تیرہ سالہ پاکستانی احسن طاہر کا نام ہیکنگ کے ہال آف فیم میں شامل

پاکستان کے 13 سالہ شہری احسن طاہر کا نام مائیکروسوفٹ اور گوگل کی جانب سے ہیکنگ کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ کراچی کے رہائشی احسن طاہر نویں جماعت کے طالبعلم اور ایک ایتھیکل ہیکر ہیں۔ ایک سال قبل اُن کی اپنی ہی بنائی ہوئی ویب سائٹ ہیک ہو گئی جسے واپس حاصل کرنے کے لیے انھوں نے کامیاب کوشش کی۔ یہیں سے ان کے سفر کا آغاز ہوا کہ کسی ویب سائٹ کو کس طرح محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ احسن طاہر کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی انفراسٹرکچر جیسا کہ حکومتی ویب سائٹس اور پورٹلز سمیت تمام نئے برنس کو بھی محفوظ بنانا ممکن ہے۔‘ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ’ہیکر ون اینڈ بگ کراؤڈ‘ کمپنی نے ان صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں امریکہ آنے کی دعوت دی۔

احسن طاہر نے 18 مارچ سے یکم اپریل تک اپنے دورے میں کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ملاقات بھی کی، جس میں انھوں نے کچھ بڑی انٹرنیشنل ٹیکنالوجی کمپنیز کو اُن کے ڈیٹا بیس میں سکیورٹی نقائص سے آگاہ کیا۔ اس تجربے سے ان کا رجحان ’ایتھیکل ہیکنگ‘ کی جانب مزید بڑھ گیا۔ احسن کا خیال ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کمپنیز کی ویب سائٹس، سماٹ فونز، سماٹ ٹی وی حتیٰ کہ کاریں ہیک کیے جانے کے خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے سائبر سکیورٹی کے میدان میں پاکستان کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ماہرین ’آئی او ٹی‘ ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دیں تو مسئلے کا حل ممکن ہے۔

پاکستان میں آئے دن ویب سائٹس ہیک ہونے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ اُن کا خاتمہ باؤنٹی پروگرامز کے تحت ممکن ہے۔ یہ پروگرامز ہیکنگ کو شفاف بناتے ہیں اور ایتیھکل ہیکرز قانون کے دائرے میں رہ کر کمپنیوں کے ڈیٹا بیس کی سکیورٹی کو لاحق خطرات یا اُن میں خامیاں تلاش کر کے اداروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر محمد مناف کا کہنا ہے کہ ’ایتیھکل ہیکنگ ایک آرٹ ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ احسن طاہر جیسے بچے جو اس کم عمری میں جس نہج پر سوچتے ہیں اور جس مقام پر ہیں یہ وہ اچیومنٹ ہے جو ہیکنگ کی دنیا میں ایک عام شخص اپنے 17 سالہ تجربے سے حاصل کرتا ہے۔‘ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی توجہ اس طرف دلانے کی ضرورت ہے کہ اداروں کے لیے صرف پروگرامنگ ہی نہیں سکیورٹی بھی توجہ طلب شعبہ ہے۔

صبا ناز
اسلام آباد

Advertisements