سیلانی ٹرسٹ…دکھی دلوں کا سہارا

ہمارے حکمران ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اگر ان سے یہ کہا جائے کہ حکومتوں
کی طرز حکمرانی بہتر نہیں ہے ۔ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر نظر دوڑانے یا تنقید کے مثبت پہلو تلاش کرنے کی بجائے ناک منہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ جس انداز میں حکومت چلا رہے ہیں ، اس کے نتیجے میں مخلوق مصائب کا شکار ہے۔ حکومتی عہدیدار کیوں نہیں اپنی اصلاح کے لئے ان غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں جو بیرون ملک سے کسی مالی تعاون کی بجائے اسی ملک کے عام و خاص لوگوں کے چندوں سے اپنی تنظیم چلاتے ہیں۔ میرے لئے تو حیرانی کی بات تھی جب ایک سرکاری عہدیدار ایک غیر سرکاری تنظیم سے یہ کہہ رہے ہوں کہ حیدرآباد میں ایک کولڈ سٹوریج مردہ خانے کی ضرورت ہے جہاں لاشوں کو ان کی شناخت ہونے تک رکھا جا سکے تا کہ لوگ لاوارث قرار دے کر دفنا نہیں دئے جائیں۔

یہ غیر سرکاری تنظیم یعنی این جی او سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ہے جس نے سالانہ سمپوزیم 2017ء حیدرآباد میں کیا۔ مہمان خصوصی حیدرآباد کے ایس ایس پی عرفان بلوچ تھے۔ سیلانی ، دکھی دلوں کا سہارا، کے سرپرست حضرت مولانا بشیر فاروقی قادری صاحب ، ٹرسٹ کے صدر ذکریا لاکھانی، ٹرسٹ کے چیئر مین افضل چامڑیا سمیت درجنوں ملازمین اور رضا کار موجود تھے۔ اس موقع کی مناسبت سے ان مخیر حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن کی مالی سرپرستی کے نتیجے میں سیلانی ٹرسٹ کام کرتا ہے۔ مولانا بشیر صاحب بتا رہے تھے کہ سیلانی کا نام حضرت خواجہ محکم الدین سیلانی رحمت اللہ علیہ کے اسم مبارک کی نسبت سے رکھا گیا ہے اور 1999ء میں ایک کمرے اور تین افراد کے ساتھ کام شروع کیا گیا تھا۔ سیلانی کراچی اور حیدرآباد میں وہ واحد ادارہ ہے جو سینکڑوں افراد کو سلیقہ کے ساتھ صاف ستھرے طریقے سے کھانا کھلاتا ہے۔ سیلانی والے کہتے ہیں کہ روزانہ 63 ہزار لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کھانے کی وجہ سے سفید پوش لوگ اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اس بلا معاوضہ کھانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کی رقم نہیں لگائی جاتی ہے۔

سیلانی کا کام قابل تعریف ضرور ہے لیکن سیلانی کے نگرانوں نے جس انداز میں کام پھیلا لیا ہے وہ کم از کم ہر اس شخص کے لئے باعث تشویش ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بڑے حجم کی چیز یا اونچی عمارت کو ہر وقت خطرہ ہی رہتا ہے۔ محدود وسائل کے حامل لوگوں کو کام پھیلانے کی بجائے محدود کام کرنا اور آمدنی بہتر کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں شاہکار کتابوں کے نام سے سید قاسم محمود صاحب نے سستی کتابیں شائع کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں تین روپے کی وہ کتاب دستیاب ہوتی تھی جو محدود وسائل والے لوگ خرید نہیں پاتے تھے۔ پھر انہوں نے اضافہ کرنا شروع کیا، نئے نئے کتابی سلسلے شروع کئے، نتیجہ یہ نکلا کہ کام تو پھیل گیا، اخراجات بڑھ گئے اور بڑے بڑے نام والے پبلشر بھی ان کے در پے ہو گئے۔

ان پبلشروں نے انہیں میدان سے بھگانے کے لئے خود بھی سستی کتابوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاسم محمود صاحب کو کام پھیلانے پر لگا دیا تا کہ کام سمٹ نہ سکے اور ان کا شاہ کار ادارہ سمٹ جائے۔ جب شاہ کار سمٹا تو بڑے پبلشروں نے بھی اپنی سستی کتابوں کو سمیٹ لیا۔ سمپوزیم کے انعقاد پر سیلانی والوں نے جس طرح پیسہ بہایا وہ قابل تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی بڑے کار پوریٹ ادارے کی کوئی تقریب ہے۔ چندے مانگ کر پیسے جمع کرنے والوں کو اپنے اخراجات پر نظر اور گرفت تو رکھنا چاہئے۔ ہمارے دین میں اسراف سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور سادگی اپنانے کا درس بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔

سیلانی نے اپنا کام خود بڑھا لیا ہے۔ آج ان کا نعرہ ہے کہ ’’مہد سے لہد تک ‘‘ یعنی پیدائش سے موت تک وہ مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔ خوراک، صحت، تعلیم، کھانے پینے کی اشیاء کے سٹور ، سماجی بہبود، روزگار، مختلف شعبوں میں تربیت وغیرہ۔ حال ہی میں سیلانی نے آنکھوں کے علاج کے لئے گشتی دواخانہ کی ابتدا بھی کی ہے۔ تنگ گلیوں میں آتش فرو کرنے کے انتظام کے لئے موٹر سائیکلوں کا دستہ تیار کیا ہے۔ روزگار کے سلسلے میں بے روزگار لوگوں کو آسان قسطوں پر رکشہ، خواتین کو سلائی مشینیں وغیرہ فراہم کی جاتی ہیں۔ کھانا کھلانے کے علاوہ ایسے گھرانوں کی کفالت کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جہاں ضعیف العمر افراد ہوں اور کوئی کفیل نہ ہو، ماہانہ کفالت میں راشن کی فراہمی، گھروں کا کرایہ، بچوں کی تعلیم کے اخراجات، ضروریات کے بلوں کی ادائیگی شامل ہیں۔ غریب بچیوں کی شادی میں جہیز یا مہمانوں کے لئے طعام اور دیگر اخراجات مہیا کر کے بچیوں کو باعزت طور پر رخصت کرنے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ غرض سیلانی ضرورت مند لوگوں کی ضروری حاجات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سیلانی کے بنائے ہوئے ٹھکانوں پر کھانا کھاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو کھانے فراہم کرنے کا بندبست کیا جاتا ہے۔ سٹریچر اور پینے کے لئے پانی کا انتظام بھی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر سیلانی رضاکار لوگوں کو پینے کا ٹھنڈا پانی پلاتے ہیں۔ سیلانی والے دعوی کرتے ہیں کہ وہ یہ خدمات بلامعاوضہ انجام دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں بلامعاوضہ کوئی چیز نہیں ہوا کرتی ہے۔ مفت کی سواری اور دور لے جانے کا مطالبہ تو زندگی بھر جاری رہے گا۔ سیلانی کھانا کھلاتا ہے، بہترین کام کرتا ہے لیکن اسے ایک وقت کے کھانے کا کچھ معاوضہ مقرر کرنا چاہئے خواہ وہ پانچ روپے ہی کیوں نہ ہو۔ کھانا کھانے والا کہہ سکے کہ اس نے پیسے دیکر کھانا کھایا ہے۔ اس کی اپنی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی۔ مفت میں روٹی توڑنے کی عادت ڈالنا ، لوگوں کے ساتھ بھلائی نہیں ہے۔ لوگوں کو کچھ کرنے کی عادت ڈالنا چاہئے۔

سیلانی کے ادارے میں 1800 ملازمین کے علاوہ 2500 رضاکار ہیں جو 125 سے زائد برانچوں میں 63 شعبہ جات میں مخلوق کی خدمت پر مامور ہیں۔ 63 شعبوں کی نسبت آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہے۔ اتنے سارے شعبوں کا انتظام چلانا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو حکومتیں نہیں کر پاتی ہیں۔ ایدھی اور چھیپہ مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سیلانی کیوں کر محفوظ رہ سکے گا ؟ یہ سوچنا سیلانی والوں کا کام ہے کہ اپنے کام کے شعبوں کو محدود کریں اور ان محدود شعبوں میں ہی مہارت دکھائیں۔ انہیں تعلیم، تربیت، ہنر مندی کے کاموں پر توجہ دینا چاہئے۔ پاکستان میں جہاں تمام سرکاری ادارے وسائل رکھنے کے باوجود عوام الناس کی خدمت کرنے میں ناکام ہیں اور حکومت ہسپتال، تعلیمی ادارے، حد تو یہ ہے کہ پارک اور کھیل کے میدان بھی ’’گود ‘‘ دینے میں سبکی یا شرمندگی محسوس نہیں کرتی ہیں وہاں غیر سرکاری تنظیموں کو حکومتوں کا ہاتھ اس طرح نہیں بٹانا چاہئے جیسا سیلانی، ایدھی، چھیپہ، فلاح انسانیت یا دیگر تنظیمیں کرتی ہیں۔ حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آئین پاکستان میں دی گئی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقوں سے انجام دیں، شاہانہ طرز حکمرانی سے نجات حاصل کی جائے۔ نااہل، غیر ذمہ دار اور غیر مخلص لیکن حکومتوں میں شامل لوگوں کے پسندیدہ اور خوشامدی لوگوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی سے باز رہا جائے تو کچھ بات بنے گی۔

وگر نہ حکومت کے لوگوں سے ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی ہے تو حکومت سے دست بردار ہوجائیں۔ عوام کے ٹیکسوں یا بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی

قرضوں پر حکومت کے لوگوں کو شاہانہ زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دی جائے۔ اس پر بھی نخرے ہیں کہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں، بیرون ملک علاج کرانے کا خرچہ دیا جاتا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کی جب تنخواہیں ، مراعات اور سہولتیں بڑھائی جاتی ہیں تو دل جلتا ہے۔ کیا اس تماش گاہ میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، بڑے سرکاری عمل داروں اور اہل کاروں کو اندازہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ کیا ہوتی ہے، گرمی کا درجہ حرارت کیا ہوتا ہے، مضر صحت پانی پینے کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑک پر گاڑی کس طرح چلتی ہے؟

کیا اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی ذمہ داری صرف یہ رہ گئی ہے کہ ذرائع ابلاغ سے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کے بعد یہ خبر شائع کرادی جائے کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا ہے۔ کیا ان کی ذمہ داری واقعات کا صرف نوٹس لینا ہی رہ گیا ہے ؟ ہسپتالوں میں کولڈ سٹوریج مردہ خانے بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہے، کسی غیرسرکاری تنظیم کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔ جب غیر سرکاری تنظیمیں کوئی کام کرنے کی ابتدا کرتی ہیں تو حکومت دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس کا کام تو ہو رہا ہے اور غیر سرکاری تنظیموں کے لوگ بھی اپنے آپ کو حکمران کی نقل سمجھنے لگتے ہیں۔ غیر ملکی چندوں پر پلنے والی تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں کو تو ایسا ہی پایا جاتا ہے۔

علی حسن

فلاحی اداروں کے دستر خواں

Saylani Welfare1

 اس وقت شہرکراچی کی آبادی پونے دوکروڑکے لگ بھگ ہے،اس لحاظ سے یہ دنیا کا بارہواں بڑا شہرہے۔ مستقبل قریب میں یعنی آیندہ 15 برس میں کراچی کی آبادی 50 فیصد کے حساب سے بڑھتے ہوئے دگنی ہوجائے گی ، یوں کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا شہر بن جائے گا ۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے جس کی ترقی کے لیے انفرا اسٹرکچرکی تعمیر اور وسائل کوموثر انداز میں استعمال میں لانے کے لیے دیرپا منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ ایک طویل عرصے سے ملک کے دیگر علاقوں سے روزگارکے حصول کے لیے لوگ شہرکراچی کا رخ کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے شہرکی آبادی میں دن بہ دن  اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جب کہ شہرکراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں شہر میں وسائل کم ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ شہرمیں مقیم آبادی کا معیار زندگی بلند ہونا ہی شہرکی ترقی کا ضامن ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضرویات زندگی کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ روزگارکے حصول کے لیے دربدرکی ٹھوکریں کھا رہا ہے، مزدور طبقہ کم اجرت پرکام کرنے پرمجبورہے۔  پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی ہے  اوراس کا فرسودہ نظام شہریوں کے لیے عذاب بنا ہوا ہے ۔ پانی، بجلی، گیس  کی قلت نے شہری زندگی کا پہیہ جام رکھا ہے۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شہر کراچی کے لاکھوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہے۔

بھلا ہوکراچی کے ان فلاحی اداروں کا جن کے دستر خوان غریب مستحقین اورسفید پوش گھرانوں کو باعزت طریقے سے پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ان دسترخوانوں پر باعزت طریقے سے 2 لاکھ سے زائد افرادکو دو وقت کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، یہ دسترخوان شہر کراچی کے مختلف علاقوں اور بڑے سرکاری اسپتالوں کے باہر قائم کیے گئے ہیں اوراس کارخیر میں سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ، چھپا فاؤنڈیشن، ایدھی فاؤنڈیشن، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ، جعفریہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اور بحریہ ٹاؤن سمیت دیگر فلاحی ادارے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ہزاروں افراد خاموشی سے ان دسترخوانوں پر اپنا پیٹ بھرتے ہیں اورکھانے کی فراہمی کے دوران فلاحی اداروں کے رضاکاروں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی کی بھی عزت نفس مجروح نہ ہواور وہ باعزت طریقے سے کھانا کھا کر چلا جائے۔

ایک سروے رپورٹ کے مطابق ان فلاحی اداروں کی جانب سے 80 مقامات پر 110 دستر خوان لگائے گئے ہیں، جہاں ان فلاحی اداروں کے رضا کار مستحقین،غرباء اور روزانہ اجرت پرکام کرنے والے افراد کے علاوہ سفید پوش گھرانوں کے افراد کو دو وقت  کا کھانا کھلاتے ہیں۔ ان اداروں کا کھانا کھلانے کا نیٹ ورک انتہائی مضبوط اورمنظم ہے ہرادارے نے کھانے کی تیاری کے لیے مرکزی کچن مختلف علاقوں میں قائم کیے ہوئے ہیں۔ مردوں اورخواتین کے لیے الگ الگ جگہ مختص ہوتی ہے۔ بڑے بڑے تھالوں میں سالن ڈالا جاتا ہے یا مختلف دسترخوانوں پر ہرکھانا کھانے والے شخص کو پلیٹ دی جاتی ہے اورباعزت طریقے سے ان کو سالن اورجتنی روٹی وہ کھانا چاہیں انھیں فراہم کی جاتی ہے۔ مختلف ادارے دو وقت کا کھانا ان فلاحی اداروں کے دسترخوانوں پرہزاروں افرادکو فراہم کرتے ہیں،اسپتالوں کے باہرلگائے گئے دسترخوان مریضوں کے تیمارداریوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے،ان فلاحی اداروں کی جانب سے ان دسترخوانوں کے علاوہ کراچی سینٹرل جیل اورملیر جیل میں صدقے کے بکروں کا گوشت فراہم کیا جاتا ہے۔

ان فلاحی اداروں میں روزانہ 3 ہزار سے زائد صدقے،عقیقے اورخیرات کے بکرے اللہ کی راہ میں قربان کیے جاتے ہیں ۔ شہری خاموشی سے آتے ہیں اور یہ بکرے ان فلاحی اداروں کے منتظمین کے حوالے کرکے چلے جاتے ہیں، پھر ان کو ذبح کیا جاتا ہے، ہرادارے کا اپنا مرکزی باورچی خانہ ہے۔ ایدھی نے سہراب گوٹھ ، سیلانی نے بہادر آباد، چھیپا نے ایف ٹی سی، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ نے بہادرآباد میں مرکزی باورچی خانہ قائم کیا ہے جب کہ ان اداروں نے روٹی کے بڑے پلانٹ بھی لگائے ہیں،ان روٹی پلانٹ میں روزانہ 6 لاکھ سے زائد روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔

مختلف فلاحی اداروں کے دسترخوانوں پر یومیہ ایک کروڑ 30 لاکھ  سے زائد کے اخراجات آتے ہیں یہ سب کچھ مخیر حضرات کے تعاون سے ممکن ہوتا ہے اور معاشرے میں اللہ کے نیک بندوں کی کمی نہیں ہے، وہ مسلسل اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ، جس کی وجہ سے دستر خوان کے نیٹ ورک میں اضافہ ہورہا ہے۔ 55 مقامات پر سیلانی دستر خوان لگائے جاتے ہیں،ان دستر خوانوں پر ایک وقت میں 50 ہزار سے زائد افراد کھانا کھاتے ہیں اور روزانہ بکرے کا گوشت جس میں مختلف سبزیاں ڈالی جاتی ہیں، منظم نیٹ ورک کے ذریعے اس کارخیر کو انجام دیا جاتا ہے، سول اورجناح اسپتال کے علاوہ سٹی کورٹ میں بھی سیلانی دسترخوان موجود ہے۔

چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے کراچی میں 40 دسترخوان  قائم ہیں،ان دسترخوانوں پر روزانہ 60 ہزار سے زائد لوگوں کو 2 وقت کا کھانا کھلایا جاتا ہے، 300 رضاکار اس کارخیر میں خدمات انجام دیتے ہیں، دسترخوان پر مزدور،کم آمدنی والے افراد اوردیگر سفید پوش افراد کھانا کھاتے ہیں اور یہ عمل خاموشی سے مکمل کیا جاتا ہے۔ جعفریہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ نے نمائش پر دسترخوان قا ئم کیا ہے ، جہاں روزانہ  ایک ہزارافراد کو 2 وقت کا کھانا کھلایا جاتا ہے،عالمگیر ویلفئیر ٹرسٹ نے شہر کراچی میں دو دسترخوان قائم کیے ہیں،ان کی موبائل دسترخوان سروس ہے،روزانہ مختلف علاقوں میں کھانے کے 5 ہزارپیکٹ غریب اور مستحق افراد میں تقسیم کرتی ہے، 6 موبائل دستر خوان سروس مختلف علاقوں میں جاکر ایسے افراد کو کھانے کے پیکٹ دیتی ہے جن کی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے 7 بڑے دسترخوان ہیں، جو سہراب گوٹھ ،کھارادر،کلفٹن اوردیگرعلاقوں میں واقع ہیں،کھانے کی تقسیم صرف ایک وقت میں کی جاتی ہے اور روزانہ ان دسترخوانوں پر30 ہزار سے زائد افراد کوکھانا کھلایا جاتا ہے۔ خدمت خلق فاؤنڈیشن کی جانب سے دسترخوان تو نہیں لگائے جاتے لیکن 8 سے 10 ہزار خاندانوں کوکفالت پروگرام کے تحت ماہانہ راشن فراہم کیا جاتا ہے ۔

ان فلاحی کے دسترخوانوں کے علاوہ شہرکراچی کے مختلف علاقوں میں واقع بڑے ہوٹلوں اور نہاری ہاوس بھی غریبوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق ماڑی پور،کھارادر، میٹھادر، برنس روڈ، رنچھوڑ لائن، حسن اسکوائر،طارق روڈ، لیاقت آباد ، حسین آباد، نیوکراچی، سہراب گوٹھ،اورنگی ٹاون، صدر، لانڈھی،کورنگی  سمیت دیگرعلاقوں میں 300 سے زائد ایسے ہوٹل اورنہاری ہاوسز موجود ہیں جہاں مخیر حضرات خاموشی سے آتے ہیں اور کھانے کے پیسے دے کر چلے جاتے ہیں،اس کے بعد ہوٹل انتظامیہ باعزت طریقے سے ان افراد کو جو ہوٹل کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں ان کوکھانا فراہم کرتی ہے،ان ہوٹلوں سے ایک لاکھ سے زائد افراد  روزانہ کھانا کھاتے ہیں۔

لیاری بھی کراچی کا ایک حصہ ہے یہاں غربت اپنا پنجے گاڑھے ہوئے ہے، یہاں ہشت چوک پر بحریہ ٹاون کا  اور لیاری جنرل اسپتال کے قریب سیلانی کے دسترخوان قائم ہیں، جہاں روزانہ سیکڑوں افراد پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔علاوہ ازیں لیاری کے علاقے کلاکوٹ صادر برلین میں سیلانی کا مقامی مرکز قائم ہے جہاں سے غریبوں اور مسکینوں کی مدد کی جاتی ہے،کھانا کھلایا جاتا ہے،راشن تقسیم کیا جاتا ہے،کپڑے دیے جاتے ہیں، علاج ومعالجے میں مدد دی جاتی ہے، بے روزگار نوجوانوں کو رکشے دیے جاتے ہیں، یہاں گبول پارک میں دیوار مہربانی  بھی ہے جہاں لوگ اپنے پرانے کپڑے ٹانگ دیتے ہیں اور ضرورت مند موقع دیکھ کر منہ اندھیرے میں  جاتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت ایک زمانے سے لیاری میں گوشت، سلے سلائے ملبوسات ، وہیل چیئرزاور شادی بیاہ میں امداد و تعاون  سمیت دیگر خدمات انجام دی جارہی ہیں۔

کراچی ملک کا واحد شہر ہے جہاں سب سے زیادہ عوامی دسترخوان لگائے جاتے ہیں، جہاں مخیر حضرات اورفلاحی تنظیموں کی جانب سے رمضان مبارک کے مہینے  میں روزہ داروں کو افطارکرانے، کھانا کھلانے کے لیے دسترخوان سجا دیتے ہیں۔ شہرکراچی میں روزہ داروں کے لیے 4 ہزار سے زائد عوامی دستر خوان لگائے جاتے ہیں، یہاں 25 سے30 لاکھ افراد خاموشی کے ساتھ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے افطارکرتے ہیں۔ یہ عوامی دسترخوان شاہراہوں، سڑکوں، عوامی مقامات، بس اسٹاپس پر لگائے جاتے ہیں، مختلف افطار دستر خوانوں کا اہتمام صاحب حیثیت اورخدا ترس خواتین بھی کرتی ہیں،امام بارگاہوں، مساجد، مدارس میں بھی افطارکا اہتمام کیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں علاقائی سطح پر بھی لوگ افطار اورکھانے کا اہتمام کرتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں افطار بکس غریب علاقوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔  علاوہ ازیں سحری کے اوقات میں ہزاروں کی تعداد میں خاندانوں کو ان کے گھروں پر سحری پہنچائی جاتی رہی ہے۔ یہ غریب پرورشہرکراچی کی وہ صورت حال ہے جو عوامی ریلیف سے بے نیاز و بے رحم حکمرانوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔

شبیر احمد ارمان

Dr. Abdul Wahab : The man who denied admission to his own son at IBA

Dr Wahab1
Former vice chancellor of the University of Karachi and head of the Institute of Business Administration (IBA) Dr Abdul Wahab passed away here on Tuesday after a prolonged illness. He was 77. He is survived by his wife, three sons and a daughter. Dr Wahab was born in the state of Tonk, Rajasthan. In 1948 he migrated to Pakistan. He obtained his bachelor’s degree in psychology from S.M. Arts College and did his master’s in business administration from the IBA. He joined the same institute as a lecturer. Afterwards, he got his doctoral degree from the University of British Columbia, Canada. On his return to Pakistan in 1978 he was appointed deputy director of the IBA. He retired from the institute as its director in 1999.
Dr Wahab also served as vice chancellor of the University of Karachi (1994-96) and president of Mohammad Ali Jinnah University (2002-2016). Dr Wahab was known for his upright attitude towards education. Under his leadership the IBA emerged as the premier educational institute of the country. He was a hard taskmaster who did not tolerate any laxity on the part of his faculty or those who ran the IBA administration. He himself set an example by refusing to act submissively in front of the high and mighty. Not just that, he turned down one of his own sons admission application to the IBA because he had fewer marks than required.
Dr Wahab’s stint at the University of Karachi was not a smooth one. Student wings of political parties were hyperactive at the time. He had to deal with quite a few contentious issues, including the matter of clearing the boys’ hostels of students who were not enrolled. Talking to Dawn, former vice chancellor of Karachi University and poet Dr Pirzada Qasim said: “I had known Dr Wahab since 1965-66. The IBA was the first business management school outside of America. Therefore it had a great deal of significance, and naturally it needed top-notch faculty to run it. Dr Wahab was one of those who ran the institution successfully, both as a teacher and as its director. He was known for attaching great importance to discipline. It showed in the way things functioned. Then he worked with other institutions as well, which means that he was an important figure in the field of education in the country.
“As far as his KU tenure goes, he did not work there for a long time. He tried to run it like he ran the IBA. But the KU was a much bigger institution, because even at that time there were 17,000 students, which was why some problems reared their heads,” said Dr Qasim. Dr Wahab’s son Farooque said: “He was loving and scholarly, and because of that the atmosphere around the house was scholarly.”Another son, Babar, said: “We have 50 years of memories of him. He was a loving and kind-hearted man. People used to ask me whether he was as strict at home as he was at the IBA. I would tell them that nothing like that. He was a gentle soul.”Dr Wahab’s funeral prayers will be held at Karachi University’s main mosque on Wednesday after Zuhr. He will be buried in the university graveyard.
Published in Dawn, September 7th, 2016

ماں کی بیماری نے ایدھی کی زندگی بدل دی

 ایدھی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے بانی عبدالستارایدھی کو بچپن سے انسانیت کی خدمت کا شوق تھا جب ان کی عمر محض 11 سال تھی ان کی والدہ کو فالج ہوگیا۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی والد کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اوران کے علاج معالجے سمیت ان کی تمام ضروریات کوپورا کیا اس طرح سے ان میں انسانی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا چلاگیا،ان کی والدہ کی بیماری عبدالستار ایدھی کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔

عبدالستار ایدھی اپنی والدہ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اوراسی وجہ سے وہ اپنی ہائی اسکول لیول کی تعلیم بھی جاری نہ رکھ سکے،عبدالستار ایدھی کی والدہ کا جب انتقال ہوا اس وقت عبدالستار ایدھی کی عمر محض 19 سال تھی ماں کی طویل بیماری سے عبدالستار ایدھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ دنیا میں ایسی لاکھوں کروڑوں مائیں ہوںگی جو ان کی والدہ کی طرح بیماری میں مبتلا ہوں گی اور ان میں سے کتنوں کی تیمارداری کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ عبدالستارایدھی نے سوچاکہ انھیں بے بس لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ ان کے ذہن میں تھا کہ انھیں بے بس اوربے سہارالوگوں کیلیے ویلفیئرسینٹرزاوراسپتال قائم کرنے چاہئیں جہاں بے سہارا اورغریب لوگوں کورکھاجا سکے اوران کاعلاج ہوسکے ان کے ذہن میں معذور لوگوں کی مدد کرنے کا آئیڈیا بھی تھا جس کیلیے انھوں نے بھرپور کام کیا۔

ملک بھر میں ایدھی فاؤنڈیشن کی1200 ایمبولینس کام کر رہی ہیں جن میں سے 300 کراچی میں ہیں، اس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس 2 طیارے، ایک ہیلی کاپٹر، اسپیڈ بوٹ اورربربوٹ بھی موجود ہیں مزید 3 ایئرایمبولینس ایک ماہ میں اس بیڑے میں شامل ہوجائیں گی۔ ایدھی فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک ملک کے100 سے زائدشہروں میں موجود ہے، ملک بھرمیں ایدھی فاؤنڈیشن کے 300 چھوٹے بڑے مراکزموجود ہیں، صرف کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے 8 اسپتال موجود ہیں جن میں ایک کینسراسپتال بھی ہے جہاں غریبوں کامفت علاج کیاجاتاہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے زیرانتظام ’اپنا گھر‘کے نام سے مختلف مقامات پر 15عمارتیں موجود ہیں، جہاں نفسیاتی مریض، لاوارث افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں اور ضعیف العمر افراد مقیم ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، افغانستان، عراق، چیچنیا، سوڈان، ایتھوپیا سمیت مختلف ممالک میں کام کررہی ہے۔

معروف سماجی رہنما عبدالستارایدھی نے1962 میں سیاست میں قدم رکھا اور بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں BD ممبرکی حیثیت سے بلامقابلہ کامیابی حاصل کی ۔1964 میں انھوں نے ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔ عبدالستار ایدھی کو بعد میں سیاسی مہم جوئی ایک غلطی محسوس ہوئی جس کے بعدانھوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اوردوبارہ سماجی خدمت کے کاموں میں مصروف ہوگئے،1970میں عبدالستارایدھی نے ایک بار پھر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا مگر قومی و صوبائی اسمبلی دونوں کی نشستوں پرانھیں شکست اٹھانی پڑی، یہ الیکشن انھوں نے آزادحیثیت میں لڑا تھااور ان کا انتخابی نشان بوتل تھا۔

1982 میں جنرل ضیاالحق نے بے حد اصرار کرکے انھیں مجلس شوری کی رکنیت دی مگر سادہ زندگی گزارنے والے عبدالستارایدھی اس پوزیشن سے خوش نہ ہو سکے جب وہ مجلس شوریٰ کے پہلے اجلاس میں شرکت کیلیے اپنے خرچ پرراولپنڈی پہنچے توتیسرے درجے کے ہوٹل میں قیام کیا،فٹ پاتھ پربیٹھ کر کھانا کھایا اور بذریعہ بس اسلام آباد پہنچ گئے جب وہ پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پرپہنچے تو افسران دوڑے چلے آئے اور کہا کہ آپ کہاں تھے ہم نے آپ کے قیام اورطعام کا بندوبست کر رکھا تھا لیکن انھوں نے عاجزی سے کہا کہ میں ساری زندگی عیش و عشرت سے دور رہاہوں اسی مزاج کی وجہ سے وہ بہت کم اجلاسوں میں شرکت کرسکے اور بتدریج حکومت سے دوری اختیارکرلی۔

معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کو 1986 میں فلپائن نے ملک کا سب سے بڑا اعزاز دیا 1988 میں انھیں لینن پیس پرائز سے نوازا گیا متحدہ عرت امارات میں ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات اور اطالیہ میں خدمت برائے انسانیت امن و بھائی چارہ کا ایوارڈ دیا گیا ۔1992 میں پال ہیرس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن جبکہ 2009 میں انھوں نے یونیسکو کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا اس کے علاوہ انھیں پاکستان میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ اور حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمت گزار برائے برصغیر پاکستان کا نشان امتیاز دیا گیا عبدالستار ایدھی کو محکہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز بھی دیا گیا ۔عبدالستار ایدھی کو پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کا اعزاز خدمت، پاکستان سوک اعزاز، پاکستان انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانی حقوق اعزاز اور عالمی میمن تنظیم نے بھی انھیں لائف ٹائم ایوارڈ دیا ہے۔

ڈاکٹر عبد الستار ایدھی نے آج سے تقریباً 31 سال قبل 1985 میں مواچھ گوٹھ میں ایدھی قبرستان قائم کیا جہاں لاوارث افراد کو سپرد خاک کیا جاتا تھا جبکہ ایسے مفلس اور غریب لوگ جن کے پاس اپنے پیاروں کی تدفین پر آنے والے اخراجات نہیں ہوتے تھے۔ ان کے تدفین بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت بغیر کسی معاوضے کے کی جاتی ہے ، دوسری جانب عبد الستار ایدھی نے سب سے پہلے کھارادر میں ایدھی غسل خانہ قائم کیا جہاں میتوں کو غسل دیا جاتا ہے بعد ازاں انہوں نے سہراب گوٹھ کے قریب ایدھی میت سرد خانہ اور غسل خانہ قائم کیا ، ایدھی ذرائع نے بتایا کہ ایدھی سرد خانے میں ایک وقت میں 150 سے زائد میتوں کو رکھا جا سکتا ہے ۔

عبدالستار ایدھی نے ایک بے سہارا بھارتی لڑکی گیتاکو بھی ایدھی ہوم میں پناہ دی مذکورہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ کئی برس قبل پاکستان آئی تھی اور وہ ان سے بچھڑ گئی تھی اور یہ لڑکی گونگی ہے۔ گزشتہ برس ایدھی فائونڈیشن نے طویل جدوجہد کے بعد اس کے وارثوں کا سراغ لگایا اور ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی اس لڑکی کو چھوڑنے کیلیے خود بھارت گئیں جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عبدالستار ایدھی کا شکریہ ادا کیا تھا اور ایدھی فائونڈیشن کیلیے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا تھا جو انھوں نے شکریہ کے ساتھ لینے سے انکارکردیا تھا ۔

عبدالستار ایدھی کو 1980میں لبنان جاتے ہوئے اسرائیلی افواج نے گرفتارکیا جبکہ 2006 میں بھی وہ 16گھنٹے کیلیے ٹورنٹو ایئرپورٹ پرزیرحراست رہے، 2008میں امر یکی امیگر یشن حکام نے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پران کا پاسپورٹ اور دیگر کا غذات پرضبط کرتے ہو ئے کئی گھنٹوں تک تفتیش کی۔

عبدالستار ایدھی فوجی اعزاز کیساتھ سپرد خاک

معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی قائداعظم محمد علی جناح اور سابق صدر جنرل ضیاالحق کے بعد تیسری شخصیت ہیں جن کی میت کو پاک فوج کی روایتی گن کیرج وہیل کیرئیر کے ذریعے اسٹیڈیم تک پہنچایا گیا جب کہ وہ پہلے سویلین پاکستانی بھی بن گئے ہیں جن کی مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی۔

معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی نے اپنی بے مثال سماجی اور فلاحی خدمات کی وجہ سے دنیا بھر سمیت پاکستانیوں کے دل جیت لیے تھے اسی لیے تو انہیں وہ مقام دیا گیا جو اس سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح، سابق صدر جنرل ضیاالحق کو دیا گیا تھا۔ عبدالستار ایدھی قائد اعظم محمد علی جناح، سابق صدر جنرل ضیاالحق کے بعد تیسری شخصیت ہیں جن کی میت کو پاک فوج کی روایتی گن کیرج وہیل کیرئیر کے ذریعے اسٹیڈیم تک پہنچایا گیا۔

عبدالستار ایدھی کے جسد خاکی کو نیشنل اسٹیڈیم کے بیرونی حصے سے لے کر اسٹیڈیم کے اندر بنے چبوترے تک گن کیرج وہیل کیرئیر کے ذریعے پہنچایا گیا۔ تدفین کے موقع پر فوجی اعزاز کی یہ روایت تاج برطانیہ کے دور سے شروع ہوئی تھی جب کہ ملکہ وکٹوریہ کے کفن باکس کی نقل وحرکت بھی اسی گاڑی کے ذریعے ہوئی تھی۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ بانی پاکستان اور پہلے گورنر جنرل قائد اعظم کی تدفین کے موقع پر یہ روایت نظر آئی جب کہ دوسری مرتبہ سابق صدر جنرل ضیاالحق کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی گئی جس کے بعد اب تیسری مرتبہ عبدالستا ر ایدھی کو یہ اعزاز بخشا گیا اور یوں عبدالستا ر ایدھی یہ اعزاز پانے والے پہلے سویلین پاکستانی بھی ہیں۔

Edhi’s funeral prayer offered with state honor

Abdul Sattar Edhi1
Edhi, known as a ‘servant of humanity’ and who also ran the world’s largest private ambulance network, was suffering from severe kidney problems according to his son. Among those to attend the funeral was President Mamnoon Hussain, military chief General Raheel Sharif, governor of Sindh province Ishrat ul Ibad Khan, the chief ministers of Sindh and Punjab provinces and many other national politicians, notables and servicemen. Edhi’s coffin, wrapped in the green national flag and covered with pink rose-petals, was carried on a military jeep into the national stadium in Karachi where there was a guard of honor as thousands paid tribute. Security officials said that a 21 gun salute was also offered. Military Chief Raheel Sharif and Edhi’s son Faisal saluted the coffin as it was carried by soldiers.
But thousands of ordinary people who planned to attend the funeral were stopped several kilometers away from the ceremony for security reasons. More than 3,000 security and traffic police officers were deployed as the coffin was taken for burial to Edhi Village near Karachi’s main National Highway, which Edhi himself had selected as a place for his grave 25 years ago. Born to a family of Muslim traders in Gujarat in British India, Edhi arrived in Pakistan after its bloody creation in 1947.
The state’s failure to help his struggling family care for his mother — paralyzed and suffering from mental health issues — was his painful and decisive turning point toward philanthropy. In the sticky streets in the heart of Karachi, Edhi, full of idealism and hope, opened his first medical clinic in 1951. Abandoned children and the elderly, battered women, the disabled, drug addicts; Edhi’s foundation now houses some 5,700 people in 17 shelters across the country.

Dr. Adeeb ul Hassan Rizvi

Pakistan’s shambolic public health system suffers from corruption, mismanagement and lack of resources. But one public sector hospital in Karachi provides free specialised healthcare to millions, led by a man whose dream was inspired by the UK’s National Health Service.Dr Adib Rizvi’s most distinguishing feature is not just his grey hair. You can spot him in a crowd of people in a cramped hospital corridor by the respect he commands among patients and staff.
It doesn’t only come from being the founder and the head of one of Pakistan’s largest public health organisations.Quite the opposite, for a man who’s spearheaded a life-long mission of providing “free public health care with dignity,” Dr Rizvi is unassuming as he walks around the hospital wards checking on his patients.Many of them he knows by name. They include children as well as the elderly, Muslims as well as non-Muslims.
The rapport he enjoys with them is striking. He’s seen as a friend, someone they trust, someone who’s not after whatever little money they may or may not have.Adib Rizvi was barely 17 when Hindu-Muslim communal riots forced him to migrate from India to the newly created country of Pakistan.Without a family, he spent much of his time as a medical student in Karachi in the 1950s living in boarding hostels.”In those days, I had plenty of time to roam about and observe what goes in our hospitals,” he remembers.
 Dr. Adeeb ul Hassan Rizvi2
What he experienced there would leave a deep impact on him for the rest of his life. SIUT provides free specialised healthcare to millions across Pakistan and beyond “I saw people being abused for not being able to pay for treatment. I saw elderly women taking off their earrings and pawning them to pay for medicine. “People would beg for healthcare, but they would be demeaned. It was like people were required to pawn off their self-respect to get a service which I felt should have been their right as citizens in the first place.”After completing his medical degree in Karachi, Dr Rizvi went to Britain for a fellowship in surgery. There, he spent a decade working in hospitals.
“I was inspired by the National Health Service (NHS). It showed me that providing free healthcare was doable,” he says. But when he returned to Pakistan in 1971 and joined Civil Hospital Karachi as assistant professor of urology, most people around him told him he was talking utopia. “They said it can’t be done here.”At the time, he had a choice.He could have opted to set up his own private hospital. He could have built up his own lucrative empire while keeping his day job at the poorly run government hospital – a path taken by many highly qualified physicians in Pakistan.
“But the option never really appealed me,” he says. “I always felt that in order to really make a difference, I had to be committed to this public sector hospital. Because when you contribute to public sector institutions, you help the common man. That’s what I wanted to do.”No obstacle was big enough. Lack of funds, beds, medicines, surgical instruments didn’t discourage him. Neither did the lack of enthusiasm among health officials to change or improve things. Contributions were collected from a close network of friends and well-wishers. A team of publically-spirited doctors and medics started to come together. They got on with whatever they could manage to expand their services. A few second-hand dialysis machines were imported from Britain and added to the small urology ward.