۔ 2015ء کے اعلان کے بعد، اتحاد کے باضابطہ قیام کے حوالے سے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا، اور عملاً یہ اتحاد صرف کاغذات کی حد تک قائم ہے۔

توقع ہے کہ جنرل (ر) راحیل کے باضابطہ طور پر اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے بعد معاملات آگے بڑھتے نظر آئیں گے۔ ایسی صورتحال میں، کوئی یہ نتیجہ کیسے اخذ کر سکتا ہے کہ جنرل (ر) ایران مخالف سنی مسلم ریاستوں کے فوجی اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں؟ اگر کل کو سعودی عرب اس اتحاد کو دہشت گردی کی بجائے ایران کیخلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان اور جنرل (ر) راحیل کے پاس آپشن ہوگا کہ وہ اس اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ پاکستان ترکی سمیت کچھ دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایک کوشش یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ مسلم ممالک کے اتحاد میں ایران کو بھی شام کر لیا جائے۔ گارڈین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ مسلم اتحاد، جسے ’’مسلم نیٹو‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، کی قیادت سنبھا لنے سے قبل جنرل (ر) شریف نے جی ایچ کیو / حکومت سے این او سی حاصل کیا تھا یا نہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ جو کچھ برطانوی اخبار نے اس اتحاد کے حوالے سے کہا ہے وہ کسی کو نظر نہیں آ رہا۔ اصولی طور پر جنر راحیل کو دہشت گردی کیخلاف فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے سے قبل حکومت سے این او سی لینا چاہئے۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس بات کو باعث فخر سمجھے کہ اس کے سابق آرمی چیف کو 39؍ مسلم ملکوں کے فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جا رہا ہے اور اسلئے ان کے اتحاد کی قیادت سنبھالنے پر کوئی پابندی عائد کیے جانے کا جواز نہیں۔ پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ کا بہترین ریکارڈ ہے۔

جنرل (ر) راحیل نے انسداد دہشت گردی کیلئے پاک فوج کی قیادت کرکے دنیا بھر سے نام کمایا اور یہی وجہ ہے کہ انہیں فوجی اتحاد کی سربراہی کی پیشکش کی گئی۔ جنرل راحیل، پاکستان اور ایک فرد کیلئے اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اسے اسلامی ممالک کی جانب سے مقدس سر زمین، مکہ مکرمہ اور مدینہ، کے تحفظ اور دہشت گردی کی روک تھام کی ذمہ داری دی جائے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوجی ماضی میں بھی سعودی عرب میں خد ما ت انجام دیتے رہے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو دلیل دیتے ہیں کہ مقدس سرزمین کی حفاظت کیلئے بھی پاکستان کیسے اپنی فوجیں بھیج سکتا ہے۔ ان لوگوں کی باتیں اس وقت بھی کسی نے نہیں سنی تھیں جب ایک فوجی آمر نے امریکا کے مفادات کے تحفط کیلئے ملک پر حکمرانی کی تھی۔

اسی طرح کی باتیں اس وقت سنی جا رہی تھیں جب سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالرز دے کر پاکستان کی مدد کی تھی۔ ان لوگوں کی باتیں اس وقت نہیں سنی گئیں جب امریکی ڈرونز نے پاکستان میں معصوم افراد کو نشانہ بنایا لیکن یہ آوازیں ایک مرتبہ پھر اس وقت گونجنے لگتی ہیں جب دوست عرب ممالک سے حکمرانوں کو پاکستان میں پرندوں کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

ایدھی کے بعد جنید جمشید دوسری غیرسرکاری شخصیت ہیں جنھیں گارڈ آف آنر دیا گیا

معروف سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کے بعد جنید جمشید دوسری غیر سرکاری شخصیت ہیں جنھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق معروف مذہبی اسکالر جنید جمشید کی نمازہ جنازہ راولپنڈی کے نور خان ائیربیس پر ادا کی گئی جس کے بعد ائیرفورس کے دستے نے جنید جمشید کی میت کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس سے قبل 9 جولائی کو انتقال کر جانیوالے فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کو نمازِ جنازہ کے بعد پاکستانی فوج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا تھا۔