فخر پاکستان جہانگیر خان کیلئے جاپانی یادگاری ٹکٹ

کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک ایسا بچہ جسے لاحق بیماریوں اور جسمانی طور پر کمزور سمجھتے ہوئے ڈاکٹرز نے سختی کے ساتھ کسی بھی کھیل میں حصہ لینے پر پابندی لگا رکھی ہو، جس کو صرف بارہ سے چودہ برس کی عمر کے دوران ہی ہرنیہ جیسے طویل جسمانی آپریشنوں سے گزرنا پڑا ہو، وہ انتہائی کم عمری میں اسکواش کی دنیا میں اپنی کامیابی کے ایسے جھنڈے گاڑے گا جس کی بدولت اسے اسکواش کی آنے والی تاریخ میں بھی صف اول کا کھلاڑی تسلیم کیا جاتا رہے گا، جہانگیر خان جنہیں فخر پاکستان بھی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا جن کی بدولت پوری دنیا میں جب بھی اسکواش کا نام آئے گا تو پاکستان کا اور جہانگیر خان کا نام سر فہرست ہو گا.

جہانگیر خان اپنے خاندانی کھیل اسکواش سے تو بچپن سے ہی محبت رکھتے تھے ان کے والد عالمی شہرت یافتہ اسکواش پلیئر روشن خان جنھوں نے پہلی دفعہ 1957 میں برٹش اوپن جیت کر دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کیا وہ ہی جہانگیر خان کے ابتدائی کوچ تھے لیکن نہ صرف جہانگیر خان بلکہ ان کے والد روشن خان اپنے بڑے صاحبزادے طورسم خان کو دنیا کا ابھرتا ہوا کھلاڑی دیکھ رہے تھے اور دونوں کی امیدیں طورسم خان سے ہی وابستہ تھیں کہ وہ اسکواش کی دنیا میں اپنا، اپنے خاندان کا اور اپنے ملک کا نام روشن کریں گے، لیکن پھر اچانک ایک روز طورسم خان آسٹریلیا میں کھیلے جانیوالے ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں میچ کے دوران ہی اسکواش کورٹ میں ہارٹ اٹیک کے باعث انتہائی کم عمری میں خالق حقیقی سے جا ملے اور اپنے چاہنے والوں کیلئے عظیم صدمہ چھوڑ گئے.

طورسم خان کی اچانک وفات نے جہانگیر خان اور ان کے والد کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا تھا لیکن یہی وہ وقت تھا جب جہانگیر خان جو اسکواش سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے جنہیں ان کی خراب صحت اور جسمانی کمزوری کی بنا پر پاکستانی سلیکٹرز نے ورلڈ اسکواش چیمپئن شپ کیلئے ڈراپ کر دیا تھا لیکن بھائی کی وفات کے بعد ان کے اندر کچھ کر دکھانے کا ایسا جذبہ پیدا ہو گیا تھا کہ انہوں نے ورلڈ ایمیچر انڈویجیل چیمپئن شپ World Amateur Individual Championship ٹورنامنٹ میں حصہ لیا اور صرف پندرہ برس کی عمر میں یہ ٹورنامنٹ جیت کر پوری دنیا کو حیران کر دیا، اس کامیابی کے بعد جہانگیر خان نے کبھی پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا اور اگلے چودہ برسوں میں اسکواش کی دنیا میں صرف جہانگیر خان اور پاکستان کا نام ہی صف اول پر چھایا رہا.

اپنے کیریئر کے دوران جہانگیر خان نے صرف پندرہ برس کی عمر میں World Amateur Individual Championship کا ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد صرف سترہ برس کی عمر میں انہوں نے کم عمر ترین ورلڈ اوپن چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیا، ساتھ ہی اگلے پانچ سال آٹھ مہینوں کے دوران 555 میچ لگاتار جیت کر کسی بھی انفرادی یا اجتماعی کھیل میں ایسا ورلڈ ریکار قائم کیا جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے، دس دفعہ لگاتار برٹش اوپن چیمپئن شپ اپنے نام کی، چھ دفعہ ورلڈ اوپن چیمپئن رہے، دنیا کے پہلے اسکواش کے کھلاڑی رہے جنہوں نے ورلڈ اوپن چیمپئن شپ کے پورے ٹورنامنٹ کے دوران ایک دفعہ بھی شکست کا منہ نہیں دیکھا، جبکہ اسکواش کی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا میچ کھیلنے کا بھی اعزاز حاصل کیا جس کا دورانیہ دو گھنٹے چھیالیس منٹ تھا.

جہانگیر خان دنیائے اسکواش کے لیجنڈ کھلاڑی ہیں وہ ورلڈ اسکواش فیڈریشن کے چھ سال تک صدر بھی رہ چکے ہیں، جہانگیر خان کو ان کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان پرائیڈ آف پرفارمنس سے نواز چکی ہے جبکہ سول اعزاز ہلال امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ٹائم میگزین نے بھی جہانگیر خان کو ہیرو آف ایشیا کا خطاب دیا ہے اور بھی بہت سے عالمی ایوارڈز جہانگیر خان کو ان کی خدمات کے صلے میں مل چکے ہیں لیکن ایک اور اہم ایوارڈ جو جہانگیر خان کو ممتاز کرتا ہے وہ حالیہ دنوں میں جاپانی حکومت کی جانب سے جہانگیر خان کیلئے یادگاری ٹکٹ کا اجرا ہے جو انہیں کھیلوں کے شعبے میں ان کی خدمات کے صلے میں جاری کیا گیا ہے، چند ماہ قبل جہانگیر خان کے اعزاز میں جاپان میں پاک جاپان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین کی جانب سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ راقم کو بھی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ وہ ایک بہترین تقریب تھی جس میں جہانگیر خان کو خراج تحسین پیش کیا جارہا تھا۔ سب کچھ سن کر بہت اچھا لگ رہا تھا۔

تقریب میں فخر پاکستان جہانگیر خان کے کیریئر کے بارے میں جاپانی منتظم کی جانب سے ہال میں بیٹھے حاضرین کو جہانگیر خان کے حوالے سے بریف کیا جا رہا تھا، جہانگیر خان کی ہر کامیابی اور اسکواش کے کھیل میں خدمات پر جیسے جیسے منتظم لوگوں کو بریف کرتے ویسے ویسے ہال تالیوں سے گونج جاتا اور منتظم جہانگیر خان کی مزید کامیابیوں کے حوالے سے بریفنگ شروع کر دیتے، حقیقت تو یہ تھی کہ میں بھی اس وقت اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کر رہا تھا کیونکہ جہانگیر خان جیسی شخصیت کا تعلق بھی پاکستان سے تھا جن کی بدولت آج پاکستان جاپان جیسے ملک میں جہاں زبان بھی مختلف بولی جاتی ہے لیکن عظیم جہانگیر خان کی بدولت پاکستان کا نام روشن ہو رہا تھا، بلاشبہ یہ تقریب ہی جاپانی حکومت کی جانب سے جہانگیر خان کے لئے یادگاری ٹکٹ کے اجرا کا سبب بنی، اس ٹکٹ کے اجرا کیلئے تمام کاغذی کارروائی اور پروپوزل بھی پاک جاپان بزنس کونسل کی جانب سے تیار کر کے بھیجا گیا تھا جسے ایک طویل طریقہ کار کے بعد منظور کر لیا گیا اور عنقریب یہ ٹکٹ جاپانی حکومت کے نہ صرف ڈاکخانوں کی زینت ہو گا بلکہ ایمیزان کی جانب سے بھی اس ٹکٹ کو ان کی ویب سائٹ کے ذریعے دنیا بھر میں فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا.

جہانگیر خان کے ساتھ جاپان کے کئی ریستورانوں میں جانے کا موقع بھی ملا اور خوشی کی بات یہ تھی کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے پچیس برس کے بعد بھی جہانگیر خان جاپان جیسے ملک میں بھی مقبول ہیں ان کے پرستار ان کے ساتھ آج بھی جاپان میں تصاویر بنوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جہانگیر خان کو پاکستان میں آج بھی وہ مقام حاصل نہیں ہو سکا ہے جو ان جیسے کھلاڑیوں کو ہونا چاہئے، جہانگیر خان کو کسی بھی ملک سے تعلقات بہتر کرنے کیلئے وہاں بطور سفیر تعینات کیا جا سکتا ہے، امن کا سفیر تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ جہانگیر خان جیسے لیجنڈ کھلاڑی اسپورٹس ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کیلئے کردار ادا کر سکیں ، جہانگیر خان کو دنیا کے کئی ممالک سے شہریت کی پیشکش ہوئیں لیکن آج بھی وہ اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں.

دنیا بھر میں سفر کرتے ہوئے چالیس پاسپورٹس کے مالک بن چکے ہیں ہر دفعہ بیرون ملک سفیر کیلئے ویزے کے حصول کے مشکل پروسس سے گزرتے ہیں لیکن آج تک حکومت نے انہیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ بھی فراہم نہیں کیا، جہانگیر خان جیسے لوگ تو چلتے پھرتے ڈپلومیٹس ہوتے ہیں جہاں جاتے ہیں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں، لہٰذا وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے درخواست ہے کہ وہ جہانگیر خان کو ان کی خدمات کے صلے میں نہ صرف امن کا سفیر مقرر کریں اور کم سے کم تاحیات ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا اجرا کرائیں تاکہ وہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکیں، یہ اپنے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کا قابل تعریف عمل ہوسکتا ہے۔

محمد عرفان صدیقی

Advertisements

ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کا فیصلہ

حکومت پاکستان نے جذام کے مرض کیخلاف لڑنے والی جرمن نژاد ڈاکٹر رتھ فاؤکے نام سے ایک یادگاری ٹکٹ اور50 روپے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤکی دکھی انسانیت کییے اعلیٰ ترین خدمت کے عوض ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے، ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے 8 روپے کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا جائیگا۔ پاکستان پوسٹ نے دوسرا ٹکٹ ایئر ٹرانسپورٹ سپورٹ کے نام سے 10 روپے کا جاری کیا ہے، ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے 8 روپے والے یادگاری ٹکٹ کو میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر میں انتظامیہ کے حوالے کیے جانے کی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں جرمن قونصل جنرل رینھر سمیت پاکستان پوسٹ آفس کے حکام سمیت دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔

حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے پہلی بار 50 روپے کا سکہ بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جلد ہی پاکستان میں متعارف کرا دیا جائے گا۔  واضح رہے کہ پاکستان میں جذام کے مرض سے لڑنے والی اور پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والی جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست کو کراچی میں انتقال کر گئی تھیں، ان کی خواہش کے مطابق انھیں تدفین کے وقت سرخ جوڑا پہنایا گیا تھا، 9 دن بعد 19 اگست کو ڈاکٹررتھ فاؤ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ گورا قبرستان میں تدفین کی گئی جس میں صدرپاکستان، وزیر اعظم، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی.

حکومت سندھ نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے انتقال کے بعد سول اسپتال کراچی کا نام ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے منسوب کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جبکہ پشاورکے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے لپروسی یونٹ کا نام بھی ڈاکٹر رتھ فاؤکے نام سے منسوب کیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ پاکستان میں 57 سال سے جذام (کوڑ) کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے کام کر رہی تھیں، ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پاکستان میں157 جذام کے مراکز قائم کیے جہاں جذام کے مریضوں کو بلا معاوضہ آج بھی علاج و معالجے کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، دریں اثنا پاکستان جذام کے57 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں، ہر سال 3 سو سے زائد نئے مریض رپورٹ ہوتے ہیں جن کا میری ایڈیلیڈ لپروسی اسپتال میں علاج کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام پر یادگاری سکوں کے اجرا کا فیصلہ

پاکستان میں لگ بھگ چھ دہائیوں تک جذام یعنی ’کوڑھ‘ کے مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے 50 روپے کے سکے جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ رواں سال اگست میں کراچی میں 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 50 روپے کے 50 ہزار یادگاری سکے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ نے جذام سے متاثرہ مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی اور اُنھوں نے اس مرض سے متاثر افراد کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے ساٹھ سال قبل کراچی میں ’میری ایڈ لیڈ سوسائٹی‘ قائم کی تھی۔ اپنا آبائی ملک چھوڑ کر پاکستان کو اپنا مستقل مسکن بنانے اور یہاں زندگی بھر کوڑھ کے مریضوں کے علاج و دیکھ بھال پر اُنھیں ’’پاکستانی مدر ٹریسا‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ہلالِ امتیاز اور ستارۂ قائداعظم جیسے نمایاں سول ایوارڈز سے نوازا تھا۔ جب کہ اُن کی تدفین بھی سرکاری اعزاز کے ساتھ کراچی میں کی گئی تھی۔

محمد اشتیاق

کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے روٹی بینک کا آغاز

 ’روٹی بینک‘کے ایک عہدیدار حارث علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’ اس بینک کے قیام کا مقصد سفید پوش لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ دسترخوان لگتے ہیں جہاں راہ گیر وں کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے لیکن کچھ ’وائٹ کالرز ‘سڑک کنارے بیٹھ کر کھانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ کسی جاننے والے سے دیکھ لیا تو کیا ہو گا. یہ ’روٹی بینک انہی وائٹ کالرز یا سفید پوش لوگوں کی مدد کے لئے کھولا گیا ہے۔ ‘‘

حارث نے وی او اے کے ایک سوال پر بتایا ’ کوئی بھی وائٹ کالر یا ضرورت مند شخص اپنا اور اپنی اہلیہ کا شناختی کارڈ اور بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی ہمارے پاس جمع کرا کے دونوں وقت کا کھانا اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔ ہر فیملی کی فائل ہم الگ رکھتے ہیں اور پوری راز داری برتے ہیں ۔ روٹی بینک کراچی کی ایک رفاعی تنظیم سیلانی ٹرسٹ نے شروع کیا ہے. ٹرسٹ کے منیجر زوہیب نے بتایا کہ ٹرسٹ نے بڑے پیمانے پر ایک کچن بنا رکھا ہے جہاں دونوں وقت کھانا بنتا اور باقاعدہ کمرشل انداز میں پیک ہوتا ہے۔ اس کے بعد اسے ہر دوپہر اور شام کو’ روٹی بینک ‘بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے ضرورت مند اسے لے جاتے ہیں یا پھر گھروں پر ارسال کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے وی او اے کو بتایا کہ ایک دن میں تقریباً گیارہ سو افراد کا کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تمام خرچ لوگوں کی جانب سے ملنے والے چندے اور امدادی رقم سے پورا ہوتا ہے۔ بےشمار لوگ فی کس کے حساب سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رقم دے جاتے ہیں۔ ایک فرد کے کھانے کے 50 روپے لیے جاتے ہیں اس لحاظ سے کوئی دس تو کوئی پندرہ اور بعض لوگ اس سے بھی کہیں زیادہ افراد کے کھانے کے لئے نقد رقم دے جاتے ہیں۔ کراچی میں ضرورت مندوں کو مفت کھانا کھلانے کے لئے ایک دو نہیں متعدد رفاعی تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ سرجانی ٹاؤن میں پروین نامی ایک خاتون صرف تین روپے میں ایک وقت کا کھانا کھلاتی ہیں اور برسوں سے ان کا یہی معمول ہے۔

چھیپا نامی مشہور فلاحی ٹرسٹ بھی اپنے طور پر یہ انسانی خدمت انجام دے رہا ہے۔ شہر کے ہر حصے اور علاقے میں مختلف چوراہوں پر دوپہر کا سورج چڑھنے اور رات کا اندھیرا چھانے سے ذرا پہلے ’چھیپا دسترخوان ‘سج جاتے ہیں۔ ان دسترخوانوں پر دال روٹی اور سبزی ہی نہیں گائے اور بکرے کے گوشت کا سالن ملنا بھی معمول کی بات ہے۔ بے شمار لوگ صدقوں کی غرض سے بکرے ذبح کراتے اور چھیپا ٹرسٹ کو دے جاتے ہیں۔ پورے ملک میں مشہور ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی’ بحریہ‘ بھی اس خدمت پر مامور ہے ۔ ’ بحریہ دسترخوان‘ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں آنے والوں کو سر راہ بیٹھنا نہیں پڑتا بلکہ’ بحریہ دسترخوان‘ کو دیکھ کر کسی بڑے ہوٹل کا گمان ہوتا ہے۔ نہایت صاف ستھرا ماحول، بہترین کھانے، ائیرکنڈیشن ماحول، باوردی ملازم، مہنگی کٹلری اور قیمتی برتن۔

رفاعی تنظیم کے ایک کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی او اے کو بتایا کہ’ بے شک بھوکے کو روٹی کھلانا بہت بڑی نیکی ہے لیکن کہیں ایسا تو نہیں اس کوشش میں ہم معاشرے کے افراد کو کھانے کی مفت سہولتیں دے کر انہیں ان کی ذمے داریوں سے راہ فرار کا موقع دے رہے ہوں؟ ‘
کارکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح نوجوانوں میں محنت کرنے کا جذبہ کم ہو جائے گا، خاص طور سے بچے ۔۔کم عمری سے ہی ان کے عادی ہوجائیں گے، ان میں اپنا مستقبل بنانے، حالات کو بدلنے اور اپنے لئے باعزت روزگار کے مواقع تلاش کرنے کا جذبہ ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ شروع ہی سے دوسروں کے کندھوں کے عادی ہوجائیں گے ۔‘‘
وی او اے کے نمائندے نے اس پر ایک اور فلاحی تنظیم عالمگیر ویلفیئرٹرسٹ کے منیجر شکیل دہلوی سے گفتگو کی تو ان کا موقف تھا کہ’ انسان کا پیٹ خالی ہو تو جرائم کی راہ نکلتی ہے ۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے انسان کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ بے روزگاری بہت بڑا عذاب ہے، بچے بھوک سے بلک رہے ہوں تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔ اگر مفت د سترخوان سے معاشرے کے لوگوں کی خود انحصاری کی عادت ختم ہونے کا خدشہ ہے تو بہت سے سنگین مسائل بھی تو حل ہورہے ہیں۔ ‘
پاکستان کو غذائی قلت کا سامنا
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسر چ انسٹی ٹیوٹ، واشنگٹن کی جاری کردہ’ گلوبل ہنگرانڈیکس‘یعنی جی ایچ آئی‘2017کے مطابق پاکستان کو غذائی قلت کی شکل میں سنجیدہ خطرے کا سامنا ہے اور آنے والے برسوں میں صورت حال سنگین ہو سکتی ہے۔ غذائی کمی اور بھوک کا شکار 119 ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 106 ہے جبکہ انڈکس میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی شرح یا اسکور اسے ’خطرناک ‘کیٹگری کی جانب لے جا رہا ہے۔

اکتیس 31 پاکستانی مسلم دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں شامل

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم نواز شریف سمیت 31 پاکستانی شخصیات دنیا کی 500 با اثر ترین شخصیات میں شمار کی گئی ہیں۔ اردن میں قائم ‘رائل اسلامک اسٹرٹیجک اسٹڈیز سینٹر’ کی طرف سے شائع کردہ اس فہرست میں 13 مختلف شعبوں بشمول فن و ثقافت، سیاست، سائنس و ٹیکنالوجی، مذہبی اور انتہاپسندی سے متعلق با اثر شخصیات کو شمار کیا گیا ہے۔ پاکستانی بری فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف، مرحوم سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی بیوہ بلقیس ایدھی  بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور نامور وکیل عاصمہ جہانگیر، معروف معالج ڈاکٹر ادیب رضوی اور معروف گلوکارہ عابدہ پروین بھی ان شخصیات میں شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی شخصیت پہلی 50 بااثر شخصیات میں شامل نہیں۔ سابق جج اور معروف مذہبی دانشور مفتی تقی عثمانی فہرست میں ساتویں، تبلیغی جماعت کے امیر حاجی محمد عبدالوہاب چودھویں جب کہ معروف مبلغ مولانا طارق جمیل چوالیسویں نمبر پر ہیں۔

سولہ سالہ پاکستانی طالب علم نے نیوٹن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ان کی عمر محض 17 برس ہے مگر اپنے سائنسی تحقیقاتی مضمون سے انھوں نے دورِ حاضر کے عالمِ طبیعات کو نہ صرف حیران کیا بلکہ تحقیق کے لیے ایک نیا زاویہ فراہم بھی کیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہائشی محمد شہیر نیازی کی برقی چھتوں یعنی ‘الیکٹرک ہنی کوم’ پر کی گئی تحقیق پر مبنی مضمون گذشتہ ماہ رائل سوسائٹی اوپن سائنس جنرل نے شائع کیا ہے۔ یہ جریدہ دنیا بھر سے سائنس، ریاضی اور انجینیئرنگ کے میدان میں ہونے والی تحقیقات شائع کرتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اے لیول کے طالبِ علم شہیر نیازی نے فخر سے بتایا کہ کم عمری میں سائنسی تحقیق شائع کرنے کے اعتبار سے انھوں نے ماضی کے مشہور سائنسدان اور ماہرِ طبیعیات آئزک نیوٹن کو پیچھے چھوڑ دیا۔

‘نیوٹن کا پہلا تحقیقاتی مضمون بھی اسی رسالے میں شائع ہوا تھا، اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔ جب میرا مضمون گزشتہ ماہ شائع ہوا تو تب میں 16 برس کا تھا۔’ شہیر نے گزشتہ ستمبر کی 25 تاریخ کو 17ویں سالگرہ منائی۔ ماہرِ طبیعیات برقی چھتے کے رحجان سے کئی دہائیوں سے واقف ہیں۔ تاہم یہ برقی چھتہ ہوتا کیا ہے اور شہیر کی تحقیق نے ایسے کون سے پہلو عیاں کیے ہیں جس پر دنیا کہ سائنسدان ان کے معترف ٹھہرے؟ گھنے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ناک پر چشمہ بٹھائے دبلی پتلی قدوقامت والا نوجوان سائنس دان بخوبی جانتا ہے کہ اس سے یہ سوال ضرور کیا جائے گا۔ ان کے گھر میں داخل ہوں تو لاؤنج ہی میں ایک میز پر ڈبوں میں برقی تاروں اور سرکٹس کا ڈھیر لگا ملتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر وہ تجربے کرتے ہیں۔

انتہائی تحمل کے ساتھ، ٹھہرے ہوئے لہجے میں شہیر برقی چھتوں کے تصور کی وضاحت کرتے ہیں۔ ‘سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز کو توازن چاہیے۔ برقی قممے اسی رجحان کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ ان کی شش پہلو شکل کائنات میں سب سے متوازن ساخت ہے۔’ سائنسی تجربے میں دو الیکٹروڈز ہوتے ہیں، ایک سوئی اور دوسری آہنی پلیٹ۔ اس پلیٹ پر تیل ڈال دیا جاتا ہے۔ تیل میں سے بجلی نہیں گزر سکتی۔ ایک الیکٹروڈ یعنی سوئی سے جب ہائی وولٹیج گزرتی ہے تو وہ ایک چھوٹے پیمانے پر ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسے آسمانی بجلی گرتی ہے۔

جب برق پاروں کا دباؤ تیل پر زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہ انھیں راستہ دے دیتا ہے اور وہ دوسرے الیکٹروڈ سے جا ملتے ہیں۔ تاہم تیل نہیں چاہتا کہ اس کی شکل بگڑے اس لیے جب وہ توازن دوبارہ حاصل کرتا ہے جس کے نتیجے میں شہد کی مکھیوں کے چھتے کی شکل کے ڈھانچے بنتے ہیں۔ شہیر کے مطابق کائنات میں توازن کے تصور کے اس مخصوص رجحان پر تحقیق ہوئی ضرور تھی مگر زیادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی والدہ نے سنہ 2016 میں ان کے لیے روس میں ہونے والے بین الاقوامی نوجوان ماہرِ طبیعیات کے ٹورنامنٹ، جسے علمِ طبیعات کا ورلڈ کپ بھی کہا جاتا ہے، میں مقابلہ کرنے کا موقع تلاش کیا تو وہاں انھیں یہی اسی سائنسی مسئلے پر کام کرنے کو کہا گیا۔

شہیر کی تحقیق جس نئے پہلو کو سامنے لائی وہ تھا تیل کی سطح پر حرارت کا فرق۔ شہیر نے اس عمل کی تصویر کشی بھی کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس وقت انھیں ویسا ہی احساس ہوا جیسا انہیں بچپن میں پہلی دفعہ گھر کی چھت پر کیے گئے کیمیکل تجربے کی کامیابی پر ہوا تھا۔ ‘مجھے معلوم تھا کہ ایسا پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ میں نے اس حوالے سے ماضی میں کی جانے والی تحقیقات پر مضامین پڑھ رکھے تھے۔’ روس سے واپسی پر انھوں نے اس تحقیق کو دنیا کہ کسی اچھے رسالے میں شائع کرنے کی ٹھانی جس کے لیے انھیں مزید ایک سال تحقیق کرنی پڑی۔

اس دوران انھوں نے انٹرنیٹ کی مدد حاصل کی اور تجربوں کے لیے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمینٹ اینڈ سائنسز کی لیبارٹری استعمال کرتے رہے۔ شہیر کو علم اور تحقیق سے دوستی کا ماحول گھر ہی سے ملا۔ ان کے والد اور دادا کی دلچسپی سائنس اور خصوصاٌ علمِ طبیعیات میں تھی۔ 11 برس کی عمر سے وہ انٹرنیٹ پر موجود مختلف موضوعات پر باقاعدہ کورس کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک مشہور آن لائن پورٹل ‘کورسیرا’ پر وہ اب تک 25 کے قریب کورس کر چکے ہیں۔
‘میں سکول میں پڑھائی جانے والی چیزوں سے جب بیزار ہو جاتا ہوں تو آن لائن کورسز کا رخ کرتا ہوں۔ اس طرح آپ اچھی یونیورسٹیوں سے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔’

ہر سائنسدان کی طرح شہیر کے ذہن میں تجسس کی رو ہر وقت موجود رہتی ہے۔ تاہم ساتھ ہی وہ ٹھہراؤ کے بھی متلاشی رہتے ہیں۔ ان کی والدہ کہتی ہیں شہیر موسیقی سے بھی دلچسپی ہے۔ گھر میں ان کا ایک عدد پیانو موجود ہے جسے بجانا بھی انہوں نے انٹرنیٹ سے سیکھا ہے۔ وہ ایک اچھے مصور بھی ہیں اور خاکے کافی اچھے بنا لیتے ہیں۔ سائنس سے دلچسپی کی وجہ سے ان کے گزر اوقات کے لیے کھلونوں میں بھی دوربین یا دور درشک جیسی چیزیں شامل ہیں۔
شہیر کہتے ہیں کہ برقی چھتوں کے چمل سے حاصل ہونے والے علم کا استعمال بائیو میڈیسن، پرنٹنگ اور انجینیئرنگ میں ہوتا ہے۔ ‘اس طریقے سے ہم برقی رو یا تیل کے ذریعے دوا کی ترسیل کر سکتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے تیل کے ساتھ جوڑ توڑ کی جا سکتی ہے۔’

مستقبل میں شہیر طبیعات کے حوالے سے علم کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دنیا کی کسی اچھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اس شعبے میں تحقیق کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں اس قدر پذیرائی ملے گی۔ تاہم اس بات پر وہ خوش ہیں کہ ان کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے۔

عمر دراز ننگیانہ
بی بی سی اردو، لاہور

گوگل کا صادقین کو زبر دست خراج تحسین

گوگل نے پاکستان کے نامور مصور صادقین کو ان کے یوم پیدائش پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پاکستان کے معروف مصور، خطاط اور کیلی گرافر سید صادقین احمد 30 جون 1930 کو بھارت کے شہر امروہا میں پیدا ہوئے اور آپ کا تعلق بھی ایک خطاط فیملی سے تھا۔ آپ نے 1940 کے عشرے میں ترقی پسند رائٹرز اینڈ آرٹسٹ مومنٹ میں شمولیت اختیار کی لیکن آپ کے اصل ٹیلنٹ کو حسین شہید سہروردی نے متعارف کروایا۔ صادقین نے اپنے فن میں نکھار پیدا کرنے کے لئے کچھ وقت پیرس میں بھی گزارا اور آپ کو جنوبی ایشیا میں ایک آئیکونک مصور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

گوگل نے پاکستان کے اس عظیم مصور کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنا ڈوڈل تبدیل کیا ہے۔ واضح رہے کہ صادقین کو ان کی فنی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز، تمغہ حسن کارکردگی اور ستازہ امتیاز جیسے بڑے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ آپ کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آپ کے نام سے کراچی میں صادقین انسٹیٹیوٹ بھی قائم ہے۔