شاہد آفریدی کا عظیم گول کیپر منصور کے علاج کے اخراجات اٹھانے کا اعلان

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے سابق عظیم گول کیپر منصور احمد کے علاج کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ 1994 کے ہاکی ورلڈ کپ کے فائنل میں ہالینڈ کے خلاف پینالٹی اسٹروک پر شاندار گول کیپنگ کے ذریعے پاکستان کو چیمپیئن بنوانے والے سابق گول کیپر گزشتہ ماہ سے دل کے عارضے کا شکار ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں علاج کیلئے بیرون ملک جانے کا مشورہ دیا ہے۔ سابق گول کیپر کی حالت انتہائی نازک ہے اور اس وقت ان کا دل صرف 20 سے 30 فیصد کام کر رہا ہے اور جسم کے دیگر اعضا بھی بتدریج کام کرنا چھوڑتے جا رہے ہیں۔

انہیں 18 دن قبل مقامی ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا اور ان کے بل کی مد میں پانچ لاکھ روپے ان کے ادارے کسٹم اور بقیہ 10 لاکھ روپے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ادا کیے تھے۔ منصور احمد شدید بیماری کے ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی انتہائی پریشان ہیں اور ان کے اہلخانہ نے متعلقہ اداروں اور وزیر اعظم پاکستان سے بھی اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اس سلسلے میں آگے آتے ہوئے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا ہے کہ منصور احمد کے علاج کے تمام تر اخراجات شاہد آفریدی فاؤنڈیشن برداشت کرے گی۔

Advertisements

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کا ڈاکٹر ادیب رضوی کو خراج تحسین

ڈاکٹر ادیب رضوی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بچوں کے لیے ایک کتاب شائع کی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے شائع اس کتاب میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ادیب رضوی کی زندگی کے مختلف پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نوجوان نسل کو ڈاکٹر ادیب کے بچپن ، تعلیمی میدان میں کامیابیوں، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے قیام اور زندگی کے دیگر پہلووں سے روشناس کرانا ہے۔

دکھی انسانیت کے لئے الخدمت فاﺅنڈیشن کا کردار

ڈاکٹر مشتاق مانگٹ صاحب کی بریفنگ کے حوالے سے میں الخدمت فاﺅنڈیشن کی مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے لئے خدمات کا تفصیلی اور دکھ بھرا تذکرہ کر چکا ہوں۔ دیگر فلاحی کاموں پر آج روشنی ڈالوں گا تاکہ قارئین کو اس ادارے کی مجموعی خدمات جاننے کا موقع مل سکے اور انہیں یہ خوشی ہو گی کہ اگر کار جہاں چل رہا ہے تواس میں کچھ خاموش اداروں کا کردار بھی شامل ہے۔ الخدمت فاﺅنڈیشن 1990 سے کام کر رہی ہے اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاﺅ، صحت، تعلیم، کفالت ِ یتامی، صاف پانی، مواخات پروگرام اور دیگر سماجی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ خدمات کی اِس قوس قزح سے ملک بھر میں ہر سال لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

اللہ کے فضل سے الخدمت فاﺅنڈیشن کو پاکستان میں خدمت خلق کی ایک نمایاں تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جس کا سب سے بڑا سرمایہ ملک بھر میں پھیلے وہ ہزاروں رضاکار ہیں جو بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب نیک نیتی اور دیانت داری سے بے سہارا اور ضرورت مندوں کی خدمت میں ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے مختلف ناگہانی آفات کا شکار رہا ہے۔ زلزلے، سیلاب، بارشیں اور اس کے علاوہ بھی روز مرہ حادثات اور بم دھماکوں میں بہت بڑی تعداد میں افراد ریسکیو اور ریلیف بروقت نہ پہنچنے کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں تو ریسکیو ٹیمیں بہت پروفیشنل ادارے کے تحت کام کر رہی ہیں جن کے پاس جدید مشینری سمیت ایسے ہر ممکن انتظامات موجود ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں نہ صرف وہ ریسکیو آپریشن کے دوران اپنی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ریسکیو کرتے ہیں اور ریلیف مہیا کرتے ہیں لیکن بہت سے ترقی پذیر ممالک میں ریسکیو ٹیمیں صرف بڑے شہروں تک محدود ہیں اور ان کے پاس وہ سہولیات بھی نہیں جو کسی بھی ناگہانی آفت یا بڑے حادثے کی صورت میں ہونی چاہیئں۔ پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں ہر سال سیلاب کا خطرہ بھی رہتا ہے اور زلزے بھی مقدر ٹھہرے ہیں ۔

الخدمت فاﺅنڈیشن چونکہ پاکستان میں رضاکاروں کا سب سے بڑا نیٹ ورک رکھنے والا ادارہ ہے اِسی لیے ”آ فات سے بچاﺅ“ ہمیشہ سے الخدمت فاﺅنڈیشن کی پہلی ترجیح رہی ہے۔ 2005 ءمیں کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخوا میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ،2007 میں شمالی پنجاب میں آنے والا سیلاب ہو یا 2008 میں بلوچستان میں آنے والا زلزلہ ، 2009 اور 2014 میں بد امنی کے خلاف جنگ سے بے گھر ہونے والا سانحہ ہو یا 2010 سے 2015 ہر سال سیلاب کی بربادیاں یا تھر پارکر میں قحط کی صورتحال، الخدمت فاﺅنڈیشن نے ہمیشہ کسی بھی نا گہانی آفت کی صورت میں بر وقت ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لیا جس سے لاکھوں متاثرین نے استفادہ کیا۔

الخدمت فاﺅنڈیشن کے تحت ملک بھر میں قدرتی سانحات اور ایمرجنسی کی صورت میں عوام کو فوری اور بروقت ریلیف کی فراہمی کے لئے الخدمت ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل موجود ہے جسے مرکز اور صوبوں میں باقاعدہ اور منظم شعبہ کی حیثیت دینے کے بعد اب بتدریج اضلاع کی سطح پر منظم کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال الخدمت فاﺅنڈیشن نے 25 بم دھماکوں کے بعد 1510 رضاکاروں نے 185 ایمبولینس کے ذریعے 992 زخمی افراد کو امدادی سرگرمیاں فراہم کیں اور 98 میتوں کو تابوت فراہم کئے اور اُن کے آبائی علاقوں تک پہنچایا۔ اِسی طرح سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں 1000 لوگوں کو ریسکیو کیا۔ خیبر پختونخوا اورگلگت بلتستان میں آنے والے سیلاب اوربارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی 13221 افراد کو ریسکیو کیا اور 59775 افراد کو ریلیف فراہم کیا۔

پاکستان سمیت تیسری دنیا میں صحت عامہ کے حوالے سے خوفناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ بیماری سے پریشان حال مریض کے لئے ڈاکٹروں کی فیس، میڈیکل ٹیسٹ، ادویات اور ہسپتال کے اخراجات اُسے اور لواحقین کو مزید پریشان کر دیتے ہیں ۔ الخدمت فاﺅنڈیشن اِسی ضرورت کے پیش نظر نادار اور مستحق طبقہ کے لئے کم قیمت میں معیاری صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اِس وقت ملک بھر میں الخدمت کے تحت 22 میٹرنٹی ہومز، 19 جنرل ہسپتال، 154 کلینک اور ڈسپنسریاں، 109 ڈائیگناسٹک سینٹرز اور کولیکشن سینٹرز،5 بلڈ بینک، 3 تھلسیمیا سینٹرز اور 298 ایمبولینس خدمات سر انجام دی رہی ہیں۔ جبکہ تھرپارکر اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سمیت ملک بھر میں417 فری میڈیکل کیمپ بھی منعقد کئے گئے ۔

الخدمت کے مستحقین کے لئے صحت عامہ کے اِن پراجیکٹس سے گزشتہ سال 67 لاکھ سے زائد مریضوں نے استفادہ کیا۔ الخدمت تھر پارکر میں خاص طور پر ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ شعبہ تعلیم میں الخدمت فاﺅنڈیشن کی بڑی کامیابی الفلاح سکالر شپ سکیم ہے جس کے تحت الخدمت ملک بھر میں ایسے ذہین طلبہ و طالبات کے لئے وظائف کا اہتمام کرتی ہے جو وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ گزشتہ سال میڈیکل ، انجینئرنگ، ایڈمنسٹریشن ، کامرس سمیت دیگر شعبوں میں 863 طلبہ و طالبات کو وظائف دیئے گئے۔ اِس کے ساتھ ساتھ الخدمت کے تحت خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں 60 سکول بھی کام کر رہے ہیں اور مستحق طلبہ و طالبات میں یونیفارم ، اسٹیشنری اور سکول بیگ بھی تقسیم کئے جاتے ہیں ۔

گزشتہ سال 6500 طلبہ و طالبات میں یونیفارم، اسٹیشنری اور سکول بیگ تقسیم کئے۔ اسی طرح الخدمت کے3 یوتھ ہاسٹل بھی کام کر رہے ہیں ۔ ملک بھر میں سٹریٹ چلڈرن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر فوری اقدامات اٹھانا سب کا اخلاقی فرض ہے ۔ اس وقت پاکستان میں قریباََ 13 لاکھ سٹریٹ چلڈرن ہیں جو حکومتی عدم توجہ اورمعاشرتی رویوں کے باعث گھروں اور تعلیمی اداروں میں اپنا وقت گزارنے کی بجائے سٹرکوں پروقت گزارنے پر مجبور ہیں ۔ الخدمت فاﺅنڈیشن اس وقت پنجاب اور خیبرپختوانخوا میں 18 چائلڈ پروٹیکشن سنٹر چلا رہی ہے جن میں 750 بچوں کو رسمی و غیر رسمی تعلیم ، صحت کی بنیادی سہولیات ، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک کے ساتھ ساتھ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں فراہم کی جارہی ہیں ۔ جس کا بنیادی مقصد ان بچوں کو ہنرمند بنا کر معاشرے کا فعال شہری بنانا ہے۔

ایجوکیشن پروگرام میں سکل ڈویلپمنٹ سینٹر کے قیام کا عمل بھی جاری ہے. الخدمت کے تحت 37 سکل ڈویلپمنٹ سینٹر ز بھی کام کر رہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں 6 کروڑ 30 لاکھ آبادی کو صاف پانی میسر نہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں پانی کی کمی کو پورا کرناآسان کام نہیں۔ الخدمت فاﺅنڈیشن آلودہ پانی اور اُس سے ہونے والے نقصانات کے پیش ِ نظر ملک بھر میں آگہی مہم کے ساتھ ساتھ صاف پانی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس میں شہری علاقوں میں جدید واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب ، تھر پارکر، اندرون سندھ ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں کنویں کھدوانے اور کمیونٹی ہینڈ پمپ لگانے کا کام ، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ” گریوٹی فلو واٹر سکیم“ اور بلوچستان میں کاریز کے ذریعے بھی پینے کے صاف پانی کی فراہمی جاری ہے۔

الخدمت ملک بھر میں ہر علاقے کی ضروریات کی مناسبت سے صاف پانی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے اوراِس وقت الخدمت فاﺅنڈیشن کے تحت ملک بھر میں 96 واٹر فلٹریشن پلانٹ، 1750 کنویں، 4225 ہینڈ پمپ، 350 سب مرسبل واٹر پمپ، 88 گریوٹی فلو واٹر سکیم اور 389 دیگر منصوبہ جات کام کر رہے ہیں اور اِن صاف پانی کے منصوبوں سے روزانہ قریباََ 16 لاکھ افراد مستفید ہوتے ہیں۔
میں اب بھی اس ادارے کی تمام خدمات کا احاطہ نہیں کر سکا۔ اللہ انہیں نیکیوں کا اجر دے ا ور مزید خدمات کی تو فیق بخشے۔

اسداللہ غالب

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا پانچ پاکستانی سائنسدانوں کےلیے اعزاز

پاکستان کے پانچ سائنسدانوں کو امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) کی جانب سے خصوصی اعزاز دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز اس سال امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس میں پاکستانی اسکالرز کے پیش کردہ سائنسی پوسٹروں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ اے ایچ اے کی جانب سے دیئے گئے اس اعزاز کا نام ’پال ڈیوڈلے وائٹ انٹرنیشنل سائنس ٹیم ایوارڈ‘ ہے۔ یہ اعزاز کیلیفورنیا میں منعقدہ اے ایچ اے کے سائنسی سیشن میں پیش کردہ تحقیقی پوسٹرز کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

جامعہ کراچی میں واقع بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے ایک ترجمان کے مطابق اعزاز حاصل کرنے والے پانچ میں سے تین کا تعلق اس کے ذیلی ادارے پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) سے ہے۔ ان اسکالرز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم، ڈاکٹر عرفان خان اور ردائے ماریہ قاضی شامل ہے جبکہ بقیہ دو سائنسدانوں کے نام کنول حنیف اور ڈاکٹر نادیہ نعیم ہیں جنہوں نے پی سی ایم ڈی سے ڈاکٹر عصمت سلیم کی نگرانی میں اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا تھا۔ اب یہ اسکالرز بالترتیب نیشنل سینٹر فار پروٹیومکس، جامعہ کراچی اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اوجھا سینٹر کراچی سے وابستہ ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے ان سائنسدانوں کو ’اے ایچ اے 2017 پال ڈیوڈلے وائٹ انٹرنیشنل اسکالرز‘ بھی منتخب کیا ہے۔ ایک تقریب میں ڈاکٹر عصمت سلیم نے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے اس کا اعزازی خط وصول کیا ہے۔ یہ ایوارڈ امریکی شہر بوسٹن کے مشہور ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر پال ڈیوڈلے وائٹ سے منسوب ہے جو اے ایچ اے کے بانیان میں شامل تھے۔ اس فیصلے پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل، ممتاز پاکستانی کیمیاداں ڈاکٹر عطاء الرحمان اور آئی سی سی بی ایس کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی شہری کی بہادری پر شارجہ پولیس کا خصوصی اعزاز

متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ کی پولیس نے پاکستانی شہری کو اس کی بہادری پر خصوصی اعزاز سے نوازا ہے۔ اماراتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالاحد عبدالقیوم نامی پاکستانی شخص نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کی گردن سے سونے کی چین نوچ کر بھاگنے والے چور کو نا صرف پکڑا بلکہ پولیس کے آنے تک اسے اپنی گرفت میں بھی لیے رکھا اور بعد ازاں اسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔ چوری کی کوشش ناکام بنانے اور ملزم کو گرفتار کرانے پر شارجہ پولیس نے عبدالاحد کو خصوصی اعزاز سے نواز کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ شارجہ پولیس کے افسر کرنل خلیفہ نے پاکستانی شخص کو اعزازی سرٹیفکیٹ اور ایک تحفہ پیش کیا۔ اس موقع پر کرنل خلیفہ نے عبدالاحد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عبدالاحد نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں پولیس کی مدد کی۔ جو لائق تحسین ہے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کا فیصلہ

حکومت پاکستان نے جذام کے مرض کیخلاف لڑنے والی جرمن نژاد ڈاکٹر رتھ فاؤکے نام سے ایک یادگاری ٹکٹ اور50 روپے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤکی دکھی انسانیت کییے اعلیٰ ترین خدمت کے عوض ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے، ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے 8 روپے کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا جائیگا۔ پاکستان پوسٹ نے دوسرا ٹکٹ ایئر ٹرانسپورٹ سپورٹ کے نام سے 10 روپے کا جاری کیا ہے، ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے 8 روپے والے یادگاری ٹکٹ کو میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر میں انتظامیہ کے حوالے کیے جانے کی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں جرمن قونصل جنرل رینھر سمیت پاکستان پوسٹ آفس کے حکام سمیت دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ 

حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے پہلی بار 50 روپے کا سکہ بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جلد ہی پاکستان میں متعارف کرا دیا جائے گا۔  واضح رہے کہ پاکستان میں جذام کے مرض سے لڑنے والی اور پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والی جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست کو کراچی میں انتقال کر گئی تھیں، ان کی خواہش کے مطابق انھیں تدفین کے وقت سرخ جوڑا پہنایا گیا تھا، 9 دن بعد 19 اگست کو ڈاکٹررتھ فاؤ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ گورا قبرستان میں تدفین کی گئی جس میں صدرپاکستان، وزیر اعظم، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی.

حکومت سندھ نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے انتقال کے بعد سول اسپتال کراچی کا نام ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے منسوب کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جبکہ پشاورکے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے لپروسی یونٹ کا نام بھی ڈاکٹر رتھ فاؤکے نام سے منسوب کیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ پاکستان میں 57 سال سے جذام (کوڑ) کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے کام کر رہی تھیں، ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پاکستان میں157 جذام کے مراکز قائم کیے جہاں جذام کے مریضوں کو بلا معاوضہ آج بھی علاج و معالجے کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، دریں اثنا پاکستان جذام کے57 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں، ہر سال 3 سو سے زائد نئے مریض رپورٹ ہوتے ہیں جن کا میری ایڈیلیڈ لپروسی اسپتال میں علاج کیا جاتا ہے۔

کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے روٹی بینک کا آغاز

 ’روٹی بینک‘کے ایک عہدیدار حارث علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’ اس بینک کے قیام کا مقصد سفید پوش لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ دسترخوان لگتے ہیں جہاں راہ گیر وں کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے لیکن کچھ ’وائٹ کالرز ‘سڑک کنارے بیٹھ کر کھانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ کسی جاننے والے سے دیکھ لیا تو کیا ہو گا. یہ ’روٹی بینک انہی وائٹ کالرز یا سفید پوش لوگوں کی مدد کے لئے کھولا گیا ہے۔ ‘‘

حارث نے وی او اے کے ایک سوال پر بتایا ’ کوئی بھی وائٹ کالر یا ضرورت مند شخص اپنا اور اپنی اہلیہ کا شناختی کارڈ اور بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی ہمارے پاس جمع کرا کے دونوں وقت کا کھانا اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔ ہر فیملی کی فائل ہم الگ رکھتے ہیں اور پوری راز داری برتے ہیں ۔ روٹی بینک کراچی کی ایک رفاعی تنظیم سیلانی ٹرسٹ نے شروع کیا ہے. ٹرسٹ کے منیجر زوہیب نے بتایا کہ ٹرسٹ نے بڑے پیمانے پر ایک کچن بنا رکھا ہے جہاں دونوں وقت کھانا بنتا اور باقاعدہ کمرشل انداز میں پیک ہوتا ہے۔ اس کے بعد اسے ہر دوپہر اور شام کو’ روٹی بینک ‘بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے ضرورت مند اسے لے جاتے ہیں یا پھر گھروں پر ارسال کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے وی او اے کو بتایا کہ ایک دن میں تقریباً گیارہ سو افراد کا کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تمام خرچ لوگوں کی جانب سے ملنے والے چندے اور امدادی رقم سے پورا ہوتا ہے۔ بےشمار لوگ فی کس کے حساب سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رقم دے جاتے ہیں۔ ایک فرد کے کھانے کے 50 روپے لیے جاتے ہیں اس لحاظ سے کوئی دس تو کوئی پندرہ اور بعض لوگ اس سے بھی کہیں زیادہ افراد کے کھانے کے لئے نقد رقم دے جاتے ہیں۔ کراچی میں ضرورت مندوں کو مفت کھانا کھلانے کے لئے ایک دو نہیں متعدد رفاعی تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ سرجانی ٹاؤن میں پروین نامی ایک خاتون صرف تین روپے میں ایک وقت کا کھانا کھلاتی ہیں اور برسوں سے ان کا یہی معمول ہے۔

چھیپا نامی مشہور فلاحی ٹرسٹ بھی اپنے طور پر یہ انسانی خدمت انجام دے رہا ہے۔ شہر کے ہر حصے اور علاقے میں مختلف چوراہوں پر دوپہر کا سورج چڑھنے اور رات کا اندھیرا چھانے سے ذرا پہلے ’چھیپا دسترخوان ‘سج جاتے ہیں۔ ان دسترخوانوں پر دال روٹی اور سبزی ہی نہیں گائے اور بکرے کے گوشت کا سالن ملنا بھی معمول کی بات ہے۔ بے شمار لوگ صدقوں کی غرض سے بکرے ذبح کراتے اور چھیپا ٹرسٹ کو دے جاتے ہیں۔ پورے ملک میں مشہور ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی’ بحریہ‘ بھی اس خدمت پر مامور ہے ۔ ’ بحریہ دسترخوان‘ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں آنے والوں کو سر راہ بیٹھنا نہیں پڑتا بلکہ’ بحریہ دسترخوان‘ کو دیکھ کر کسی بڑے ہوٹل کا گمان ہوتا ہے۔ نہایت صاف ستھرا ماحول، بہترین کھانے، ائیرکنڈیشن ماحول، باوردی ملازم، مہنگی کٹلری اور قیمتی برتن۔

رفاعی تنظیم کے ایک کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی او اے کو بتایا کہ’ بے شک بھوکے کو روٹی کھلانا بہت بڑی نیکی ہے لیکن کہیں ایسا تو نہیں اس کوشش میں ہم معاشرے کے افراد کو کھانے کی مفت سہولتیں دے کر انہیں ان کی ذمے داریوں سے راہ فرار کا موقع دے رہے ہوں؟ ‘
کارکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح نوجوانوں میں محنت کرنے کا جذبہ کم ہو جائے گا، خاص طور سے بچے ۔۔کم عمری سے ہی ان کے عادی ہوجائیں گے، ان میں اپنا مستقبل بنانے، حالات کو بدلنے اور اپنے لئے باعزت روزگار کے مواقع تلاش کرنے کا جذبہ ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ شروع ہی سے دوسروں کے کندھوں کے عادی ہوجائیں گے ۔‘‘
وی او اے کے نمائندے نے اس پر ایک اور فلاحی تنظیم عالمگیر ویلفیئرٹرسٹ کے منیجر شکیل دہلوی سے گفتگو کی تو ان کا موقف تھا کہ’ انسان کا پیٹ خالی ہو تو جرائم کی راہ نکلتی ہے ۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے انسان کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ بے روزگاری بہت بڑا عذاب ہے، بچے بھوک سے بلک رہے ہوں تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔ اگر مفت د سترخوان سے معاشرے کے لوگوں کی خود انحصاری کی عادت ختم ہونے کا خدشہ ہے تو بہت سے سنگین مسائل بھی تو حل ہورہے ہیں۔ ‘
پاکستان کو غذائی قلت کا سامنا
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسر چ انسٹی ٹیوٹ، واشنگٹن کی جاری کردہ’ گلوبل ہنگرانڈیکس‘یعنی جی ایچ آئی‘2017کے مطابق پاکستان کو غذائی قلت کی شکل میں سنجیدہ خطرے کا سامنا ہے اور آنے والے برسوں میں صورت حال سنگین ہو سکتی ہے۔ غذائی کمی اور بھوک کا شکار 119 ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 106 ہے جبکہ انڈکس میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی شرح یا اسکور اسے ’خطرناک ‘کیٹگری کی جانب لے جا رہا ہے۔
 

سولہ سالہ پاکستانی طالب علم نے نیوٹن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ان کی عمر محض 17 برس ہے مگر اپنے سائنسی تحقیقاتی مضمون سے انھوں نے دورِ حاضر کے عالمِ طبیعات کو نہ صرف حیران کیا بلکہ تحقیق کے لیے ایک نیا زاویہ فراہم بھی کیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہائشی محمد شہیر نیازی کی برقی چھتوں یعنی ‘الیکٹرک ہنی کوم’ پر کی گئی تحقیق پر مبنی مضمون گذشتہ ماہ رائل سوسائٹی اوپن سائنس جنرل نے شائع کیا ہے۔ یہ جریدہ دنیا بھر سے سائنس، ریاضی اور انجینیئرنگ کے میدان میں ہونے والی تحقیقات شائع کرتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اے لیول کے طالبِ علم شہیر نیازی نے فخر سے بتایا کہ کم عمری میں سائنسی تحقیق شائع کرنے کے اعتبار سے انھوں نے ماضی کے مشہور سائنسدان اور ماہرِ طبیعیات آئزک نیوٹن کو پیچھے چھوڑ دیا۔

‘نیوٹن کا پہلا تحقیقاتی مضمون بھی اسی رسالے میں شائع ہوا تھا، اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔ جب میرا مضمون گزشتہ ماہ شائع ہوا تو تب میں 16 برس کا تھا۔’ شہیر نے گزشتہ ستمبر کی 25 تاریخ کو 17ویں سالگرہ منائی۔ ماہرِ طبیعیات برقی چھتے کے رحجان سے کئی دہائیوں سے واقف ہیں۔ تاہم یہ برقی چھتہ ہوتا کیا ہے اور شہیر کی تحقیق نے ایسے کون سے پہلو عیاں کیے ہیں جس پر دنیا کہ سائنسدان ان کے معترف ٹھہرے؟ گھنے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ناک پر چشمہ بٹھائے دبلی پتلی قدوقامت والا نوجوان سائنس دان بخوبی جانتا ہے کہ اس سے یہ سوال ضرور کیا جائے گا۔ ان کے گھر میں داخل ہوں تو لاؤنج ہی میں ایک میز پر ڈبوں میں برقی تاروں اور سرکٹس کا ڈھیر لگا ملتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر وہ تجربے کرتے ہیں۔

انتہائی تحمل کے ساتھ، ٹھہرے ہوئے لہجے میں شہیر برقی چھتوں کے تصور کی وضاحت کرتے ہیں۔ ‘سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز کو توازن چاہیے۔ برقی قممے اسی رجحان کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ ان کی شش پہلو شکل کائنات میں سب سے متوازن ساخت ہے۔’ سائنسی تجربے میں دو الیکٹروڈز ہوتے ہیں، ایک سوئی اور دوسری آہنی پلیٹ۔ اس پلیٹ پر تیل ڈال دیا جاتا ہے۔ تیل میں سے بجلی نہیں گزر سکتی۔ ایک الیکٹروڈ یعنی سوئی سے جب ہائی وولٹیج گزرتی ہے تو وہ ایک چھوٹے پیمانے پر ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسے آسمانی بجلی گرتی ہے۔

جب برق پاروں کا دباؤ تیل پر زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہ انھیں راستہ دے دیتا ہے اور وہ دوسرے الیکٹروڈ سے جا ملتے ہیں۔ تاہم تیل نہیں چاہتا کہ اس کی شکل بگڑے اس لیے جب وہ توازن دوبارہ حاصل کرتا ہے جس کے نتیجے میں شہد کی مکھیوں کے چھتے کی شکل کے ڈھانچے بنتے ہیں۔ شہیر کے مطابق کائنات میں توازن کے تصور کے اس مخصوص رجحان پر تحقیق ہوئی ضرور تھی مگر زیادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی والدہ نے سنہ 2016 میں ان کے لیے روس میں ہونے والے بین الاقوامی نوجوان ماہرِ طبیعیات کے ٹورنامنٹ، جسے علمِ طبیعات کا ورلڈ کپ بھی کہا جاتا ہے، میں مقابلہ کرنے کا موقع تلاش کیا تو وہاں انھیں یہی اسی سائنسی مسئلے پر کام کرنے کو کہا گیا۔

شہیر کی تحقیق جس نئے پہلو کو سامنے لائی وہ تھا تیل کی سطح پر حرارت کا فرق۔ شہیر نے اس عمل کی تصویر کشی بھی کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس وقت انھیں ویسا ہی احساس ہوا جیسا انہیں بچپن میں پہلی دفعہ گھر کی چھت پر کیے گئے کیمیکل تجربے کی کامیابی پر ہوا تھا۔ ‘مجھے معلوم تھا کہ ایسا پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ میں نے اس حوالے سے ماضی میں کی جانے والی تحقیقات پر مضامین پڑھ رکھے تھے۔’ روس سے واپسی پر انھوں نے اس تحقیق کو دنیا کہ کسی اچھے رسالے میں شائع کرنے کی ٹھانی جس کے لیے انھیں مزید ایک سال تحقیق کرنی پڑی۔

اس دوران انھوں نے انٹرنیٹ کی مدد حاصل کی اور تجربوں کے لیے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمینٹ اینڈ سائنسز کی لیبارٹری استعمال کرتے رہے۔ شہیر کو علم اور تحقیق سے دوستی کا ماحول گھر ہی سے ملا۔ ان کے والد اور دادا کی دلچسپی سائنس اور خصوصاٌ علمِ طبیعیات میں تھی۔ 11 برس کی عمر سے وہ انٹرنیٹ پر موجود مختلف موضوعات پر باقاعدہ کورس کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک مشہور آن لائن پورٹل ‘کورسیرا’ پر وہ اب تک 25 کے قریب کورس کر چکے ہیں۔
‘میں سکول میں پڑھائی جانے والی چیزوں سے جب بیزار ہو جاتا ہوں تو آن لائن کورسز کا رخ کرتا ہوں۔ اس طرح آپ اچھی یونیورسٹیوں سے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔’

ہر سائنسدان کی طرح شہیر کے ذہن میں تجسس کی رو ہر وقت موجود رہتی ہے۔ تاہم ساتھ ہی وہ ٹھہراؤ کے بھی متلاشی رہتے ہیں۔ ان کی والدہ کہتی ہیں شہیر موسیقی سے بھی دلچسپی ہے۔ گھر میں ان کا ایک عدد پیانو موجود ہے جسے بجانا بھی انہوں نے انٹرنیٹ سے سیکھا ہے۔ وہ ایک اچھے مصور بھی ہیں اور خاکے کافی اچھے بنا لیتے ہیں۔ سائنس سے دلچسپی کی وجہ سے ان کے گزر اوقات کے لیے کھلونوں میں بھی دوربین یا دور درشک جیسی چیزیں شامل ہیں۔
شہیر کہتے ہیں کہ برقی چھتوں کے چمل سے حاصل ہونے والے علم کا استعمال بائیو میڈیسن، پرنٹنگ اور انجینیئرنگ میں ہوتا ہے۔ ‘اس طریقے سے ہم برقی رو یا تیل کے ذریعے دوا کی ترسیل کر سکتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے تیل کے ساتھ جوڑ توڑ کی جا سکتی ہے۔’

مستقبل میں شہیر طبیعات کے حوالے سے علم کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دنیا کی کسی اچھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اس شعبے میں تحقیق کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں اس قدر پذیرائی ملے گی۔ تاہم اس بات پر وہ خوش ہیں کہ ان کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے۔

عمر دراز ننگیانہ
بی بی سی اردو، لاہور
 

گوگل کا صادقین کو زبر دست خراج تحسین

گوگل نے پاکستان کے نامور مصور صادقین کو ان کے یوم پیدائش پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پاکستان کے معروف مصور، خطاط اور کیلی گرافر سید صادقین احمد 30 جون 1930 کو بھارت کے شہر امروہا میں پیدا ہوئے اور آپ کا تعلق بھی ایک خطاط فیملی سے تھا۔ آپ نے 1940 کے عشرے میں ترقی پسند رائٹرز اینڈ آرٹسٹ مومنٹ میں شمولیت اختیار کی لیکن آپ کے اصل ٹیلنٹ کو حسین شہید سہروردی نے متعارف کروایا۔ صادقین نے اپنے فن میں نکھار پیدا کرنے کے لئے کچھ وقت پیرس میں بھی گزارا اور آپ کو جنوبی ایشیا میں ایک آئیکونک مصور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

گوگل نے پاکستان کے اس عظیم مصور کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنا ڈوڈل تبدیل کیا ہے۔ واضح رہے کہ صادقین کو ان کی فنی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز، تمغہ حسن کارکردگی اور ستازہ امتیاز جیسے بڑے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ آپ کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آپ کے نام سے کراچی میں صادقین انسٹیٹیوٹ بھی قائم ہے۔

جب راشد منہاس نے دشمن کی سازش ناکام بنائی

راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور وہ نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر ہیں۔ راشد منہاس نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سترہ سال کی عمر میں پاک فضائیہ کی رسالپور اکیڈمی میں بطور فلائنگ کیڈٹ داخلہ لیا۔ 1971 میں راشد مہناس نے اکیڈمی سے جنرل ڈیوٹی پائلٹ کی حیثیت سے گریجوٹ کیا اور انہیں کراچی میں پی اے ایف بیس مسرور پر پوسٹ کیا گیا تاکہ لڑاکا پائلٹ کی تربیت حاصل کر سکیں۔

20اگست 1971 کو زیرتربیت پائلٹ کی حیثیت سے راشد منہاس ٹی 33 جیٹ ٹرینر

کو اڑانے والے تھے جب بنگالی پائلٹ انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ دوران پرواز مطیع الرحمان نے راشد منہاس کو سر پرضرب لگا کر بے ہوش کیا اور پرواز کا کنٹرول سنبھال کر طیارے کا رخ ہندوستان کی جانب موڑ دیا۔ اس وقت جب ہندوستان کا فاصلہ 40 میل رہ گیا تھا، راشد منہاس کو ہوش آیا اور انہوں نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی، اس میں ناکامی کے بعد نوجوان پائلٹ کے پاس اپنے طیارے کو ہندوستان لے جانے سے روکنے کا ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور انہوں نے ہندوستانی سرحد سے محض 32 میل دور طیارے کو گرا کر اپنی جان پاکستان کے لیے قربان کر دی۔

راشد منہاس کو 21 اگست 1971 کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور ان نوجوان پائلٹ کے پورے خاندان سمیت پاک فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔ راشد منہاس کو بعد از وفات پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز نشان حیدر دینے کا اعلان اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے کیا اور اس طرح وہ اس اعزاز کو پانے والے سے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے اب تک واحد رکن بن گئے۔ اپنے بیٹے کی شہادت پر راشد منہاس کے والد عبدالماجد منہاس نے یہ کہا ” اگرچہ بیٹے کی وفات کا دکھ کبھی ختم نہ ہونے والا ہے مگر مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اس نے ایک نیک مقصد اور ملک و قوم کے وقار کے لیے اپنی جان قربان کی”۔

اٹھائیس اگست 1971 کو دیئے جانے والے ایک انٹرویو میں عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کا بیٹا شروع سے ہی ایسے کرئیر میں دلچسپی رکھتا تھا جس کے ذریعے وہ ملک و قوم کی خدمت اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس زمانہ طالبعلمی میں جنگوں پر لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھنا پسند کرتے تھے اور ان کے اہم اقوال اپنی ڈائری پر نقل کر لیتے تھے۔ راشد منہاس کی ڈائری پر درج اقوال میں سے ایک میں کہا گیا تھا ” ایک شخص کے لیے سب سے بڑا اعزاز اپنے ملک کے لیے قربان کردینا اور قوم کی امیدوں پر پورا اترنا ہے”۔

راشد منہاس کی تعلیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے راولپنڈی کے میری کیمبرج اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور سنیئر کیمبرج کراچی سے کیا۔ راشد منہاس نے پاک فضائیہ 1968 میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے اور پی اے ایف اکیڈمی سے سائنس کے مضمون میں گریجویشن ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کی بڑا بیٹا ٹیکنیکل مزاج رکھتا تھا اوربارہ سال کی عمر میں ڈرائیونگ سیکھ چکا تھا۔ اس کی زاتی لائبریری میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ الیکٹرونکس اور علم فلکیات کی کتابیں بھی شامل تھیں۔ اس کے مشاغل میں پڑھنا، فوٹوگرافی، ہاکی اور بلیئرڈ شامل تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ راشد منہاس ابتدائی عمر سے مزاجاً ایک آئیڈیلسٹ تھے جو اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس اپنے بہنوئی میجر ناصر احمد خان سے بہت زیادہ متاثر تھے جنھیں ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا ” میرا بیٹا ہر کام کو مکمل کرنے والا، متعدل مزاج لڑکا تھا اور اسے پیسہ کمانے سے دلچسپی نہیں تھی”۔ عبدالماجد منہاس نے کہا کہ راشد منہاس اپنی پیدائش سے ہی پاک فضائیہ سے جڑا ہوا تھا کیونکہ اس کی پیدائش کراچی کے ڈرگ روڈ پر واقع پی اے ایف ہسپتال میں ہوئی ” میرے بیٹے نے اتنی بڑی قربانی دے کر میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا ” ہمارے پاس ایسے فوجی ہیں جو اپنی زندگیاں قوم پر نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں”۔