امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا پانچ پاکستانی سائنسدانوں کےلیے اعزاز

پاکستان کے پانچ سائنسدانوں کو امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) کی جانب سے خصوصی اعزاز دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز اس سال امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس میں پاکستانی اسکالرز کے پیش کردہ سائنسی پوسٹروں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ اے ایچ اے کی جانب سے دیئے گئے اس اعزاز کا نام ’پال ڈیوڈلے وائٹ انٹرنیشنل سائنس ٹیم ایوارڈ‘ ہے۔ یہ اعزاز کیلیفورنیا میں منعقدہ اے ایچ اے کے سائنسی سیشن میں پیش کردہ تحقیقی پوسٹرز کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

جامعہ کراچی میں واقع بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے ایک ترجمان کے مطابق اعزاز حاصل کرنے والے پانچ میں سے تین کا تعلق اس کے ذیلی ادارے پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) سے ہے۔ ان اسکالرز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم، ڈاکٹر عرفان خان اور ردائے ماریہ قاضی شامل ہے جبکہ بقیہ دو سائنسدانوں کے نام کنول حنیف اور ڈاکٹر نادیہ نعیم ہیں جنہوں نے پی سی ایم ڈی سے ڈاکٹر عصمت سلیم کی نگرانی میں اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا تھا۔ اب یہ اسکالرز بالترتیب نیشنل سینٹر فار پروٹیومکس، جامعہ کراچی اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اوجھا سینٹر کراچی سے وابستہ ہیں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے ان سائنسدانوں کو ’اے ایچ اے 2017 پال ڈیوڈلے وائٹ انٹرنیشنل اسکالرز‘ بھی منتخب کیا ہے۔ ایک تقریب میں ڈاکٹر عصمت سلیم نے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے اس کا اعزازی خط وصول کیا ہے۔ یہ ایوارڈ امریکی شہر بوسٹن کے مشہور ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر پال ڈیوڈلے وائٹ سے منسوب ہے جو اے ایچ اے کے بانیان میں شامل تھے۔ اس فیصلے پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل، ممتاز پاکستانی کیمیاداں ڈاکٹر عطاء الرحمان اور آئی سی سی بی ایس کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

Advertisements

پاکستانی شہری کی بہادری پر شارجہ پولیس کا خصوصی اعزاز

متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ کی پولیس نے پاکستانی شہری کو اس کی بہادری پر خصوصی اعزاز سے نوازا ہے۔ اماراتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالاحد عبدالقیوم نامی پاکستانی شخص نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کی گردن سے سونے کی چین نوچ کر بھاگنے والے چور کو نا صرف پکڑا بلکہ پولیس کے آنے تک اسے اپنی گرفت میں بھی لیے رکھا اور بعد ازاں اسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔ چوری کی کوشش ناکام بنانے اور ملزم کو گرفتار کرانے پر شارجہ پولیس نے عبدالاحد کو خصوصی اعزاز سے نواز کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ شارجہ پولیس کے افسر کرنل خلیفہ نے پاکستانی شخص کو اعزازی سرٹیفکیٹ اور ایک تحفہ پیش کیا۔ اس موقع پر کرنل خلیفہ نے عبدالاحد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عبدالاحد نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں پولیس کی مدد کی۔ جو لائق تحسین ہے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کا فیصلہ

حکومت پاکستان نے جذام کے مرض کیخلاف لڑنے والی جرمن نژاد ڈاکٹر رتھ فاؤکے نام سے ایک یادگاری ٹکٹ اور50 روپے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤکی دکھی انسانیت کییے اعلیٰ ترین خدمت کے عوض ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے، ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے 8 روپے کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا جائیگا۔ پاکستان پوسٹ نے دوسرا ٹکٹ ایئر ٹرانسپورٹ سپورٹ کے نام سے 10 روپے کا جاری کیا ہے، ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے 8 روپے والے یادگاری ٹکٹ کو میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر میں انتظامیہ کے حوالے کیے جانے کی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں جرمن قونصل جنرل رینھر سمیت پاکستان پوسٹ آفس کے حکام سمیت دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ 

حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے پہلی بار 50 روپے کا سکہ بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جلد ہی پاکستان میں متعارف کرا دیا جائے گا۔  واضح رہے کہ پاکستان میں جذام کے مرض سے لڑنے والی اور پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والی جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست کو کراچی میں انتقال کر گئی تھیں، ان کی خواہش کے مطابق انھیں تدفین کے وقت سرخ جوڑا پہنایا گیا تھا، 9 دن بعد 19 اگست کو ڈاکٹررتھ فاؤ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ گورا قبرستان میں تدفین کی گئی جس میں صدرپاکستان، وزیر اعظم، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی.

حکومت سندھ نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے انتقال کے بعد سول اسپتال کراچی کا نام ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے منسوب کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جبکہ پشاورکے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے لپروسی یونٹ کا نام بھی ڈاکٹر رتھ فاؤکے نام سے منسوب کیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ پاکستان میں 57 سال سے جذام (کوڑ) کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے کام کر رہی تھیں، ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پاکستان میں157 جذام کے مراکز قائم کیے جہاں جذام کے مریضوں کو بلا معاوضہ آج بھی علاج و معالجے کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، دریں اثنا پاکستان جذام کے57 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں، ہر سال 3 سو سے زائد نئے مریض رپورٹ ہوتے ہیں جن کا میری ایڈیلیڈ لپروسی اسپتال میں علاج کیا جاتا ہے۔

کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے روٹی بینک کا آغاز

 ’روٹی بینک‘کے ایک عہدیدار حارث علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’ اس بینک کے قیام کا مقصد سفید پوش لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ دسترخوان لگتے ہیں جہاں راہ گیر وں کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے لیکن کچھ ’وائٹ کالرز ‘سڑک کنارے بیٹھ کر کھانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ کسی جاننے والے سے دیکھ لیا تو کیا ہو گا. یہ ’روٹی بینک انہی وائٹ کالرز یا سفید پوش لوگوں کی مدد کے لئے کھولا گیا ہے۔ ‘‘

حارث نے وی او اے کے ایک سوال پر بتایا ’ کوئی بھی وائٹ کالر یا ضرورت مند شخص اپنا اور اپنی اہلیہ کا شناختی کارڈ اور بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی ہمارے پاس جمع کرا کے دونوں وقت کا کھانا اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔ ہر فیملی کی فائل ہم الگ رکھتے ہیں اور پوری راز داری برتے ہیں ۔ روٹی بینک کراچی کی ایک رفاعی تنظیم سیلانی ٹرسٹ نے شروع کیا ہے. ٹرسٹ کے منیجر زوہیب نے بتایا کہ ٹرسٹ نے بڑے پیمانے پر ایک کچن بنا رکھا ہے جہاں دونوں وقت کھانا بنتا اور باقاعدہ کمرشل انداز میں پیک ہوتا ہے۔ اس کے بعد اسے ہر دوپہر اور شام کو’ روٹی بینک ‘بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے ضرورت مند اسے لے جاتے ہیں یا پھر گھروں پر ارسال کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے وی او اے کو بتایا کہ ایک دن میں تقریباً گیارہ سو افراد کا کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تمام خرچ لوگوں کی جانب سے ملنے والے چندے اور امدادی رقم سے پورا ہوتا ہے۔ بےشمار لوگ فی کس کے حساب سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رقم دے جاتے ہیں۔ ایک فرد کے کھانے کے 50 روپے لیے جاتے ہیں اس لحاظ سے کوئی دس تو کوئی پندرہ اور بعض لوگ اس سے بھی کہیں زیادہ افراد کے کھانے کے لئے نقد رقم دے جاتے ہیں۔ کراچی میں ضرورت مندوں کو مفت کھانا کھلانے کے لئے ایک دو نہیں متعدد رفاعی تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ سرجانی ٹاؤن میں پروین نامی ایک خاتون صرف تین روپے میں ایک وقت کا کھانا کھلاتی ہیں اور برسوں سے ان کا یہی معمول ہے۔

چھیپا نامی مشہور فلاحی ٹرسٹ بھی اپنے طور پر یہ انسانی خدمت انجام دے رہا ہے۔ شہر کے ہر حصے اور علاقے میں مختلف چوراہوں پر دوپہر کا سورج چڑھنے اور رات کا اندھیرا چھانے سے ذرا پہلے ’چھیپا دسترخوان ‘سج جاتے ہیں۔ ان دسترخوانوں پر دال روٹی اور سبزی ہی نہیں گائے اور بکرے کے گوشت کا سالن ملنا بھی معمول کی بات ہے۔ بے شمار لوگ صدقوں کی غرض سے بکرے ذبح کراتے اور چھیپا ٹرسٹ کو دے جاتے ہیں۔ پورے ملک میں مشہور ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی’ بحریہ‘ بھی اس خدمت پر مامور ہے ۔ ’ بحریہ دسترخوان‘ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں آنے والوں کو سر راہ بیٹھنا نہیں پڑتا بلکہ’ بحریہ دسترخوان‘ کو دیکھ کر کسی بڑے ہوٹل کا گمان ہوتا ہے۔ نہایت صاف ستھرا ماحول، بہترین کھانے، ائیرکنڈیشن ماحول، باوردی ملازم، مہنگی کٹلری اور قیمتی برتن۔

رفاعی تنظیم کے ایک کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی او اے کو بتایا کہ’ بے شک بھوکے کو روٹی کھلانا بہت بڑی نیکی ہے لیکن کہیں ایسا تو نہیں اس کوشش میں ہم معاشرے کے افراد کو کھانے کی مفت سہولتیں دے کر انہیں ان کی ذمے داریوں سے راہ فرار کا موقع دے رہے ہوں؟ ‘
کارکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح نوجوانوں میں محنت کرنے کا جذبہ کم ہو جائے گا، خاص طور سے بچے ۔۔کم عمری سے ہی ان کے عادی ہوجائیں گے، ان میں اپنا مستقبل بنانے، حالات کو بدلنے اور اپنے لئے باعزت روزگار کے مواقع تلاش کرنے کا جذبہ ہی ختم ہو جائے گا۔ وہ شروع ہی سے دوسروں کے کندھوں کے عادی ہوجائیں گے ۔‘‘
وی او اے کے نمائندے نے اس پر ایک اور فلاحی تنظیم عالمگیر ویلفیئرٹرسٹ کے منیجر شکیل دہلوی سے گفتگو کی تو ان کا موقف تھا کہ’ انسان کا پیٹ خالی ہو تو جرائم کی راہ نکلتی ہے ۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے انسان کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ بے روزگاری بہت بڑا عذاب ہے، بچے بھوک سے بلک رہے ہوں تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔ اگر مفت د سترخوان سے معاشرے کے لوگوں کی خود انحصاری کی عادت ختم ہونے کا خدشہ ہے تو بہت سے سنگین مسائل بھی تو حل ہورہے ہیں۔ ‘
پاکستان کو غذائی قلت کا سامنا
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسر چ انسٹی ٹیوٹ، واشنگٹن کی جاری کردہ’ گلوبل ہنگرانڈیکس‘یعنی جی ایچ آئی‘2017کے مطابق پاکستان کو غذائی قلت کی شکل میں سنجیدہ خطرے کا سامنا ہے اور آنے والے برسوں میں صورت حال سنگین ہو سکتی ہے۔ غذائی کمی اور بھوک کا شکار 119 ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 106 ہے جبکہ انڈکس میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی شرح یا اسکور اسے ’خطرناک ‘کیٹگری کی جانب لے جا رہا ہے۔
 

سولہ سالہ پاکستانی طالب علم نے نیوٹن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ان کی عمر محض 17 برس ہے مگر اپنے سائنسی تحقیقاتی مضمون سے انھوں نے دورِ حاضر کے عالمِ طبیعات کو نہ صرف حیران کیا بلکہ تحقیق کے لیے ایک نیا زاویہ فراہم بھی کیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہائشی محمد شہیر نیازی کی برقی چھتوں یعنی ‘الیکٹرک ہنی کوم’ پر کی گئی تحقیق پر مبنی مضمون گذشتہ ماہ رائل سوسائٹی اوپن سائنس جنرل نے شائع کیا ہے۔ یہ جریدہ دنیا بھر سے سائنس، ریاضی اور انجینیئرنگ کے میدان میں ہونے والی تحقیقات شائع کرتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اے لیول کے طالبِ علم شہیر نیازی نے فخر سے بتایا کہ کم عمری میں سائنسی تحقیق شائع کرنے کے اعتبار سے انھوں نے ماضی کے مشہور سائنسدان اور ماہرِ طبیعیات آئزک نیوٹن کو پیچھے چھوڑ دیا۔

‘نیوٹن کا پہلا تحقیقاتی مضمون بھی اسی رسالے میں شائع ہوا تھا، اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔ جب میرا مضمون گزشتہ ماہ شائع ہوا تو تب میں 16 برس کا تھا۔’ شہیر نے گزشتہ ستمبر کی 25 تاریخ کو 17ویں سالگرہ منائی۔ ماہرِ طبیعیات برقی چھتے کے رحجان سے کئی دہائیوں سے واقف ہیں۔ تاہم یہ برقی چھتہ ہوتا کیا ہے اور شہیر کی تحقیق نے ایسے کون سے پہلو عیاں کیے ہیں جس پر دنیا کہ سائنسدان ان کے معترف ٹھہرے؟ گھنے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ناک پر چشمہ بٹھائے دبلی پتلی قدوقامت والا نوجوان سائنس دان بخوبی جانتا ہے کہ اس سے یہ سوال ضرور کیا جائے گا۔ ان کے گھر میں داخل ہوں تو لاؤنج ہی میں ایک میز پر ڈبوں میں برقی تاروں اور سرکٹس کا ڈھیر لگا ملتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر وہ تجربے کرتے ہیں۔

انتہائی تحمل کے ساتھ، ٹھہرے ہوئے لہجے میں شہیر برقی چھتوں کے تصور کی وضاحت کرتے ہیں۔ ‘سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز کو توازن چاہیے۔ برقی قممے اسی رجحان کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ ان کی شش پہلو شکل کائنات میں سب سے متوازن ساخت ہے۔’ سائنسی تجربے میں دو الیکٹروڈز ہوتے ہیں، ایک سوئی اور دوسری آہنی پلیٹ۔ اس پلیٹ پر تیل ڈال دیا جاتا ہے۔ تیل میں سے بجلی نہیں گزر سکتی۔ ایک الیکٹروڈ یعنی سوئی سے جب ہائی وولٹیج گزرتی ہے تو وہ ایک چھوٹے پیمانے پر ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسے آسمانی بجلی گرتی ہے۔

جب برق پاروں کا دباؤ تیل پر زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہ انھیں راستہ دے دیتا ہے اور وہ دوسرے الیکٹروڈ سے جا ملتے ہیں۔ تاہم تیل نہیں چاہتا کہ اس کی شکل بگڑے اس لیے جب وہ توازن دوبارہ حاصل کرتا ہے جس کے نتیجے میں شہد کی مکھیوں کے چھتے کی شکل کے ڈھانچے بنتے ہیں۔ شہیر کے مطابق کائنات میں توازن کے تصور کے اس مخصوص رجحان پر تحقیق ہوئی ضرور تھی مگر زیادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی والدہ نے سنہ 2016 میں ان کے لیے روس میں ہونے والے بین الاقوامی نوجوان ماہرِ طبیعیات کے ٹورنامنٹ، جسے علمِ طبیعات کا ورلڈ کپ بھی کہا جاتا ہے، میں مقابلہ کرنے کا موقع تلاش کیا تو وہاں انھیں یہی اسی سائنسی مسئلے پر کام کرنے کو کہا گیا۔

شہیر کی تحقیق جس نئے پہلو کو سامنے لائی وہ تھا تیل کی سطح پر حرارت کا فرق۔ شہیر نے اس عمل کی تصویر کشی بھی کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس وقت انھیں ویسا ہی احساس ہوا جیسا انہیں بچپن میں پہلی دفعہ گھر کی چھت پر کیے گئے کیمیکل تجربے کی کامیابی پر ہوا تھا۔ ‘مجھے معلوم تھا کہ ایسا پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ میں نے اس حوالے سے ماضی میں کی جانے والی تحقیقات پر مضامین پڑھ رکھے تھے۔’ روس سے واپسی پر انھوں نے اس تحقیق کو دنیا کہ کسی اچھے رسالے میں شائع کرنے کی ٹھانی جس کے لیے انھیں مزید ایک سال تحقیق کرنی پڑی۔

اس دوران انھوں نے انٹرنیٹ کی مدد حاصل کی اور تجربوں کے لیے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمینٹ اینڈ سائنسز کی لیبارٹری استعمال کرتے رہے۔ شہیر کو علم اور تحقیق سے دوستی کا ماحول گھر ہی سے ملا۔ ان کے والد اور دادا کی دلچسپی سائنس اور خصوصاٌ علمِ طبیعیات میں تھی۔ 11 برس کی عمر سے وہ انٹرنیٹ پر موجود مختلف موضوعات پر باقاعدہ کورس کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک مشہور آن لائن پورٹل ‘کورسیرا’ پر وہ اب تک 25 کے قریب کورس کر چکے ہیں۔
‘میں سکول میں پڑھائی جانے والی چیزوں سے جب بیزار ہو جاتا ہوں تو آن لائن کورسز کا رخ کرتا ہوں۔ اس طرح آپ اچھی یونیورسٹیوں سے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔’

ہر سائنسدان کی طرح شہیر کے ذہن میں تجسس کی رو ہر وقت موجود رہتی ہے۔ تاہم ساتھ ہی وہ ٹھہراؤ کے بھی متلاشی رہتے ہیں۔ ان کی والدہ کہتی ہیں شہیر موسیقی سے بھی دلچسپی ہے۔ گھر میں ان کا ایک عدد پیانو موجود ہے جسے بجانا بھی انہوں نے انٹرنیٹ سے سیکھا ہے۔ وہ ایک اچھے مصور بھی ہیں اور خاکے کافی اچھے بنا لیتے ہیں۔ سائنس سے دلچسپی کی وجہ سے ان کے گزر اوقات کے لیے کھلونوں میں بھی دوربین یا دور درشک جیسی چیزیں شامل ہیں۔
شہیر کہتے ہیں کہ برقی چھتوں کے چمل سے حاصل ہونے والے علم کا استعمال بائیو میڈیسن، پرنٹنگ اور انجینیئرنگ میں ہوتا ہے۔ ‘اس طریقے سے ہم برقی رو یا تیل کے ذریعے دوا کی ترسیل کر سکتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے تیل کے ساتھ جوڑ توڑ کی جا سکتی ہے۔’

مستقبل میں شہیر طبیعات کے حوالے سے علم کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دنیا کی کسی اچھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اس شعبے میں تحقیق کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں اس قدر پذیرائی ملے گی۔ تاہم اس بات پر وہ خوش ہیں کہ ان کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے۔

عمر دراز ننگیانہ
بی بی سی اردو، لاہور
 

گوگل کا صادقین کو زبر دست خراج تحسین

گوگل نے پاکستان کے نامور مصور صادقین کو ان کے یوم پیدائش پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پاکستان کے معروف مصور، خطاط اور کیلی گرافر سید صادقین احمد 30 جون 1930 کو بھارت کے شہر امروہا میں پیدا ہوئے اور آپ کا تعلق بھی ایک خطاط فیملی سے تھا۔ آپ نے 1940 کے عشرے میں ترقی پسند رائٹرز اینڈ آرٹسٹ مومنٹ میں شمولیت اختیار کی لیکن آپ کے اصل ٹیلنٹ کو حسین شہید سہروردی نے متعارف کروایا۔ صادقین نے اپنے فن میں نکھار پیدا کرنے کے لئے کچھ وقت پیرس میں بھی گزارا اور آپ کو جنوبی ایشیا میں ایک آئیکونک مصور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

گوگل نے پاکستان کے اس عظیم مصور کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنا ڈوڈل تبدیل کیا ہے۔ واضح رہے کہ صادقین کو ان کی فنی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز، تمغہ حسن کارکردگی اور ستازہ امتیاز جیسے بڑے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ آپ کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آپ کے نام سے کراچی میں صادقین انسٹیٹیوٹ بھی قائم ہے۔

جب راشد منہاس نے دشمن کی سازش ناکام بنائی

راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور وہ نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر ہیں۔ راشد منہاس نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سترہ سال کی عمر میں پاک فضائیہ کی رسالپور اکیڈمی میں بطور فلائنگ کیڈٹ داخلہ لیا۔ 1971 میں راشد مہناس نے اکیڈمی سے جنرل ڈیوٹی پائلٹ کی حیثیت سے گریجوٹ کیا اور انہیں کراچی میں پی اے ایف بیس مسرور پر پوسٹ کیا گیا تاکہ لڑاکا پائلٹ کی تربیت حاصل کر سکیں۔

20اگست 1971 کو زیرتربیت پائلٹ کی حیثیت سے راشد منہاس ٹی 33 جیٹ ٹرینر

کو اڑانے والے تھے جب بنگالی پائلٹ انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ دوران پرواز مطیع الرحمان نے راشد منہاس کو سر پرضرب لگا کر بے ہوش کیا اور پرواز کا کنٹرول سنبھال کر طیارے کا رخ ہندوستان کی جانب موڑ دیا۔ اس وقت جب ہندوستان کا فاصلہ 40 میل رہ گیا تھا، راشد منہاس کو ہوش آیا اور انہوں نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی، اس میں ناکامی کے بعد نوجوان پائلٹ کے پاس اپنے طیارے کو ہندوستان لے جانے سے روکنے کا ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور انہوں نے ہندوستانی سرحد سے محض 32 میل دور طیارے کو گرا کر اپنی جان پاکستان کے لیے قربان کر دی۔

راشد منہاس کو 21 اگست 1971 کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور ان نوجوان پائلٹ کے پورے خاندان سمیت پاک فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔ راشد منہاس کو بعد از وفات پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز نشان حیدر دینے کا اعلان اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے کیا اور اس طرح وہ اس اعزاز کو پانے والے سے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے اب تک واحد رکن بن گئے۔ اپنے بیٹے کی شہادت پر راشد منہاس کے والد عبدالماجد منہاس نے یہ کہا ” اگرچہ بیٹے کی وفات کا دکھ کبھی ختم نہ ہونے والا ہے مگر مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اس نے ایک نیک مقصد اور ملک و قوم کے وقار کے لیے اپنی جان قربان کی”۔

اٹھائیس اگست 1971 کو دیئے جانے والے ایک انٹرویو میں عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کا بیٹا شروع سے ہی ایسے کرئیر میں دلچسپی رکھتا تھا جس کے ذریعے وہ ملک و قوم کی خدمت اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس زمانہ طالبعلمی میں جنگوں پر لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھنا پسند کرتے تھے اور ان کے اہم اقوال اپنی ڈائری پر نقل کر لیتے تھے۔ راشد منہاس کی ڈائری پر درج اقوال میں سے ایک میں کہا گیا تھا ” ایک شخص کے لیے سب سے بڑا اعزاز اپنے ملک کے لیے قربان کردینا اور قوم کی امیدوں پر پورا اترنا ہے”۔

راشد منہاس کی تعلیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے راولپنڈی کے میری کیمبرج اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور سنیئر کیمبرج کراچی سے کیا۔ راشد منہاس نے پاک فضائیہ 1968 میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے اور پی اے ایف اکیڈمی سے سائنس کے مضمون میں گریجویشن ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ عبدالماجد منہاس نے کہا کہ ان کی بڑا بیٹا ٹیکنیکل مزاج رکھتا تھا اوربارہ سال کی عمر میں ڈرائیونگ سیکھ چکا تھا۔ اس کی زاتی لائبریری میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ الیکٹرونکس اور علم فلکیات کی کتابیں بھی شامل تھیں۔ اس کے مشاغل میں پڑھنا، فوٹوگرافی، ہاکی اور بلیئرڈ شامل تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ راشد منہاس ابتدائی عمر سے مزاجاً ایک آئیڈیلسٹ تھے جو اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راشد منہاس اپنے بہنوئی میجر ناصر احمد خان سے بہت زیادہ متاثر تھے جنھیں ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا ” میرا بیٹا ہر کام کو مکمل کرنے والا، متعدل مزاج لڑکا تھا اور اسے پیسہ کمانے سے دلچسپی نہیں تھی”۔ عبدالماجد منہاس نے کہا کہ راشد منہاس اپنی پیدائش سے ہی پاک فضائیہ سے جڑا ہوا تھا کیونکہ اس کی پیدائش کراچی کے ڈرگ روڈ پر واقع پی اے ایف ہسپتال میں ہوئی ” میرے بیٹے نے اتنی بڑی قربانی دے کر میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا ” ہمارے پاس ایسے فوجی ہیں جو اپنی زندگیاں قوم پر نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں”۔
 

تیرہ سالہ پاکستانی احسن طاہر کا نام ہیکنگ کے ہال آف فیم میں شامل

پاکستان کے 13 سالہ شہری احسن طاہر کا نام مائیکروسوفٹ اور گوگل کی جانب سے ہیکنگ کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ کراچی کے رہائشی احسن طاہر نویں جماعت کے طالبعلم اور ایک ایتھیکل ہیکر ہیں۔ ایک سال قبل اُن کی اپنی ہی بنائی ہوئی ویب سائٹ ہیک ہو گئی جسے واپس حاصل کرنے کے لیے انھوں نے کامیاب کوشش کی۔ یہیں سے ان کے سفر کا آغاز ہوا کہ کسی ویب سائٹ کو کس طرح محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ احسن طاہر کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی انفراسٹرکچر جیسا کہ حکومتی ویب سائٹس اور پورٹلز سمیت تمام نئے برنس کو بھی محفوظ بنانا ممکن ہے۔‘ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ’ہیکر ون اینڈ بگ کراؤڈ‘ کمپنی نے ان صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں امریکہ آنے کی دعوت دی۔

احسن طاہر نے 18 مارچ سے یکم اپریل تک اپنے دورے میں کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ملاقات بھی کی، جس میں انھوں نے کچھ بڑی انٹرنیشنل ٹیکنالوجی کمپنیز کو اُن کے ڈیٹا بیس میں سکیورٹی نقائص سے آگاہ کیا۔ اس تجربے سے ان کا رجحان ’ایتھیکل ہیکنگ‘ کی جانب مزید بڑھ گیا۔ احسن کا خیال ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کمپنیز کی ویب سائٹس، سماٹ فونز، سماٹ ٹی وی حتیٰ کہ کاریں ہیک کیے جانے کے خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے سائبر سکیورٹی کے میدان میں پاکستان کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ماہرین ’آئی او ٹی‘ ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دیں تو مسئلے کا حل ممکن ہے۔

پاکستان میں آئے دن ویب سائٹس ہیک ہونے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ اُن کا خاتمہ باؤنٹی پروگرامز کے تحت ممکن ہے۔ یہ پروگرامز ہیکنگ کو شفاف بناتے ہیں اور ایتیھکل ہیکرز قانون کے دائرے میں رہ کر کمپنیوں کے ڈیٹا بیس کی سکیورٹی کو لاحق خطرات یا اُن میں خامیاں تلاش کر کے اداروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر محمد مناف کا کہنا ہے کہ ’ایتیھکل ہیکنگ ایک آرٹ ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ احسن طاہر جیسے بچے جو اس کم عمری میں جس نہج پر سوچتے ہیں اور جس مقام پر ہیں یہ وہ اچیومنٹ ہے جو ہیکنگ کی دنیا میں ایک عام شخص اپنے 17 سالہ تجربے سے حاصل کرتا ہے۔‘ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی توجہ اس طرف دلانے کی ضرورت ہے کہ اداروں کے لیے صرف پروگرامنگ ہی نہیں سکیورٹی بھی توجہ طلب شعبہ ہے۔

صبا ناز
اسلام آباد
 

کاروان علم فائونڈیشن پر مہربانی کریں

زہرہ نواز کے والد آرمی میں سپاہی تھے‘وہ کراچی میں تعینات تھے‘ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے کراچی میں گھر بنا لیا‘ زہرہ کا ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹی بہن تھی‘ اللہ نے تینوں کو ذہانت اور قابلیت سے نواز رکھا تھا‘حالات معمول پر چل رہے تھے کہ محمد نواز کے مزاج میں تبدیلیاں آنے لگیں‘ انھوں نے ایک دن گاؤں واپس جانے کا اعلان کر دیا‘ بیوی نے بچوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا لیکن بے فائدہ‘خوشحال گھرانے میں لڑائی جھگڑے معمول بن گئے‘ بات مار کٹائی تک پہنچ گئی‘ زہرہ نے ان دنوں ایف ایس سی پارٹ ون کے امتحانات دینے تھے لیکن اس کے والد نے اسے کمرے میں بند کر دیا‘ بھائی نے مداخلت کر کے بہن کے پیپر دلوائے جس پر باپ بیٹے کا بھی دشمن ہو گیا۔

بالآخر باپ گھر بیچ کر آبائی گاؤں چلا گیا‘ وہاں اس نے دوسری شادی کر لی اور زہرہ کی والدہ کو طلاق دے دی‘ والدہ بچوں کو لے کرلاہور آ گئی‘ اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا‘ بھائی نے ایف اے کے بعد تعلیم چھوڑ دی اور نوکری شروع کر دی‘ خود زہرہ نے ٹیوشن پڑھانا شروع کردی لیکن وہ کوشش کے باوجود اتنی رقم جمع نہ کر سکی کہ ایف ایس سی پارٹ ٹو میں داخلہ لے سکتی‘ سال اول میں اس نے بہت اچھے نمبرحاصل کیے تھے‘ وہ صبح چھ بجے سے رات نو بجے تک مختلف کلاسز کے بچوں کو پڑھاتی تھی‘ایک سال ضایع ہونے کے بعد اس نے سیکنڈ ائیر میں داخلہ لیا‘معاشی دباؤ اور ٹیوشن پڑھانے کی وجہ سے اس کے سیکنڈ ائیر میں خاطر خواہ نمبر نہ آ سکے جس کی وجہ سے اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ اس نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا اور یوں اس کا مزید ایک سال ضایع ہو گیا۔

اگلے سال اس نے دوبارہ انٹری ٹیسٹ دیا اور اس کا نام آرمی میڈیکل کالج میںویٹنگ لسٹ میں آ گیا‘ زہرہ کو آرمی میڈیکل کالج سے ایڈمیشن کال آئی تو فیملی کے پاس راولپنڈی جانے کے لیے اخراجات بھی نہیں تھے‘ ڈاکٹر شاہد صدیقی (موجودہ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی) کی بیگم کے زہرہ کی والدہ سے بہنوں جیسے تعلقات تھے‘ انھوں نے زہرہ کے ابتدائی اخراجات اورفیس ادا کر دی‘ آرمی میڈیکل کالج میں کلاسز جاری تھیں لیکن زہرہ کو اس بات کی فکر رہتی تھی کہ آیندہ کے تعلیمی اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘اس نے کئی فلاحی اداروں اور مخیر حضرات سے رابطہ کیا لیکن کہیں سے مثبت جواب نہ ملا‘ اس نے آخر میں کاروان علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا اور اسے اسکالرشپ ملنا شروع ہو گیا‘ زہرہ نے ڈینٹل ڈاکٹر کی تعلیم مکمل کی اور یہ آج نہ صرف اپنے خاندان کو سپورٹ کر رہی ہے بلکہ یہ اسپیشلائزیشن کے اخراجات بھی خود ادا کر رہی ہے۔

دوسری کہانی محمد افضل اور ان کی بیگم کشور سلطانہ کی ہے‘ یہ دونوں گوجرانوالہ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ان دونوں نے عزم و ہمت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں سب سے پہلے اولاد نرینہ دی‘ بیٹے کا نام عمیر افضل رکھا گیا‘عمیر پیدائشی نابینا تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں بیٹی عمارہ افضل پیدا ہوئی‘وہ بھی پیدائشی نابینا تھی‘ غریب میاں بیوی دوسری اولاد بھی نابینا ہونے پر آبدیدہ ہو گئے لیکن لبوں پر شکوہ نہ لائے‘ اس کے بعد اللہ تعالی نے انھیں دوسرے بیٹے زبیر سے نوازا لیکن زبیر کو بھی قدرت نے بینائی سے محروم رکھا‘ ہر والدین کی طرح محمد افضل اورکشور سلطانہ کی خواہش بھی تندرست اولاد کی تھی لیکن قدرت کو یہ منظور نہیں تھا‘ اس کے بعد ان کے ہاں آنسہ افضل کی پیدائش ہوئی‘ یہ بچی ریڑھ کی ہڈی کے ٹیڑھے پن کے ساتھ دنیا میں آئی‘محمد افضل اور اس کی بیوی کے پاس دو آپشن تھے۔

یہ اپنے بچوں کو فقیر بنا دیتے یا پھر انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتے‘ میاں بیوی دوسرے آپشن پر چلے گئے‘ انھوں نے معذور بچوں کو علم سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا‘محمد افضل محنت مزدوری کر کے گھر کا چولہا چلاتا رہا جب کہ کشور سلطانہ نے خود کو چار معذور بچوں کی پرورش اور تعلیم کے لیے وقف کر دیا‘ زندگی کی گاڑی آگے بڑھتی گئی‘جب عمیر افضل نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو میاں بیوی نے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے لاہور شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا‘ محمد افضل نے لاہور میں کریانے کی دکان کھول لی‘ دکان کی آمدن سے بمشکل گھر کا چولہا جلتا تھا ‘بچوں کی تعلیم‘ آمدورفت اور علاج معالجے کے لیے سخت مالی مشکلات نے حوصلے آزمانا شروع کر دیے۔

ایک دن کشور سلطانہ نے نماز کے بعد بھیگی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی‘اسی شام انھیں ایک جاننے والے کی معرفت کاروان علم فاؤنڈیشن کے بارے میں علم ہوا‘ کشورسلطانہ درخواست لے کر کاروان علم فاؤنڈیشن کے دفتر پہنچی‘ فاؤنڈیشن نے چاروں بچوں کی ذمے داری اٹھا لی‘ کاروان علم فاؤنڈیشن کے تعاون سے عمیر افضل نے گریجوایشن‘ عمارہ افضل نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ایم فل‘ آنسہ افضل نے کنیئرڈ کالج سے بی اے آنرز اور زبیرافضل نے گریجوایشن تک تعلیم حاصل کی‘ آج یہ چاروں بچے معذور ہونے کے باوجود معاشرے کے فعال شہری ہیں۔

کاروان علم فاؤنڈیشن پندرہ سال سے طلبہ کو وظائف جاری کررہی ہے‘ فاؤنڈیشن کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیل چکا ہے‘ آج پاکستان کی کوئی یونیورسٹی‘ میڈیکل کالج‘ انجینئرنگ یونیورسٹی یا کالج ایسا نہیں جہاں فاؤنڈیشن کے تعاون سے طلبہ تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف جاری کرنے کے حوالے سے بہت سے قابل ستائش اقدامات کیے‘ ادارے کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لیے سارا سال کھلے رہتے ہیں‘ طلبہ کو تعلیم کے دوران جس مرحلے پر بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن ان کی مدد کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن نے وظائف کا سلسلہ اتنا باوقار بنا رکھا ہے کہ کسی مرحلے پر طالب علموں کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی‘ ہر طالب علم کی درخواست کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے اور ہر طالب علم کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وظائف جاری کیے جاتے ہیں۔

فاؤنڈیشن درخواست گزار طلبہ کو سالانہ فیس‘ سمیسٹر فیس‘ کرایہ ہاسٹل‘ ماہوار خرچ‘ طعام‘ کتب اور کرایہ آمدورفت تک ادا کرتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن زیر کفالت طلبہ کی بیوہ ماؤں اور ضعیف والدین کو گھریلو اخراجات کے لیے بھی وظائف دیتی ہے تاکہ طلبہ مکمل اطمینان اور یکسوئی سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن جب کسی کو وظیفہ جاری کرتی ہے تو یہ اس کی سرپرست بن جاتی ہے‘ یہ پورا سال طالب علم کی کارکردگی کا جائزہ لیتی رہتی ہے‘ یہ ہر ضرورت کے لیے مدد فراہم کرنے کے لیے دستیاب رہتی ہے‘ کاروان علم فاؤنڈیشن غریب طبقہ کے لوگوں کو ضروریات کے لیے زکوٰۃ اور عطیات کی رقم فراہم کرنے کے بجائے اس رقم سے ان کے بچوں کو علم و ہنر سے آراستہ کرتی ہے تا کہ یہ مستقل طور پر خاندان کا سہارا بن سکیں‘ کاروان علم فاؤنڈیشن یتیم اور خصوصی طلبہ کو ترجیہی بنیادوں پر وظائف جاری کرتی ہے۔

یہ ادارہ اب تک 5524 طلبہ کو ساڑھے بارہ کروڑ روپے کے وظائف دے چکا ہے‘ وظائف حاصل کرنے والے طلباء میں 937 یتیم طلبہ اور 333 خصوصی طلبہ (نابینا‘ پولیو زدہ اور حادثات کی وجہ سے معذور) شامل ہیں‘ مالی اعانت حاصل کرنے والوں میں ایم بی بی ایس (ڈاکٹر) کے1314‘ بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے 51‘ فزیوتھراپی (ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ) کے 45‘ ڈی وی ایم (ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز) کے121‘ ڈی فارمیسی (ڈاکٹر آف فارمیسی) کے99‘ ایم ایس سی کے 135، ایم اے کے133‘ ایم کام کے 40‘ ایم بی اے کے 58‘ ایم پی اے کے 05‘ ایم فل کے 19‘ بی ایس سی انجینئرنگ کے1398‘ بی کام آنرز کے159‘ بی ایس آنرز کے 701‘ بی بی اے کے 61‘ اے سی سی اے کے 18‘ سی اے کے 04‘ بی ایس ایڈ‘ بی ایڈ کے 41‘ ایل ایل بی کے 14‘بی اے آنرز کے45‘ بی اے کے73‘ سی ایس ایس کا 01‘ بی ٹیک کے 23‘ ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے 161‘ ایف ایس سی کے 510‘ ایف اے کے 90‘ آئی کام کے 52‘ ڈی کام کے05‘ آئی سی ایس کے17 میٹرک اور انڈر میٹرک کے 131 طلبا و طالبات شامل ہیں۔

میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر اپنی زکوٰۃ‘ صدقہ اور فطرہ کاروان علم فاؤنڈیشن کو عطیہ کریں‘ آپ کی یہ عنایت بے شمار گھروں میں علم کے چراغ جلا دے گی‘ آپ اپنے عطیات میزان بینک کے اکاؤنٹ نمبر0240-0100882859 میں جمع کروا سکتے ہیں۔ آپ67 کشمیر بلاک ‘علامہ اقبال ٹاؤن لاہورکے پتے اور ای میل info@kif.com.pk پرفاؤنڈیشن سے رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے موبائل نمبر 0321-8461122 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

جاوید چوہدری

سیلانی ٹرسٹ…دکھی دلوں کا سہارا

ہمارے حکمران ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اگر ان سے یہ کہا جائے کہ حکومتوں
کی طرز حکمرانی بہتر نہیں ہے ۔ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر نظر دوڑانے یا تنقید کے مثبت پہلو تلاش کرنے کی بجائے ناک منہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ جس انداز میں حکومت چلا رہے ہیں ، اس کے نتیجے میں مخلوق مصائب کا شکار ہے۔ حکومتی عہدیدار کیوں نہیں اپنی اصلاح کے لئے ان غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں جو بیرون ملک سے کسی مالی تعاون کی بجائے اسی ملک کے عام و خاص لوگوں کے چندوں سے اپنی تنظیم چلاتے ہیں۔ میرے لئے تو حیرانی کی بات تھی جب ایک سرکاری عہدیدار ایک غیر سرکاری تنظیم سے یہ کہہ رہے ہوں کہ حیدرآباد میں ایک کولڈ سٹوریج مردہ خانے کی ضرورت ہے جہاں لاشوں کو ان کی شناخت ہونے تک رکھا جا سکے تا کہ لوگ لاوارث قرار دے کر دفنا نہیں دئے جائیں۔

یہ غیر سرکاری تنظیم یعنی این جی او سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ہے جس نے سالانہ سمپوزیم 2017ء حیدرآباد میں کیا۔ مہمان خصوصی حیدرآباد کے ایس ایس پی عرفان بلوچ تھے۔ سیلانی ، دکھی دلوں کا سہارا، کے سرپرست حضرت مولانا بشیر فاروقی قادری صاحب ، ٹرسٹ کے صدر ذکریا لاکھانی، ٹرسٹ کے چیئر مین افضل چامڑیا سمیت درجنوں ملازمین اور رضا کار موجود تھے۔ اس موقع کی مناسبت سے ان مخیر حضرات کو بھی مدعو کیا گیا تھا جن کی مالی سرپرستی کے نتیجے میں سیلانی ٹرسٹ کام کرتا ہے۔ مولانا بشیر صاحب بتا رہے تھے کہ سیلانی کا نام حضرت خواجہ محکم الدین سیلانی رحمت اللہ علیہ کے اسم مبارک کی نسبت سے رکھا گیا ہے اور 1999ء میں ایک کمرے اور تین افراد کے ساتھ کام شروع کیا گیا تھا۔ سیلانی کراچی اور حیدرآباد میں وہ واحد ادارہ ہے جو سینکڑوں افراد کو سلیقہ کے ساتھ صاف ستھرے طریقے سے کھانا کھلاتا ہے۔ سیلانی والے کہتے ہیں کہ روزانہ 63 ہزار لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کھانے کی وجہ سے سفید پوش لوگ اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اس بلا معاوضہ کھانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کی رقم نہیں لگائی جاتی ہے۔

سیلانی کا کام قابل تعریف ضرور ہے لیکن سیلانی کے نگرانوں نے جس انداز میں کام پھیلا لیا ہے وہ کم از کم ہر اس شخص کے لئے باعث تشویش ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بڑے حجم کی چیز یا اونچی عمارت کو ہر وقت خطرہ ہی رہتا ہے۔ محدود وسائل کے حامل لوگوں کو کام پھیلانے کی بجائے محدود کام کرنا اور آمدنی بہتر کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں شاہکار کتابوں کے نام سے سید قاسم محمود صاحب نے سستی کتابیں شائع کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اس زمانے میں تین روپے کی وہ کتاب دستیاب ہوتی تھی جو محدود وسائل والے لوگ خرید نہیں پاتے تھے۔ پھر انہوں نے اضافہ کرنا شروع کیا، نئے نئے کتابی سلسلے شروع کئے، نتیجہ یہ نکلا کہ کام تو پھیل گیا، اخراجات بڑھ گئے اور بڑے بڑے نام والے پبلشر بھی ان کے در پے ہو گئے۔ 

ان پبلشروں نے انہیں میدان سے بھگانے کے لئے خود بھی سستی کتابوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ قاسم محمود صاحب کو کام پھیلانے پر لگا دیا تا کہ کام سمٹ نہ سکے اور ان کا شاہ کار ادارہ سمٹ جائے۔ جب شاہ کار سمٹا تو بڑے پبلشروں نے بھی اپنی سستی کتابوں کو سمیٹ لیا۔ سمپوزیم کے انعقاد پر سیلانی والوں نے جس طرح پیسہ بہایا وہ قابل تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی بڑے کار پوریٹ ادارے کی کوئی تقریب ہے۔ چندے مانگ کر پیسے جمع کرنے والوں کو اپنے اخراجات پر نظر اور گرفت تو رکھنا چاہئے۔ ہمارے دین میں اسراف سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور سادگی اپنانے کا درس بھی جگہ جگہ ملتا ہے۔
سیلانی نے اپنا کام خود بڑھا لیا ہے۔ آج ان کا نعرہ ہے کہ ’’مہد سے لہد تک ‘‘ یعنی پیدائش سے موت تک وہ مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔ خوراک، صحت، تعلیم، کھانے پینے کی اشیاء کے سٹور ، سماجی بہبود، روزگار، مختلف شعبوں میں تربیت وغیرہ۔ حال ہی میں سیلانی نے آنکھوں کے علاج کے لئے گشتی دواخانہ کی ابتدا بھی کی ہے۔ تنگ گلیوں میں آتش فرو کرنے کے انتظام کے لئے موٹر سائیکلوں کا دستہ تیار کیا ہے۔ روزگار کے سلسلے میں بے روزگار لوگوں کو آسان قسطوں پر رکشہ، خواتین کو سلائی مشینیں وغیرہ فراہم کی جاتی ہیں۔ کھانا کھلانے کے علاوہ ایسے گھرانوں کی کفالت کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جہاں ضعیف العمر افراد ہوں اور کوئی کفیل نہ ہو، ماہانہ کفالت میں راشن کی فراہمی، گھروں کا کرایہ، بچوں کی تعلیم کے اخراجات، ضروریات کے بلوں کی ادائیگی شامل ہیں۔ غریب بچیوں کی شادی میں جہیز یا مہمانوں کے لئے طعام اور دیگر اخراجات مہیا کر کے بچیوں کو باعزت طور پر رخصت کرنے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ غرض سیلانی ضرورت مند لوگوں کی ضروری حاجات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
کراچی اور حیدرآباد میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سیلانی کے بنائے ہوئے ٹھکانوں پر کھانا کھاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو کھانے فراہم کرنے کا بندبست کیا جاتا ہے۔ سٹریچر اور پینے کے لئے پانی کا انتظام بھی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر سیلانی رضاکار لوگوں کو پینے کا ٹھنڈا پانی پلاتے ہیں۔ سیلانی والے دعوی کرتے ہیں کہ وہ یہ خدمات بلامعاوضہ انجام دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں بلامعاوضہ کوئی چیز نہیں ہوا کرتی ہے۔ مفت کی سواری اور دور لے جانے کا مطالبہ تو زندگی بھر جاری رہے گا۔ سیلانی کھانا کھلاتا ہے، بہترین کام کرتا ہے لیکن اسے ایک وقت کے کھانے کا کچھ معاوضہ مقرر کرنا چاہئے خواہ وہ پانچ روپے ہی کیوں نہ ہو۔ کھانا کھانے والا کہہ سکے کہ اس نے پیسے دیکر کھانا کھایا ہے۔ اس کی اپنی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی۔ مفت میں روٹی توڑنے کی عادت ڈالنا ، لوگوں کے ساتھ بھلائی نہیں ہے۔ لوگوں کو کچھ کرنے کی عادت ڈالنا چاہئے۔
سیلانی کے ادارے میں 1800 ملازمین کے علاوہ 2500 رضاکار ہیں جو 125 سے زائد برانچوں میں 63 شعبہ جات میں مخلوق کی خدمت پر مامور ہیں۔ 63 شعبوں کی نسبت آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہے۔ اتنے سارے شعبوں کا انتظام چلانا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو حکومتیں نہیں کر پاتی ہیں۔ ایدھی اور چھیپہ مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سیلانی کیوں کر محفوظ رہ سکے گا ؟ یہ سوچنا سیلانی والوں کا کام ہے کہ اپنے کام کے شعبوں کو محدود کریں اور ان محدود شعبوں میں ہی مہارت دکھائیں۔ انہیں تعلیم، تربیت، ہنر مندی کے کاموں پر توجہ دینا چاہئے۔ پاکستان میں جہاں تمام سرکاری ادارے وسائل رکھنے کے باوجود عوام الناس کی خدمت کرنے میں ناکام ہیں اور حکومت ہسپتال، تعلیمی ادارے، حد تو یہ ہے کہ پارک اور کھیل کے میدان بھی ’’گود ‘‘ دینے میں سبکی یا شرمندگی محسوس نہیں کرتی ہیں وہاں غیر سرکاری تنظیموں کو حکومتوں کا ہاتھ اس طرح نہیں بٹانا چاہئے جیسا سیلانی، ایدھی، چھیپہ، فلاح انسانیت یا دیگر تنظیمیں کرتی ہیں۔ حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آئین پاکستان میں دی گئی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقوں سے انجام دیں، شاہانہ طرز حکمرانی سے نجات حاصل کی جائے۔ نااہل، غیر ذمہ دار اور غیر مخلص لیکن حکومتوں میں شامل لوگوں کے پسندیدہ اور خوشامدی لوگوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی سے باز رہا جائے تو کچھ بات بنے گی۔ 
وگر نہ حکومت کے لوگوں سے ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی ہے تو حکومت سے دست بردار ہوجائیں۔ عوام کے ٹیکسوں یا بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی 
قرضوں پر حکومت کے لوگوں کو شاہانہ زندگی گزارنے کی اجازت کیوں دی جائے۔ اس پر بھی نخرے ہیں کہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں، بیرون ملک علاج کرانے کا خرچہ دیا جاتا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کی جب تنخواہیں ، مراعات اور سہولتیں بڑھائی جاتی ہیں تو دل جلتا ہے۔ کیا اس تماش گاہ میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، بڑے سرکاری عمل داروں اور اہل کاروں کو اندازہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ کیا ہوتی ہے، گرمی کا درجہ حرارت کیا ہوتا ہے، مضر صحت پانی پینے کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑک پر گاڑی کس طرح چلتی ہے؟ 
کیا اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی ذمہ داری صرف یہ رہ گئی ہے کہ ذرائع ابلاغ سے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کے بعد یہ خبر شائع کرادی جائے کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا ہے۔ کیا ان کی ذمہ داری واقعات کا صرف نوٹس لینا ہی رہ گیا ہے ؟ ہسپتالوں میں کولڈ سٹوریج مردہ خانے بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہے، کسی غیرسرکاری تنظیم کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔ جب غیر سرکاری تنظیمیں کوئی کام کرنے کی ابتدا کرتی ہیں تو حکومت دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس کا کام تو ہو رہا ہے اور غیر سرکاری تنظیموں کے لوگ بھی اپنے آپ کو حکمران کی نقل سمجھنے لگتے ہیں۔ غیر ملکی چندوں پر پلنے والی تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں کو تو ایسا ہی پایا جاتا ہے۔
علی حسن